زیب النساء

زيب النساء

15 فروری 1638 عیسوی · 10 شوال 1047 ھ† – 26 مئی 1702 عیسوی · 10 محرم 1114 ھ† †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

دلهي

زیب النساء (15 فروری 1638ء – 26 مئی 1702ء) مغل شہزادی تھیں، شہنشاہ اورنگزیب اور دلراس بانو بیگم کی سب سے بڑی اولاد، اور فارسی شاعرہ جو «مخفی» تخلص سے لکھتی تھیں۔ انھوں نے بچپن میں قرآن حفظ کیا، فارسی، عربی اور اردو پر عبور حاصل کیا، علما اور مترجمین کی سرپرستی کی اور ایک بڑی لائبریری بنائی۔ والد نے انھیں زندگی کے آخری بیس سال دہلی کے سلیم گڑھ قلعے میں قید رکھا، اور ان کا کلام وفات کے بعد «دیوانِ مخفی» میں جمع ہوا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
princess · شاعر · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی
إمبراطوريات البارود ہم عصر: اسد خان · أورنكزيب عالمكير · ملا جيوان · سبحان قلی خان · احمد منجم باشی

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    زیب النساء (15 فروری 1638ء – 26 مئی 1702ء) مغل شہزادی تھیں، شہنشاہ اورنگزیب اور ان کی اہلیہ دلراس بانو بیگم کی سب سے بڑی اولاد 1 2۔ وہ «مخفی» تخلص سے شعر کہتی تھیں، اور ان کا کلام وفات کے بعد «دیوانِ مخفی» میں جمع ہوا 1۔ مآخذ ان کے سنِ وفات میں مختلف ہیں — مضامین اور ویکی ڈیٹا 1702ء دیتے ہیں، جبکہ انگریزی مضمون میں مذکور دیگر مآخذ 1701ء دیتے ہیں — اور ریکارڈ دونوں روایتیں محفوظ رکھتا ہے 1 3۔

    تعلیم اور سرپرستی

    اورنگزیب نے ان کی تعلیم حفیظہ مریم کے سپرد کی، اور انھوں نے تین سال میں قرآن حفظ کر لیا اور سات سال کی عمر میں حافظہ بن گئیں؛ والد نے اس موقع پر دعوت، عام تعطیل اور سونے کے انعامات دیے 1 4۔ پھر انھوں نے فارسی شاعر اشرف مازندرانی سے فلسفہ، ریاضی، فلکیات اور ادب پڑھا، فارسی، عربی اور اردو پر عبور حاصل کیا اور خطاطی میں شہرت پائی 1 4۔ ان کی لائبریری اپنے زمانے کے ہر نجی ذخیرے سے بڑی تھی، اور انھوں نے علما کو اچھے مشاہروں پر رکھا کہ ان کے حکم سے تصانیف لکھیں اور مخطوطات نقل کریں 1۔ ان کی سرپرستی میں عالم صفی الدین اردبیلی نے قرآن کی ایک ضخیم عربی تفسیر کا فارسی ترجمہ کیا اور اسے ان کے نام پر «زیب التفاسیر» کہا 1 2۔ وہ بیواؤں اور یتیموں کی مدد کرتیں اور ہر سال اپنے خرچ پر حجاج کو مکہ و مدینہ بھیجتیں 1۔

    شاعری اور قید

    زیب النساء نے شادی نہیں کی، اگرچہ بچپن میں ان کی منگنی کزن سلیمان شکوہ سے ہوئی تھی اور کئی خواستگار آئے 1۔ فارسی شاعری کے ہندی مکتب اور حافظ کے اثر میں ان کا کلام عشقِ الٰہی کی صوفیانہ زبان سے لبریز ہے، اور ایک بعد کی روایت ان کی گرفتاری کو ان کی صوفیانہ ہمدردیوں سے جوڑتی ہے 1۔ مگر یہ رنگ شاعری اور میلان کا ہے؛ پڑھے گئے کسی ماخذ نے ان کے لیے بیعت، مریدی یا کسی سلسلے کی رکنیت ثابت نہیں کی، اسی بنیاد پر ان کا مسلک درج کیا گیا ہے 4۔ 1681ء میں باغی بھائی محمد اکبر سے ان کی خط کتابت پکڑی گئی، ان کی دولت اور وظیفہ ضبط ہوا، اور اورنگزیب نے انھیں دہلی کے سلیم گڑھ قلعے میں قید کر دیا 1۔ وہ بیس سال قید رہیں اور 26 مئی 1702ء کو وہیں وفات پا گئیں؛ 1724ء میں ان کے بکھرے اشعار «دیوانِ مخفی» میں جمع ہوئے، چار سو اکیس غزلیں اور چند رباعیاں 1 2۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    أورنكزيب عالمكير
    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    تتويج أورنكزيب بدلهي· جہاں آرا بیگم· روشن آرا بیگم· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)

    ماخذ

    1. Zeb-un-Nissa — English Wikipedia
    2. Zeb-un-Nissa — Arabic Wikipedia
    3. Zeb-un-Nissa — Wikidata Q169346
    4. Zeb-un-Nissa — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “زیب النساء”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/zeb-un-nissa/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    تتويج أورنكزيب بدلهي

    اپنے بھائیوں کے خلاف جانشینی کی جنگ کے بعد اورنگزیب نے 1659ء میں دہلی میں خود کو مغل بادشاہ قرار دیا.