پیر صبغت اللہ شاہ راشدی

صبغت الله شاه الراشدي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

صبغت اللہ شاہ راشدی دوم (1910ء–1943ء)، چھٹے پیر پگارو، سندھ کی حُر جماعت کے موروثی روحانی پیشوا۔ وہ تقریباً بارہ برس کی عمر میں والد کے جانشین بنے، ہندو مسلم اتحاد اور ہندوستان کی آزادی کی حمایت کی، اور منزل گاہ فسادات میں اپنے مسلح مریدوں کو ہندوؤں کی حفاظت کا حکم دیا؛ استعماری حکومت نے 20 مارچ 1943ء کو حیدرآباد کی مرکزی جیل میں انھیں پھانسی دی اور ان کی تدفین کی جگہ نامعلوم رہی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عباس محمود العقاد · عبد الجبار الجومرد · عبد القادر المغربي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    چھٹے پیر پگارو

    سید صبغت اللہ شاہ راشدی دوم، چھٹے پیر پگارو، سندھ کی حُر جماعت کے موروثی روحانی پیشوا تھے — حُر عربی لفظ ہے جس کے معنی «آزاد» ہیں، اور یہ جماعت ایک صوفی مسلم برادری بیان کی جاتی ہے۔1 وہ 1922ء میں تقریباً بارہ برس کی عمر میں والد کے جانشین بنے اور 1943ء تک اس منصب پر رہے۔1 ان کے مریدوں نے انھیں «سورہ بادشاہ» یعنی فاتح بادشاہ کا لقب دیا۔1

    اتحاد اور آزادی

    وہ ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے، پہلے انڈین نیشنل کانگریس اور پھر سبھاس چندر بوس کی آل انڈیا فارورڈ بلاک کی حمایت کی؛ بوس کے محور قوتوں کو پیش کردہ اصل منصوبے میں پیر پگارو اور فقیرِ ایپی کو ہندوستان آزاد کرانے کے لیے مسلح کیا جانا تھا۔1 وہ کہتے تھے کہ امن اسی وقت قائم ہو گا جب ہندو اور مسلمان متحد ہوں گے، اور ہندوستانیوں کو «قومی ذہن» رکھ کر ہندوستان کو سب باشندوں کا ملک سمجھنا چاہیے۔1 منزل گاہ فسادات کے دوران انھوں نے اپنے مسلح مریدوں، غازیوں، کو ہندوؤں کی حفاظت کا حکم دیا۔1

    پھانسی

    برطانوی استعماری حکومت نے 20 مارچ 1943ء کو حیدرآباد (سندھ) کی مرکزی جیل میں انھیں پھانسی دی؛ ویکی ڈیٹا موت کی وجہ پھانسی اور نوعیت سزائے موت درج کرتا ہے۔12 سندھ کے لوگوں کی حکومت سے درخواستوں کے باوجود ان کی تدفین کی جگہ نامعلوم رہی۔1 ان کا سالِ ولادت مختلف بتایا جاتا ہے — مضمون 1910ء، ویکی ڈیٹا 1909ء، اور فہرست 1908ء — اس لیے وہ ان کے ریکارڈ میں متنازع درج ہے۔12

    شناخت اور مذہب

    جو کچھ ثابت ہے وہ منصب اور جماعت ہے: انھوں نے لڑکپن میں پیر کا منصب ورثے میں پایا، اور جس جماعت کی انھوں نے قیادت کی وہ صوفی بیان کی جاتی ہے۔1 کسی پڑھے گئے متن میں ان کی اپنی بیعت، شاگردی یا سلسلۂ تعلیم ثابت نہیں، اور ان کے لیے ذاتی طور پر کسی سلسلے کا نام نہیں لیا گیا۔ وراثت سے ملی سربراہی ذاتی انتماء کی شہادت نہیں ہوتی، اس لیے ان کا مذہب تحفظ کے ساتھ «نامعلوم» درج ہے اور شہادت بانی کے فیصلے کے لیے ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔

    ماخذ

    1. Pir of Pagaro VI — English Wikipedia
    2. Pir Pagaro (Sibghatullah Shah Rashdi) — Wikidata Q6773809
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “پیر صبغت اللہ شاہ راشدی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/pir-pagaro/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔