عمر حیات خان ٹوانہ

عمر حياة خان تيوانا

–

میجر جنرل نواب سر عمر حیات خان ٹوانہ (1874ء–1944ء) پنجابی سپاہی اور زمیندار تھے، صوبے کے بڑے جاگیرداروں میں سے تھے، صومالی لینڈ، تبت، پہلی جنگ عظیم اور تیسری اینگلو افغان جنگ میں خدمات انجام دیں، کونسل آف انڈیا، کونسل آف اسٹیٹ اور پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے رکن رہے، اور ملک خضر حیات ٹوانہ کے والد تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل · سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · عبدالمجید ثانی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    میجر جنرل نواب سر عمر حیات خان ٹوانہ (5 اکتوبر 1874ء – 24 مارچ 1944ء) ہندوستانی سلطنت کے سپاہی، پنجاب کے بڑے زمینداروں میں سے ایک اور کونسل آف اسٹیٹ آف انڈیا کے منتخب رکن تھے۔ انھوں نے صومالی لینڈ، تبت، پہلی جنگ عظیم اور تیسری اینگلو افغان جنگ میں خدمات انجام دیں اور تین برطانوی بادشاہوں کے اعزازی معاون رہے۔ وہ متحدہ پنجاب کے آخری وزیراعظم ملک خضر حیات ٹوانہ کے والد تھے۔ ان پر اردو یا عربی ویکیپیڈیا میں کوئی مضمون نہیں؛ یہ بیان انگریزی مضمون اور ویکی ڈیٹا آئٹم سے لکھا گیا ہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ میگھا، جھاوڑیاں، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر ملک صاحب خان ٹوانہ تھے اور خاندان خوشاب سے تعلق رکھنے والا شاہ پور کا ٹوانہ خاندان تھا۔ انھوں نے 1888ء سے 1893ء تک ایچیسن چیفس کالج، لاہور میں تعلیم پائی۔ ویکی ڈیٹا ان کی پیدائش کا سال 1875 بتاتا ہے؛ انگریزی مضمون اپنے حوالوں کی بنیاد پر 5 اکتوبر 1874 دیتا ہے، اور یہی قرأت یہاں اختیار کی گئی ہے۔ 1 2

    فوجی خدمات اور عوامی زندگی

    انھوں نے 1902ء–1904ء کی صومالی لینڈ جنگ، 1903ء–1904ء کی تبت مہم، پہلی جنگ عظیم اور تیسری اینگلو افغان جنگ میں حصہ لیا اور متعدد بار سرکاری رپورٹوں میں ان کا ذکر ہوا۔ وہ بادشاہ جارج پنجم، ایڈورڈ ہشتم اور جارج ششم کے اعزازی معاون رہے اور 1935ء میں اعزازی میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ 1907ء میں وہ امیرِ افغانستان حبیب اللہ خان کے پاس ملحق (اٹاشی) بنے اور 1910ء سے 1944ء تک گورنر جنرل کی امپیریل کونسل کے رکن رہے۔ دسمبر 1913ء میں وہ آگرہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سترہ عہدے داروں میں منتخب ہوئے، 1924ء سے 1934ء تک وزیرِ ہند کی کونسل کے رکن رہے، اور کونسل آف اسٹیٹ اور پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے بھی رکن رہے۔ 1

    لندن اور اوڈوائر بنام نائر مقدمہ

    1929ء سے 1934ء تک وہ زیادہ تر لندن میں رہے، برطانوی فالکنرز کلب کے صدر بنے، اور شطرنج کے باصلاحیت کھلاڑی سلطان خان کو لندن لانے اور ان کے کیریئر کی سرپرستی کا سہرا انھیں جاتا ہے۔ چودھری رحمت علی ان کے لندن کے گھر کے باقاعدہ مہمان تھے۔ 1924ء میں وہ لندن کی ہائی کورٹ میں اوڈوائر بنام نائر توہینِ عدالت کے مقدمے میں نمایاں گواہ بنے، جو جلیانوالہ باغ کے قتل عام اور بھرتی کی مبینہ زیادتیوں سے متعلق تھا۔ 1

    وفات

    ان کا انتقال 24 مارچ 1944ء کو جھاوڑیاں کے کلرا اسٹیٹ میں ہوا۔ 1

    حوالہ جات

    • مذکورہ بالا معرف ماخذ عناصر، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہو اور ہر واقعت کی تبدیلی کا ماخذ نامزد ہو۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    ملک خضر حیات ٹوانہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ملک خضر حیات ٹوانہ

    ماخذ

    1. Umar Hayat Khan Tiwana — English Wikipedia
    2. Umar Hayat Khan Tiwana — Wikidata Q5907820
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عمر حیات خان ٹوانہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/umar-hayat-khan-tiwana/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ملک خضر حیات ٹوانہ

    ملک سر خضر حیات ٹوانہ (1900ء–1975ء) پنجابی ریاست کار، زمیندار اور فوجی افسر تھے، یونینسٹ پارٹی کی جانب سے متحدہ پنجاب کے آخری وزیراعظم (1942ء–1947ء) رہے، تقسیمِ ہند اور دو قومی نظریے کی کھل کر مخالفت کی، مسلم لیگ سے نکالے گئے اور مارچ 1947ء میں مستعفی ہو گئے؛ وہ سر عمر حیات خان ٹوانہ کے بیٹے تھے۔