ایک نظر میں
- کردار
- طبیب · psychiatrist · writer · activist
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
موجز
نوال السعداوی (27 اکتوبر 1931 – 21 مارچ 2021) مصری طبیبہ، ماہرِ نفسیات اور مصنفہ تھیں، جنہیں بریٹانیکا «عرب دنیا کی سیمون دی بووار» کے لقب سے یاد کرتی ہے؛ ان کی تحریریں اور پیشہ زندگی بھر خواتین کے سیاسی و جنسی حقوق کے لیے وقف رہیں۔ 1 2
تقریباً چالیس کتابوں میں انہوں نے طب کو ادب سے جوڑ کر ایک ہی مہم چلائی: نسوانی ختنے کے خلاف — جس سے وہ خود چھ سال کی عمر میں گزری تھیں — پدرانہ نظام کے خلاف، اور ان سیاسی و مذہبی حکام کے خلاف جنہوں نے انہیں بار بار خاموش کرنے کی کوشش کی۔ 2
زندگی اور پیشہ
وہ کفر طحلہ نامی گاؤں میں نو بچوں میں دوسرے نمبر پر پیدا ہوئیں؛ والد وزارتِ تعلیم کے اہلکار تھے، جنہیں 1919 کے انقلاب میں برطانوی قبضے کے خلاف آواز اٹھانے پر جلاوطنی اور دس سال ترقی روکے جانے کی سزا ملی، اور انہوں نے بیٹی کو خودداری اور رائے کی آزادی سکھائی۔ 2
1955 میں انہوں نے جامعہ قاہرہ سے طب کی ڈگری لی، اپنے گاؤں میں طبی مشق کے دوران دیہی خواتین کی مشکلات قریب سے دیکھیں، اور ایک مریضہ کو گھریلو تشدد سے بچانے کی کوشش پر انہیں قاہرہ واپس بلا لیا گیا؛ بعد میں وہ وزارتِ صحت میں صحت تعلیم کی سربراہ بنیں اور 1966 میں کولمبیا یونیورسٹی سے عوامی صحت میں ماسٹرز کیا۔ 2 1
ان کی پہلی غیر افسانوی کتاب «عورت اور جنس» (1969) نے سیاسی و مذہبی حکام کو ناراض کیا اور انہیں وزارت سے نکال دیا گیا — بریٹانیکا اس اخراج کی تاریخ 1972 بتاتی ہے — اور 1973 تا 1976 وہ عین شمس یونیورسٹی میں خواتین اور نفسیاتی امراض پر تحقیق کرتی رہیں، جبکہ 1979–1980 میں اقوامِ متحدہ کی مشیر رہیں۔ 2 1
1981 میں صدر سادات نے انہیں قناطر خواتین جیل میں قید کیا، جہاں قلم و کاغذ سے محروم ہو کر انہوں نے ابرو کے پنسل سے بیت الخلا کے کاغذ پر لکھا؛ سادات کے قتل کے ایک ماہ بعد رہا ہوئیں اور یہ تجربہ ان کی کتاب «خواتین جیل کی یادداشتیں» (1983) بنا۔ جیل ہی میں انہوں نے عرب خواتین یکجہتی ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی، جو 1982 میں باقاعدہ قائم ہوئی اور مصر کی پہلی قانونی آزاد نسوانی تنظیم تھی؛ حکومت نے 1991 میں اسے بند کر دیا۔ 2 1
1993 میں جان کے خطرے کے پیشِ نظر وہ مصر چھوڑ گئیں، ڈیوک اور واشنگٹن سمیت کئی مغربی جامعات میں پڑھایا اور 1996 میں واپس آئیں؛ 2002 میں ایک وکیل نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسلام ترک کر دیا ہے اور اس بنیاد پر ان کی شادی ختم کرانے کی کوشش کی، اور 2008 میں ان کی شہریت ختم کرنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔ 2 1
تصانیف اور آراء
ان کی مشہور ترین تصانیف میں ناول «نقطۂ صفر پر عورت» (1975)، «حوا کا پوشیدہ چہرہ» (1977)، «امام کا زوال» (1987) اور سوانحی تحریریں شامل ہیں، اور ان کی کتابیں تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوئیں۔ 2 1
وہ خود کو «اشتراکی نسوانیت پسند» کہتی تھیں؛ 2014 کی ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ خواتین پر ظلم کی جڑ عالمی سرمایہ دارانہ نظام ہے جسے مذہبی بنیاد پرستی سہارا دیتی ہے۔ 2
2015 کے حج حادثے پر انہوں نے شیطان کو کنکریاں مارنے اور حجر اسود کو چومنے پر کھلے سوالات اٹھائے، ایسے عناصر کو قبل از اسلام رسم بتایا، اور مذہب پر تنقید سے ہچکچاہٹ کو سنسرشپ قرار دیا؛ حجاب کو انہوں نے «خواتین پر ظلم کا آلہ» کہا، تعددِ ازواج اور وراثت میں عدم مساوات کی مخالفت کی، اور اسکولوں میں مذہبی تعلیم ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف، 2007 میں ختنے کے دوران مرنے والی بچی پر انہوں نے لکھا تھا کہ «صحیح مذہب بچوں کے اعضاء نہیں کاٹتا»۔ 2 3
عقیدہ و نسبت
یہ حصہ مآخذ میں درج ان کے عقیدے کو بیان کرتا ہے؛ یہ میوزیم کا فیصلہ نہیں۔
ویکی ڈیٹا ان کا مذہب الحاد درج کرتا ہے اور عربی ویکیپیڈیا کا معلوماتی خانہ بھی یہی کہتا ہے، مگر وہ خانہ خود ویکی ڈیٹا ہی سے لیا گیا ہے، اس لیے یہ دو آزاد شہادتیں نہیں بلکہ ایک ہی ماخذ خاندان ہے۔ 4 3
انگریزی مقالہ اور بریٹانیکا ان کا کوئی مذہبی انتماء درج نہیں کرتے؛ وہ انہیں مذہبی بنیاد پرستی کی بے باک ناقد کے طور پر پیش کرتے ہیں، جن پر مخالفین نے عدالتوں میں بار بار ارتداد کا الزام لگایا اور عدالتیں وہ الزام مسترد کرتی رہیں۔ اسی بنا پر میوزیم ان کا عقیدہ «نامعلوم» درج کرتا ہے اور ان کی آراء کو مآخذ کے الفاظ میں، منسوب کر کے پیش کرتا ہے۔ 2 1
وفات اور اعزازات
ان کا انتقال 21 مارچ 2021 کو قاہرہ میں ہوا اور انہیں 6 اکتوبر سٹی میں خاندانی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ 2 3
اعزازات میں کونسل آف یورپ کا نارتھ–ساؤتھ انعام (2004)، انانا بین الاقوامی انعام (2005)، برسلز و میکسیکو کی جامعات کی اعزازی ڈاکٹریٹیں، سٹیگ ڈاگرمن انعام (2011)، شون مک برائڈ امن انعام (2012) اور بی بی سی کی «100 خواتین» فہرست (2015) شامل ہیں۔ 2
المراجع
- انگریزی ویکیپیڈیا کا مقالہ (نظرثانی 1380913352)؛ عربی ویکیپیڈیا کا مقالہ (نظرثانی 76661130)؛ اردو ویکیپیڈیا کا مقالہ (نظرثانی 9653893 — صرف سوانحی خاکے کے لیے؛ اس کا غیر مصدقہ جدلی «عقائد» حصہ کہیں استعمال نہیں ہوا)؛ ویکی ڈیٹا مد Q238514؛ بریٹانیکا مدخل «Nawal El Saadawi»۔ «عورت اور جنس» کی تاریخ (1969 یا 1972) میں مآخذ کا اختلاف ریکارڈ میں درج ہے۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ
ماخذ
- Nawal El Saadawi — Encyclopaedia Britannica
- Nawal El Saadawi — English Wikipedia
- Nawal El Saadawi — Arabic Wikipedia
- Nawal El Saadawi — Wikidata Q238514
- Nawal El Saadawi — Urdu Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “نوال السعداوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nawal-el-saadawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.