عمرہ خان

عمرة خان

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

كابل

افغان پشتون سردار (تقریباً 1860ء–1904ء)، خانِ جندول اور پھر نوابِ دیر (1890ء–1895ء)۔ انھوں نے اپنے بڑے بھائی کو قتل کر کے تخت سنبھالا، باجوڑ پر اپنا اقتدار قائم کیا، اور 1894ء میں چترال کے معاملات میں مداخلت سے 1895ء کی برطانوی چترال مہم کی نوبت آئی؛ شکست کے بعد وہ افغانستان فرار ہوئے اور کابل میں وفات پائی۔ چرچل نے انھیں «افغان نپولین» کہا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · عبد الحميد الزهراوي · عبد الرزاق البيطار · عبد الرشید ابراہیم · أحمد الحملاوي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خانِ جندول اور نوابِ دیر

    عمرہ خان (تقریباً 1860ء–1904ء) جندول کے ترکلانی مست خیل حکمران گھرانے کے پشتون سردار تھے، جو برطانوی ہند کی شمال مغربی سرحد پر واقع تھا۔1 وہ خانِ جندول کے چھوٹے بیٹے تھے؛ انھوں نے اپنے بڑے بھائی کو قتل کر کے تخت سنبھالا اور سرحد پر بڑی طاقت بن گئے۔1 جندول سے انھوں نے ریاستِ دیر فتح کی اور 1890ء سے 1895ء تک اس کے نواب رہے، اور 1894ء تک تقریباً پورا باجوڑ ان کے اقتدار میں تھا۔1

    چترال اور جلاوطنی

    1894ء میں ان کی توسیع پسندی انھیں چترال کے اندرونی معاملات میں لے گئی: انھوں نے مہتار امان الملک کے بیٹے افضل الملک کو اکسا کر اپنے بھائی نظام الملک کو قتل کروایا، پھر قاتل کو بھی ہٹا کر ان کے چچا شیر افضل کے دعوے کی حمایت کی۔1 برطانوی حکومتِ ہند نے انھیں چترال چھوڑنے کا حکم دیا؛ انکار پر 1895ء کی چترال مہم بھیجی گئی، اور عمرہ خان افغانستان کی طرف جلاوطن ہو گئے۔1 ونسٹن چرچل، جو ملاکنڈ فیلڈ فورس کے ساتھ تھے اور اس کی داستان لکھی، انھیں «چترال اور پشاور کے درمیان سب سے اہم آدمی» اور «افغان نپولین» کہتے تھے — یہ ایک ہم عصر برطانوی افسر کا خطاب ہے اور یہاں اسی نسبت سے درج ہے۔1

    وفات اور تواریخ

    ان کی وفات جلاوطنی میں کابل میں ہوئی۔1 مضمون انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1911ء) کی پیروی میں ان کی وفات 11 ستمبر 1904ء بتاتا ہے، جب کہ ویکی ڈیٹا صرف 1903ء کا سال دیتا ہے؛ ولادت تقریباً 1860ء بتائی گئی ہے۔12 اس لیے ان کے ریکارڈ میں دونوں تواریخ متنازع درج ہیں، وفات کے لیے مضمون کی صریح تاریخ کو ترجیح دی گئی ہے۔

    شناخت اور مذہب

    کسی بھی پڑھے گئے ماخذ میں ان کے دین یا مسلک کا نام نہیں ملتا: مضمون میں مذہب کا خانہ نہیں اور اس موضوع کا ذکر ہی نہیں، اور ویکی ڈیٹا میں بھی مذہب کی کوئی قیمت نہیں۔12 ان کا خطاب «غازی» اور پشتون سردار کی حیثیت لقب اور منصب ہیں، انتماء کی شہادت نہیں؛ اس لیے ان کا مذہب غیر موجودگی کی بنیاد پر «نامعلوم» درج ہے، اور ان کی برطانوی مخالف جنگوں سے کچھ استنباط نہیں کیا گیا۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    كابل

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود· اشرف غنی· برہان الدین ربانی

    ماخذ

    1. Umra Khan — English Wikipedia
    2. Umra Khan — Wikidata Q7881787
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عمرہ خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/umra-khan-of-jandol/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون

    The Mahdi's and Rashid's agents took Sijistan's atawa from Rutbil as strength allowed, posting their own men over the marches Islam had lost. Under al-Ma'mun at Khurasan the atawa came doubled, Kabul was opened, its king showed Islam and obedience, the governor's agent entered, the post-road was joined, and fresh myrobalan was sent him from it — and the land held steady for a time.