اویس البراوی

أويس البراوي

–

بغداد

شیخ اویس البراوی (1847ء–1909ء)، صومالی عالم جنہیں انیسویں صدی میں مشرقی افریقا میں اسلام کی احیائی کوششوں کا سرخیل مانا جاتا ہے۔ بنادر ساحل کے براوہ میں ایک مقامی دینی استاد کے گھر پیدا ہوئے، شیخ الشاشی سے علوم و تصوف پڑھے، تقریباً 1870ء میں بغداد جا کر مصطفی بن سلمان الجیلانی سے سلسلہ قادریہ کی اجازت لی اور حج کیا، اور 1883ء میں واپس آ کر صومالیہ میں قادریہ کے قائد اور اس کی شاخ اویسیہ کے بانی بنے۔ ان کی دعوت صومالیہ و زنجبار سے کینیا، موزمبیق اور مشرقی کانگو تک پھیلی، انہوں نے صومالی کو عربی رسم الخط میں لکھنے کو بہتر بنایا اور بہت سی دینی نظمیں کہیں۔ محمد عبد اللہ حسن کی صالحیہ سے کشمکش بڑھی تو 1909ء میں درویشوں نے انہیں بیولے میں قتل کر دیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · teacher · mystic · شاعر
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرزاق البيطار · احمد عرابی · أحمد مدحت · أكبر إلهآبادي · علی حاجی اکوشا

مکان میں

بغداد

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شیخ اویس البراوی (1847ء–1909ء) صومالی عالم تھے جنہیں انیسویں صدی میں مشرقی افریقا میں اسلام کی احیائی کوششوں کا سرخیل مانا جاتا ہے، وہ جنوبی صومالیہ، زنجبار اور مشرقی افریقی ساحل پر سلسلہ قادریہ کے قائد اور اس کی شاخ اویسیہ کے بانی تھے۔ 1 2

    زندگی اور کارنامے

    وہ بنادر ساحل کے براوہ میں ایک مقامی دینی استاد کے گھر پیدا ہوئے، شیخ الشاشی سے قرآن، تفسیر، نحو، اصول فقہ اور تصوف کے مبادی پڑھے۔ 1 تقریباً 1870ء میں استاد کے ساتھ بغداد گئے، سید مصطفی بن سلمان الجیلانی سے قادریہ کی تعلیم و اجازت لی اور حج کیا، اور 1883ء میں واپس آ کر صومالیہ میں قادریہ کے قائد بنے۔ 1 انہوں نے اندرون ملک بلد الامین نامی زرعی بستی بسائی، زنجبار کے سلاطین سے قریبی تعلق رکھا، دینی نظمیں کہیں اور صومالی کو عربی رسم الخط میں لکھنے کو بہتر بنایا، اور ان کی دعوت کینیا، موزمبیق، تنزانیہ اور مشرقی کانگو تک پھیلی۔ 2

    وفات

    محمد عبد اللہ حسن کی صالحیہ سے کشمکش نظموں کے تبادلے اور باہمی تکفیر تک بڑھی، اور 1909ء میں درویشوں نے بیولے میں انہیں شہید کر دیا، ان کے شاگردوں میں سے صرف ایک بچا جس نے اویسیہ کی روایت آگے بڑھائی۔ 1 مارٹن (1969ء) اور ان کا مضمون دونوں ذاتی طور پر ان کی قادری قیادت کی شہادت دیتے ہیں، اسی لیے ان کا ایمان «صوفی» بتوثیق درج ہے، جبکہ صندوق اطلاعات کی اکیلی «شافعی» شہادت پر کوئی فقہی قدر درج نہیں کی گئی۔ 2

    حوالہ جات

    • اوپر مستشہد شدہ معرّف ذرائع، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    بغداد
    Member of
    قادریہ طریقہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    کونتا حاجی کیشیف· المدرسة النظامية ببغداد· بيت الحكمة (خزانة الحكمة)· البيمارستان العضدي· المارستان المقتدري· مارستان السيدة· دار العلم ببغداد (دار العلم السابورية)· جامع القطيعة ببغداد

    ماخذ

    1. Uways al-Barawi — English Wikipedia
    2. B. G. Martin, 'Muslim Politics and Resistance to Colonial Rule: Shaykh Uways b. Muhammad al-Barawi and the Qadiriya Brotherhood in East Africa' (Journal of African History, 1969)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اویس البراوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/uways-al-barawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    کونتا حاجی کیشیف

    کونتا حاجی کیشیف (سالِ ولادت متنازع — حوالہ جاتی ادب میں صرف 1800 تا 1830 کی حد ملتی ہے — وفات 19/31 مئی 1867) چیچن صوفی شیخ تھے جنہوں نے قادریہ سلسلے کی چیچن شاخ «حاجی مریدیہ» کی بنیاد رکھی اور قفقازی جنگ کے دوران عدم تشدد کی تبلیغ کی۔ جنوری 1864 میں شالی میں اپنے پیروکاروں کی «خنجر» جھڑپ کے بعد گرفتار ہوئے اور اوستیوژنا میں جلاوطنی کے دوران وفات پائی۔