شفیقہ گاسپرنسکایا

شفيقة غسبرينسكايا

–

إسطنبول

قریمی تاتار مدیرہ، ناشر اور خواتین کے حقوق کی رہنما، جو 1886 میں باغچہ سرائے میں پیدا ہوئیں اور 1975 میں استنبول میں وفات پائیں۔ اسماعیل گاسپرنسکی کی صاحبزادی تھیں؛ روس کے پہلے ترک خواتین کے رسالے «عالمِ نسوان» کی مدیرہ و ناشر رہیں، 1917 میں قریمی قورولتائی کی صدارتی مجلس کی رکن اور دو مدتوں تک نائب رہیں، اور روس کی مسلم تحریک کا بڑا دستاویزی ذخیرہ اپنے ساتھ ترکی جلاوطنی میں لے گئیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
editor · صحافی · activist · teacher
خطہ
anatolia-balkans
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · محمد الصالح بن مراد · عزير كول البشاوري · محمد طاہر بن عاشور · محمد ادریس سنوسی

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شفیقہ گاسپرنسکایا (14 اکتوبر 1886 – 31 اگست 1975) قریمی تاتار نسوانی رہنما تھیں، روس میں ترک دنیا کے پہلے خواتین کے رسالے «عالمِ نسوان» کی مدیرہ و ناشر، قریمی قورولتائی کی صدارتی مجلس کی رکن اور 1917 میں جمہوریہ قریم کی دو مدتوں تک نائب۔ 1 وہ اسماعیل گاسپرنسکی کی صاحبزادی اور ان کے اشاعتی کام میں قریب ترین معاون تھیں۔ 1 ترک مقالہ ان کی تاریخِ پیدائش «14 اکتوبر یا 21 نومبر 1886» دیتا ہے؛ انگریزی مقالہ اور وکی ڈیٹا 14 اکتوبر دیتے ہیں، اور عجائب گھر کا ریکارڈ دونوں قراءتیں درج کرتا ہے۔ 2 3

    زندگی و کیریئر

    وہ باغچہ سرائے (قریم) میں پیدا ہوئیں، والد سے پڑھنا لکھنا سیکھا اور ان کے اسکولِ اصولِ جدید میں تعلیم جاری رکھی۔ 1 وہ اپنے والد کے اخبار «ترجمان» کی انتظام کاری، روسی سے ترجمے اور ترسیل کی ذمہ دار بنیں اور 1903 میں پہلا مضمون لکھا۔ 1 1906 میں ان کی شادی آذربائیجان کے نسیب بے یوسف بیلی سے ہوئی۔ 1 اسی سال ان کے والد نے خواتین کی تعلیم و روزگار کے لیے «عالمِ نسوان» جاری کیا اور شفیقہ کو اس کا سربراہ بنایا؛ رسالے نے ترک خواتین کو آگاہ، منظم اور باہمت بنانے کا کام کیا۔ 1 1919 میں وہ جان کے خطرے سے آذربائیجان فرار ہوئیں؛ ان کے شوہر، آذربائیجان کے وزیرِ اعظم، 31 مئی 1920 کو گولی مار کر ہلاک کر دیے گئے، جس کے بعد وہ اپنے لائے ہوئے بڑے دستاویزی ذخیرے کے ساتھ ترکی ہجرت کر گئیں۔ 1 2 ترکی میں انہوں نے یتیم خانے کی نظامت کی، 1930 میں قریمی تاتار خواتین کی انجمن قائم کی اور ہلالِ احمر میں برسوں خدمت کی۔ 1 وہ 31 اگست 1975 کو استنبول میں وفات پائیں اور زنجرلی کویو قبرستان میں دفن ہوئیں۔ 1 3

    کام

    ان کا اصل کام تحریر و تنظیم تھا: «عالمِ نسوان» کی ادارت و اشاعت (1906–1912)، 1903 سے «ترجمان» میں مضامین، اور بعد میں «قریم» اور «ایمل» میں لکھنا؛ اس کے علاوہ روس کی مسلم اصلاحی تحریک کا وہ آرکائیو جو انہوں نے محفوظ کر کے جلاوطنی میں ساتھ رکھا۔ 1

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہو اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    اسماعیل گاسپرنسکی
    Died in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Şefika Gasprinskaya — English Wikipedia
    2. Şefika Gasprinskaya — Turkish Wikipedia
    3. Şefika Gasprinskaya — Wikidata Q3760333
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شفیقہ گاسپرنسکایا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sefika-gasprinskaya/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.