ایک نظر میں
- کردار
- activist · teacher
- خطہ
- southeast-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سیتی والدہ (3 جنوری 1872ء – 31 مئی 1946ء)، جو نیائی احمد دہلان کے نام سے مشہور ہیں، انڈونیشیا میں خواتین کی آزادی کی رہنما، محمدیہ کے بانی احمد دہلان کی اہلیہ اور اس کی خواتین تنظیم عائشیہ کی بانی تھیں۔ انگریزی مضمون ان کا سنہ ولادت صرف 1872ء دیتا ہے؛ دن کی تاریخ انڈونیشی مضمون اور وکی ڈیٹا سے آئی ہے۔ ان پر عربی یا اردو ویکیپیڈیا میں کوئی مضمون نہیں؛ یہ خاکہ انگریزی اور انڈونیشی مضامین اور وکی ڈیٹا کے اندراج سے لکھا گیا ہے۔ 1 2 3
ابتدائی زندگی و شادی
وہ یوگیاکارتا کے کاؤمان میں پیدا ہوئیں؛ ان کے والد کیائی حاجی محمد فضلی یوگیاکارتا سلطنت کے درباری عالم اور اشرافیہ میں سے تھے، اور محلے میں قصر کے بہت سے دینی رجال رہتے تھے۔ انہوں نے گھر پر اسلام، عربی اور جاوی رسم الخط میں قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی شادی ان کے چچازاد احمد دہلان سے ہوئی اور ان کے چھ بچے ہوئے۔ جب وہ محمدیہ بنا رہے تھے تو وہ ان کے سفر میں ساتھ رہیں، اور چونکہ ان کے بعض اصلاحی خیالات کو شدت پسند سمجھا گیا، اس لیے جوڑے کو کبھی کبھی دھمکیاں ملیں، جن میں بانیووانگی کے ایک منصوبہ بند سفر سے پہلے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی شامل تھیں۔ 1 2
سوپو تریسنو و عائشیہ
1914ء میں انہوں نے نماز و تلاوت کی جماعت سوپو تریسنو قائم کی جس کی قیادت وہ اور ان کے شوہر باری باری کرتے، قرآن پڑھتے اور اس کے مفاہیم پر گفتگو کرتے؛ انہوں نے خواتین کے مسائل سے متعلق آیات پر توجہ مرکوز کی اور جماعت کے ذریعے جوڑے نے خواندگی سکھائی۔ شوہر اور محمدیہ کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ انہوں نے جماعت کو خواتین کی تنظیم کی رسمی شکل دینے پر غور کیا؛ پہلا مجوزہ نام «فاطمہ» رد کر کے «عائشیہ» چنا گیا، جو عائشہ سے ماخوذ ہے۔ نئی تنظیم 22 اپریل 1917ء کو قائم ہوئی اور سیتی والدہ اس کی سربراہ تھیں، اور پانچ سال بعد یہ محمدیہ کا حصہ بن گئی۔ 1 2
عائشیہ کے ذریعے انہوں نے لڑکیوں کے اسکول اور ہاسٹل اور خواتین کے لیے خواندگی و اسلامی تعلیم کے پروگرام قائم کیے، جبری شادی کے خلاف وعظ کیا، جاوا بھر کی شاخوں کا دورہ کیا، اور اپنے معاشرے کے پدرسری رواج کے خلاف یہ موقف پیش کیا کہ خواتین اپنے شوہروں کی شریک بننے کے لیے ہیں۔ انڈونیشی مضمون یہ اضافہ کرتا ہے کہ 1922ء میں انہوں نے خواتین کی باجماعت نماز و مطالعے کے لیے عائشیہ کا پہلا مصلیٰ قائم کیا اور 1926ء میں رسالہ «صوت عائشیہ» جاری کیا۔ 1 2
آخری برس
احمد دہلان کی 1923ء میں وفات کے بعد بھی وہ محمدیہ اور عائشیہ میں سرگرم رہیں۔ 1926ء میں انہوں نے سورابایا میں محمدیہ کی پندرھویں کانگریس کی صدارت کی، ایسی کانفرنس کی صدارت کرنے والی پہلی خاتون؛ وسیع اخباری کوریج نے مزید خواتین کو عائشیہ کی طرف لایا اور دیگر جزیروں پر شاخیں کھلیں۔ وہ 1934ء تک عائشیہ کی قیادت کرتی رہیں۔ جاپانی قبضے کے دوران، جب 10 ستمبر 1943ء سے عائشیہ کا خواتین کے ساتھ کام ممنوع ہوا، انہوں نے اسکولوں میں کام کیا اور کوشش کی کہ طلبہ کو سورج کی پرستش اور جاپانی گیت گانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ انڈونیشی قومی انقلاب کے دوران انہوں نے اپنے گھر سے فوجیوں کے لیے سوپ کچن چلائے، اپنے سابق طالب علموں کو فوجی خدمت کی ترغیب دی، اور جنرل سودیرمان اور صدر سوکارنو کے ساتھ جنگ پر مباحث میں شریک ہوئیں۔ 1 2
وفات و ورثہ
ان کا انتقال کاؤمان میں 31 مئی 1946ء کو دوپہر ایک بجے ہوا اور چار گھنٹے بعد انہیں کاؤمان کی جامع مسجد کے پیچھے دفن کیا گیا؛ ان کے جنازے میں حکومت کی نمائندگی ریاستی سیکرٹری اور وزیر مذہب نے کی۔ 10 نومبر 1971ء کو صدر سوہارتو نے انہیں انڈونیشیا کی قومی ہیرو قرار دیا۔ ان کا مسلک مآخذ میں درج نہیں: ان کا کام محمدیہ کے اندر تھا، جو ایک تنظیمی نسبت ہے، اور ان کے لیے دی گئی دین کی واحد قیمتیں انڈونیشی معلوماتی خانے اور وکی ڈیٹا میں مجموعی طور پر اسلام ہیں۔ 1 2 3
مآخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے معرف مآخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہو اور ہر واقعے کو بدلنے والے مأخذ کا نام دے۔
تعلقات
- Spouse of
- احمد دہلان
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Siti Walidah (Nyai Ahmad Dahlan) — English Wikipedia
- Siti Walidah — Indonesian Wikipedia
- Siti Walidah — Wikidata Q7070803
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سیتی والدہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/siti-walidah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.