وسیم یوسف

وسيم يوسف

فلسطینی نژاد اردنی مسلمان مبلغ، جو 1981 میں اربد میں پیدا ہوئے۔ وہ ابوظبی کی شیخ زاید عظیم مسجد میں خطیب و امام رہے، 2014 سے ابوظبی ٹی وی پر دینی پروگرام پیش کیے، اور اخوان المسلمون اور سلفیت پر اپنے حملوں اور متنازع بیانات کی وجہ سے جانے گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
واعظ · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    وسیم یوسف احمد شحادة فلسطینی نژاد اردنی مسلمان مبلغ ہیں، جو 29 جون 1981 کو اردن کے شہر اربد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 2014 میں اماراتی شہریت حاصل کی۔ 1 2

    وہ ابوظبی کی شیخ زاید عظیم مسجد میں امام و خطیب کے طور پر جانے گئے، 2014 سے ابوظبی ٹی وی سمیت سیٹلائٹ چینلوں پر دینی پروگرام پیش کیے، اور اخوان المسلمون اور عموماً سلفیت پر اپنے عوامی حملوں اور بار بار متنازع بیانات کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ اردن میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ انہوں نے 2004 میں جامعہ البلقاء التطبیقیہ سے شریعت میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ 1 3

    المرسال کی سیرت کے مطابق ان کی جامعی تخصص قراءات میں تھی اور انہوں نے 2009 میں تفسیرِ قرآن میں ماسٹرز کیا۔ المرسال ایک اور جگہ ان کا سنِ ولادت 1982 بتاتا ہے؛ یہ ریکارڈ عربی ویکیپیڈیا اور وکی ڈیٹا کی تاریخ 29 جون 1981 کو لیتا ہے۔ 3 2

    مسلک کا آغاز اور پیشہ

    انہوں نے اپنے دعوتی سفر کا آغاز خوابوں کی تعبیر سے کیا اور اس موضوع پر کتاب لکھی، پھر ٹیلی ویژن پروگراموں اور ریکارڈ شدہ لیکچروں سے شہرت پائی۔ 1

    2014 سے انہوں نے کئی سیٹلائٹ چینلوں، بشمول ابوظبی ٹی وی، پر اسلامی پروگرام پیش کیے۔ 1

    وہ ابوظبی کی شیخ زاید عظیم مسجد کے امام و خطیب رہے۔ 1 فروری 2020 کو مسجد کے مرکز نے بیان جاری کیا کہ وہ اب مرکز کے امام و خطیب نہیں رہے اور انہیں جامع سلطان بن زاید الاول کا خطیب مقرر کیا گیا ہے۔ 1

    شہریت

    مضمون کے مطابق انہوں نے 2014 میں اماراتی شہریت حاصل کی۔ تاہم مئی 2021 میں اردن کے محکمۂ احوالِ مدنیہ و پاسپورٹ کے ڈائریکٹر جنرل فہد العموش نے کہا کہ وسیم یوسف اردنی پاسپورٹ رکھتے ہیں اور اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ انہوں نے اردنی شہریت ترک کی ہو، اور یہ کہ محکمے کے پاس اس کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں کہ انہوں نے اردنی کے سوا کوئی اور شہریت حاصل کی ہو؛ ان کا پاسپورٹ آخری بار 2009 میں تجدید ہوا، 2014 میں ختم ہوا اور اس کے بعد تجدید نہیں ہوا۔ عجائب گھر دونوں بیانات جس طرح نقل ہوئے ہیں درج کرتا ہے، ان کے درمیان فیصلہ نہیں کرتا۔ 1

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے۔ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    اخوان اور سلفیت پر حملے۔ وسیم یوسف اخوان المسلمون اور عموماً سلفیت پر حملوں اور معروف شیوخ و مبلغین پر تنقید کی وجہ سے جانے گئے؛ اس سے انہیں وہ حامی بھی ملے جو انہیں انتہا پسندی کے خلاف آواز سمجھتے ہیں اور وہ ناقدین بھی جو انہیں سرکاری بیانیے کے حق میں اسلامی تحریکوں کا مخالف سمجھتے ہیں۔ 1 3

    صحیح بخاری پر سوال۔ 2019 میں امام بخاری کے بارے میں ان کے بیانات نے وسیع تنازع کھڑا کیا: انہوں نے «صحیح البخاری» کی تمام احادیث کی صحت پر اپنے شک کی تصدیق کی، جو کتاب پر مکمل اعتماد کے ان کے سابقہ بیانات سے رجوع تھا، اور میڈیا نے یہ تنازع نقل کیا۔ 1

    اسرائیل سے معمول کے تعلقات۔ 2020 میں امارات و اسرائیل معاہدے پر مبارکباد، فلسطینیوں پر حملے میں یہ کہنے کہ «یہودی ان سے زیادہ شریف ہیں»، اور اسرائیلیوں سے اپنی سابقہ باتوں پر معذرت کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا؛ کئی عرب میڈیا نے یہ خبر نقل کی۔ 1

    غزہ جنگ 2021۔ القدس العربی کے مطابق مئی 2021 میں غزہ میں شہریوں پر اسرائیلی حملوں کی حمایت اور حماس پر لوگوں کے گھروں سے راکٹ چلانے اور غزہ کو «معصوموں کا قبرستان» بنانے کا الزام لگانے پر سوشل میڈیا پر ان کے خلاف وسیع غصہ پھیلا۔ بعض ماخذ انہیں «شیخ التطبیع» اور بعض «انٹیلی جنس مبلغ» کہتے ہیں؛ مضمون دونوں القاب ان کے ناقدین سے منسوب کرتا ہے۔ اردنی پارلیمان کی فلسطین کمیٹی کے سربراہ محمد الظہراوی نے سخت الفاظ میں ان کی مذمت کی۔ سوشل میڈیا پر یہ غیر مصدقہ دعویٰ بھی گردش کرتا رہا کہ انہیں «اسرائیل بالعربیہ» پلیٹ فارم سے رقم ملی، جس کی کسی سرکاری ذریعے نے تصدیق نہیں کی۔ 1

    2021 کی گمشدگی۔ مئی 2021 میں ان کی سوشل میڈیا سرگرمی اچانک رک گئی؛ ان کی آخری ٹویٹ 19 مئی 2021 کی تھی۔ کئی وضاحتیں پیش کی گئیں: بعض ماخذ نے کہا کہ ایک نوجوان اماراتی کے ہاتھوں مار پیٹ اور چھرا گھونپے جانے اور ان کی گاڑی جلائے جانے کے بعد انہیں دبئی کے ایک اسپتال لے جایا گیا اور وہ کوما میں چلے گئے، جبکہ دوسرے ماخذ نے کہا کہ اردنی پاسپورٹ کے بارے میں ان کے بیانات کے بعد اماراتی سکیورٹی نے انہیں گرفتار کر لیا۔ کسی سرکاری ادارے نے تبصرہ نہیں کیا۔ وہ 23 جنوری 2022 کو آٹھ ماہ کی غیر حاضری کی وضاحت کیے بغیر ٹویٹ کرنے لوٹے۔ 1

    بیماری

    اپریل 2024 میں وسیم یوسف نے اعلان کیا کہ انہیں سارکوما کینسر کی تشخیص ہوئی ہے؛ CNN عربی کی ویب سائٹ نے بھی یہ خبر نقل کی۔ 1

    کتابیں

    • «تفسیر الأحلام» (خوابوں کی تعبیر؛ پلاٹینم بک، 2017)۔ 1
    • «علمتنی آیة» (ایک آیت نے مجھے سکھایا؛ پلاٹینم بک، 2017)۔ 1
    • «كنت متطرفًا» (میں انتہا پسند تھا؛ مداد للنشر، 2018)۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. وسيم يوسف — ويكيبيديا العربية
    2. وسيم يوسف — ويكيداتا Q16127232
    3. وسيم يوسف — سيرة المرسال
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “وسیم یوسف”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/waseem-youssef/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔