توفیق فکرت

توفيق فكرت

–

إسطنبول

توفیق فکرت (پیدائش: استنبول، 24 دسمبر 1867ء – وفات: استنبول، 19 اگست 1915ء)، اصل نام محمد توفیق، عثمانی شاعر اور معلم؛ جدید ترکی شاعری کے بانی اور «ثروتِ فنون» حلقے کے قائد شمار ہوتے ہیں، «رَبابِ شکستہ» اور «خالوق کا دفتر» کے مصنف۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · teacher
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · عبد الحميد الزهراوي · عبد القادر المغربي · عبد الرزاق البيطار · عبد الرشید ابراہیم

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    توفیق فکرت (پیدائش: استنبول، 24 دسمبر 1867ء – وفات: استنبول، 19 اگست 1915ء)، اصل نام محمد توفیق، عثمانی شاعر اور معلم تھے؛ جدید ترکی شاعری کے بانی اور «ثروتِ فنون» حلقے کے قائد شمار ہوتے ہیں۔ 1 2 ان کے دیوان «رَبابِ شکستہ» (1900ء) اور «خالوق کا دفتر» (1911ء) مشہور ہیں اور عبدالحمید ثانی کے استبداد پر ان کی کھلی تنقید نے انھیں «شاعرِ حریت» بنا دیا۔ 1

    زندگی اور عہد

    فکرت استنبول کے قادرغہ محلے میں پیدا ہوئے؛ والد حسین آفندی اناطولیہ کے اہلکار تھے جو انیس برس جلاوطنی میں رہے، اور والدہ خدیجہ رفیعہ خانم خیوس کی ایک یونانی مسلم گھرانے سے تھیں اور بچپن ہی میں وفات پا گئیں۔ 2 1 غلاطہ سرائے سے 1888ء میں اول آ کر فارغ ہوئے، 1896ء سے رابرٹ کالج میں تدریس کی اور وہیں اپنے مکان «آشیان» (اب عجائب گھر) میں رہے۔ 1 1896ء میں «ثروتِ فنون» کے مدیرِ اعلیٰ بنے حتیٰ کہ 1901ء میں حکومت نے ان کے کاموں پر پابندی لگا دی؛ 1908ء میں «طانین» جاری کیا، پھر غلاطہ سرائے کے مدیر بنے اور 31 مارچ 1909ء کے واقعے میں اسکول کے دروازے سے خود کو زنجیر سے باندھ کر احتجاج کیا اور مستعفی ہو گئے؛ ذیابیطس کا علاج انکار کرنے پر 1915ء میں وفات پائی۔ 1

    موقف و نقد

    یہ حصہ ماخذوں میں منقول مواقف کی پیش کش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    فکرت آزادیِ اظہار اور آئینی حکومت کے وکیل تھے، ان کا مشہور قول ہے کہ «میرا وطن دنیا ہے اور میری قوم انسانیت»؛ ماخذ انھیں مصطفیٰ کمال سمیت ایک پوری نسل کے مفکرین پر اثر انداز بتاتے ہیں۔ 1 2 ان کے مسلک کے بارے میں کوئی ماخذ کچھ نہیں کہتا، اور وکی ڈیٹا کے پاس ان کے مذہب کی کوئی قدر سرے سے نہیں۔ 1 3 اسلامی قدامت پسندی پر ان کی تنقید ایک فکری موقف ہے، والدہ کا قبولِ اسلام خاندانی پس منظر، اور «نہایت مذہبی ماحول» میں پرورش — جس کا ذکر ترکی مضمون کرتا ہے — تربیت ہے، ان کے ذاتی مسلک کی گواہی نہیں۔ 2 شبہ کی حکمرانی کے تحت ان کی عقیدہ نامعلوم درج ہے۔

    حوالہ جات

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    إسطنبول
    Died in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Tevfik Fikret — English Wikipedia
    2. Tevfik Fikret — Turkish Wikipedia
    3. Tevfik Fikret — Wikidata Q948861
    • Tevfik Fikret — Arabic Wikipedia
    • Tevfik Fikret — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “توفیق فکرت”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/tevfik-fikret/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.