سلیمہ مزاری

سلیمه مزاری

افغان سیاست دان، 1980ء میں ایران میں ایک پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئیں جو افغانستان پر سوویت حملے سے فرار ہوا تھا۔ انھوں نے تہران یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور افغانستان واپسی سے قبل بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت میں کام کیا۔ 2018ء میں وہ بلخ صوبے کے ضلع چارکنت کی گورنر مقرر ہوئیں — ملک کی صرف تین خواتین ضلعی گورنروں میں سے ایک — اور 2021ء میں طالبان کے حملے کے خلاف اپنے ضلع کی مزاحمت کی قیادت کی، پھر امریکہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سلیمہ مزاری (پیدائش 1980ء) افغان سیاست دان ہیں جنھوں نے 2018ء سے 20 اگست 2021ء تک صوبہ بلخ کے ضلع چارکنت کی گورنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں — افغانستان کی صرف تین خواتین ضلعی گورنروں میں سے ایک۔ 1 وہ ایران میں پناہ گزین کے طور پر پیدا ہوئیں، افغانستان واپس آئیں، 2021ء میں طالبان کے خلاف اپنے ضلع کی مسلح مزاحمت کی قیادت کی، اور جمہوریہ کے خاتمے پر امریکہ فرار ہو گئیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    مزاری 1980ء میں ایران میں پیدا ہوئیں؛ ان کا خاندان افغانستان پر سوویت حملے سے فرار ہوا تھا۔ 1 3 وہ ایران میں پلی بڑھیں، تہران یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی، اور افغانستان واپسی سے قبل بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت میں کام کیا۔ 1 ان کے اپنے بیان کے مطابق انھوں نے ایران میں پناہ گزین کارڈ پر تیس برس گزارے اور 2012ء میں چارکنت میں اپنے والد کے آبائی قصبے واپس آئیں، بعد ازاں مزار شریف کے تعلیمی اداروں میں کام کیا۔ 2

    ضلعی گورنر

    2018ء میں وہ ضلع چارکنت کی گورنر مقرر ہوئیں۔ 1 گورنر کی حیثیت سے انھوں نے طالبان کے خلاف مقامی ملیشیا بھرتی کرنے کے لیے سیکیورٹی کمیشن قائم کیا، اور 2020ء میں اپنے صوبے میں سو سے زائد طالبان سپاہیوں کے ہتھیار ڈالنے پر مذاکرات کیے۔ 1 انھوں نے بتایا کہ وہ کمینوں اور بارودی سرنگوں سے بچیں؛ خطرات کا یہ بیان ان کی اپنی شہادت کے طور پر درج ہے۔ 2

    2021ء کا حملہ اور فرار

    2021ء میں طالبان کے حملے کے دوران انھوں نے فرار ہونے سے انکار کیا جبکہ کئی دیگر گورنر فرار ہو چکے تھے، اور ان کے ضلع نے سخت مزاحمت کی؛ کابل کے سقوط تک ان کا ضلع طالبان کے قبضے سے بچا رہنے والے چند اضلاع میں سے ایک تھا۔ 1 اگست 2021ء کے وسط میں خبروں میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ طالبان نے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔ 1 بعد کی خبروں کے مطابق وہ صوبائی گورنر کے دفتر میں تھیں جب بلخ کے ہتھیار ڈالنے اور مزار شریف کے سقوط کی خبر پہنچی، تو وہ ضلع چھوڑ کر امریکی انخلا کی مدد سے امریکہ میں نامعلوم مقام پر پہنچ گئیں؛ ٹائم کی بعد کی رپورٹ، جس کے مصنفین میں ان کے فرار میں مدد کرنے والے صحافی شامل تھے، کے مطابق وہ کبھی گرفتار نہیں ہوئیں۔ 1

    جلاوطنی اور اعزاز

    مزاری اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ امریکی وسط مغرب میں آباد ہوئیں، جہاں وہ افغانوں کی وکالت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 2 انھیں بی بی سی کی 2021ء کی «100 خواتین» میں شامل کیا گیا۔ 1

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترامیم مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Salima Mazari — English Wikipedia
    2. Salima Mazari — Borderless Magazine profile (2022)
    3. Salima Mazari — Wikidata Q108133663
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سلیمہ مزاری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/salima-mazari/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔