شرمین عبید چنائے

شرمين عبيد تشينوي

پاکستانی کینیڈین صحافی اور دستاویزی فلم ساز، جو 1978 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ وہ خواتین کے خلاف عدم مساوات کو اجاگر کرنے والی فلموں کے لیے مشہور ہیں، «Saving Face» (2012) اور «A Girl in the River» (2016) پر دو اکیڈمی ایوارڈ اور سات ایمی ایوارڈ جیتے، آسکر جیتنے والی پہلی پاکستانی بنیں، 2012 میں حکومتِ پاکستان نے انھیں ہلالِ امتیاز دیا اور ٹائم میگزین نے انھیں دنیا کی سو سب سے بااثر شخصیات میں شامل کیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
filmmaker · صحافی · activist
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شرمین عبید چنائے پاکستانی کینیڈین صحافی اور دستاویزی فلم ساز ہیں، جو 12 نومبر 1978 کو کراچی میں پیدا ہوئیں اور خواتین کے خلاف عدم مساوات کو اجاگر کرنے والی فلموں کے لیے مشہور ہیں۔ 1 2

    انھوں نے «Saving Face» (2012) اور «A Girl in the River: The Price of Forgiveness» (2016) پر دو اکیڈمی ایوارڈ اور سات ایمی ایوارڈ جیتے، اور وہ آسکر جیتنے والی پہلی پاکستانی اور سینتیس برس کی عمر سے پہلے دو آسکر جیتنے والی پہلی خاتون ہدایت کار بنیں۔ 1

    23 مارچ 2012 کو حکومتِ پاکستان نے انھیں ملک کا دوسرا بڑا شہری اعزاز ہلالِ امتیاز دیا، اور اسی سال ٹائم میگزین نے انھیں دنیا کی سو سب سے بااثر شخصیات میں شامل کیا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انگریزی مضمون انھیں گجراتی مسلمان بتاتا ہے؛ ان کی والدہ صبا عبید سماجی کارکن اور والد شیخ عبید کاروباری شخص تھے۔ 1

    انھوں نے اسمتھ کالج سے 2002 میں معاشیات اور حکومت میں بیچلر اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے ابلاغیات اور بین الاقوامی پالیسی میں دو ماسٹرز ڈگریاں حاصل کیں۔ 1 2

    کام

    ان کے مشہور کاموں میں «Saving Face»، «A Girl in the River»، «Song of Lahore» اور پاکستان کی پہلی کمپیوٹر اینیمیٹڈ فیچر فلم «3 Bahadur» شامل ہیں، اور وہ ڈزنی کے سلسلے «Ms. Marvel» کی شریک ہدایت کار بھی رہیں۔ 1

    2007 میں انھوں نے سٹیزنز آرکائیو آف پاکستان کے قیام میں حصہ لیا، جو پاکستان کے ثقافتی و سماجی ورثے کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Directed
    السيدة مارفل

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    السيدة مارفل

    ماخذ

    1. Sharmeen Obaid-Chinoy — English Wikipedia
    2. شرمين عبيد جنائي — ويكيبيديا العربية
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شرمین عبید چنائے”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sharmeen-obaid-chinoy/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    السيدة مارفل

    The Marvel miniseries on Kamala Khan — a Pakistani-American Muslim teenager in Jersey City who gains powers; Marvel's first Muslim lead, portraying mosque life, prayer and Eid.