رعنا لیاقت علی خان

رعنا لياقت علي خان

–

پاکستانی خاتون مدبر اور ماہرِ معاشیات (1905ء–1990ء)، لیاقت علی خان کی اہلیہ اور پاکستان کی پہلی خاتونِ اول (1947ء–1951ء)۔ وہ المورا میں ایک مسیحی خاندان میں شیلا آئرین پنت کے نام سے پیدا ہوئیں اور 1932ء میں اپنی شادی کے موقع پر اسلام قبول کیا۔ انھوں نے 1949ء میں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا) قائم کی، 1952ء میں اقوامِ متحدہ میں پہلی مسلم خاتون مندوب بنیں، پاکستان کی پہلی خاتون سفیر (ہالینڈ، 1954ء–1961ء) اور کسی پاکستانی صوبے کی پہلی خاتون گورنر (سندھ، 1973ء–1976ء) رہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: الأكوع محمد بن علي · امادو ہامپاتے با · امین احسن اصلاحی · حبیب بورقیبہ · ميرزا هاشم الآملي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    بیگم رعنا لیاقت علی خان (13 فروری 1905ء – 13 جون 1990ء) ایک پاکستانی خاتون مدبر اور ماہرِ معاشیات تھیں، جو لیاقت علی خان کی اہلیہ اور 1947ء سے 1951ء تک پاکستان کی پہلی خاتونِ اول رہیں۔ 1 2 وہ المورا میں ایک مسیحی خاندان میں شیلا آئرین پنت کے نام سے پیدا ہوئیں اور 1932ء میں اپنی شادی کے موقع پر اسلام قبول کر کے گل رعنا کہلائیں۔ 2 1 انھوں نے 1949ء میں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا) قائم کی، اقوامِ متحدہ میں پہلی مسلم خاتون مندوب اور پاکستان کی پہلی خاتون سفیر بنیں، اور 1973ء سے 1976ء تک سندھ کی گورنر رہیں، جو کسی پاکستانی صوبے کی پہلی خاتون گورنر تھیں۔ 1

    ابتدائی زندگی اور شادی

    شیلا آئرین پنت 13 فروری 1905ء کو المورا میں ایک کماؤنی مسیحی خاندان میں پیدا ہوئیں؛ پنت خاندان برہمن تھا جس نے تقریباً 1871ء میں عیسائیت قبول کی تھی۔ 2 انھوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کیا اور دہلی کے اندرا پرستھ کالج میں پڑھایا، جہاں 1931ء میں لیاقت علی خان سے ان کی ملاقات ہوئی۔ 1 1932ء میں ان کی شادی ہوئی؛ اردو مقالے کے مطابق جامع مسجد کے امام نے ان کا نکاح پڑھایا، آئرین نے اسلام قبول کیا اور ان کا نام گل رعنا رکھا گیا۔ 2 کسی بھی مستند ماخذ میں ان کا کوئی مسلک مذکور نہیں، اس لیے اس میوزیم میں ان کا مسلک درج نہیں کیا گیا۔ 1 2 3

    تحریکِ پاکستان اور اپوا

    رعنا تحریکِ پاکستان کی نمایاں خواتین میں سے تھیں اور محمد علی جناح کی تحریکی کمیٹی کی رکنِ عاملہ اور معاشی مشیر رہیں۔ 1 خاتونِ اول کی حیثیت سے انھوں نے نئی مملکت میں خواتین کی ترقی کے پروگرام شروع کیے۔ 1 1949ء میں انھوں نے آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا) قائم کی جو خواتین کے سماجی، تعلیمی اور صحتی کام کا سب سے بڑا ادارہ بنی۔ 2 1

    بعد کی زندگی اور وفات

    اپنے شوہر کے قتل (1951ء) کے بعد ان کا دو دہائیوں پر محیط سفارتی و سیاسی سفر شروع ہوا: 1952ء میں وہ اقوامِ متحدہ میں پہلی مسلم خاتون مندوب بنیں، 1954ء سے 1961ء تک ہالینڈ میں پاکستان کی پہلی خاتون سفیر رہیں، اور 1965ء–1966ء میں اٹلی اور تیونس میں سفیر رہیں۔ 1 1973ء میں ذو الفقار علی بھٹو نے انھیں سندھ کا گورنر مقرر کیا۔ 1 وہ 13 جون 1990ء کو کراچی میں وفات پا گئیں؛ انھیں «مادرِ پاکستان» کا لقب اور 1978ء میں اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق کا انعام ملا۔ 1 2

    حوالہ جات

    • مندرجہ بالا مذکور تعریف شدہ ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام بتائے جس سے ہر حقیقت بدلی ہو۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Spouse of
    لیاقت علی خان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    خواجہ ناظم الدین· محمد ظفر اللہ خان· لیاقت علی خان

    ماخذ

    1. Ra'ana Liaquat Ali Khan — English Wikipedia
    2. Ra'ana Liaquat Ali Khan — Urdu Wikipedia
    3. Ra'ana Liaquat Ali Khan — Wikidata Q1951764
    • Ra'ana Liaquat Ali Khan — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “رعنا لیاقت علی خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/raana-liaquat-ali-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    خواجہ ناظم الدین

    پاکستانی مدبر (1894ء–1964ء) جن کا تعلق ڈھاکہ کے نواب خاندان سے تھا، پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل (1948ء–1951ء) اور دوسرے وزیر اعظم (1951ء–1953ء)۔ بنگال کے وزیر اعظم (1943ء–1945ء) اور پھر مشرقی بنگال کے پہلے وزیر اعلیٰ رہے؛ محمد علی جناح کے بعد گورنر جنرل، لیاقت علی خان کے بعد وزیر اعظم اور ابو القاسم فضل الحق کے بعد بنگال کے وزیر اعظم بنے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔