ایک نظر میں
- کردار
- reciter
- خطہ
- egypt-nile
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
مصطفٰی محمد مرسی اسماعیل (17 جون 1905 – 26 دسمبر 1978) مصری قارئِ قرآن تھے، جنہیں عبد الباسط عبد الصمد، محمد صدیق المنشاوی اور محمود خلیل الحصری کے ساتھ بیسویں صدی کے چار نمایاں مصری قراء میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی تلاوتیں مصری ریڈیو سے نشر ہوئیں اور مصر و بیرونِ ملک دینی و سرکاری تقریبات میں پیش ہوئیں؛ شاہ فاروق نے انہیں شاہی محل کا قارئ چنا اور صدر جمال عبد الناصر نے انہیں اعزاز دیا۔12
ابتدائی زندگی اور تربیت
وہ 17 جون 1905 کو طنطا کے قریب گاؤں میت غزال میں پیدا ہوئے اور دادا کی پرورش میں پلے۔ اردو مقالے کے مطابق وہ 1911 میں شیخ عبد الرحیم ابوالعینین کے مدرسے میں داخل ہوئے، 1913 میں شیخ عبد اللہ کے مدرسے گئے، دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا اور 1917 میں شیخ ادریس فاخر سے تجوید و تلاوت میں سند حاصل کی۔ عربی مقالہ مزید بتاتا ہے کہ انہوں نے بارہ سال سے پہلے حفظ مکمل کیا اور طنطا کے احمدی انسٹی ٹیوٹ میں قراءتوں اور احکامِ تلاوت کی تعلیم حاصل کی۔12
شاہی محل اور ریڈیو
1920 سے 1925 کے دوران وہ مصر کے دیہات میں بے حد مقبول ہوئے۔ اردو مقالے کے مطابق 1943 میں انہوں نے قاہرہ میں تلاوت شروع کی، اور 1944 میں ریڈیو پر ان کی تلاوت سن کر شاہ فاروق اتنے متأثر ہوئے کہ اس کے بعد ہر رمضان میں شاہی محل سے خصوصی تلاوت کے پروگرام ہونے لگے؛ عربی مقالہ بتاتا ہے کہ بادشاہ نے انہیں محل کا قارئ مقرر کیا حالانکہ وہ ابھی ریڈیو سے منظور شدہ نہیں تھے، چنانچہ وہ بغیر امتحان ریڈیو میں ریکارڈ ہونے والے پہلے قاری بنے۔ 1947 میں انہیں جامع الازہر کا قارئ مقرر کیا گیا، جو ایک اعزاز تھا۔12
سفر اور اعزازات
انہوں نے بے شمار غیر ملکی سفر کیے، جن میں ترکی کا دورہ بھی شامل ہے جہاں سامعین کی رقت آمیز کیفیت نے انہیں خاص طور پر متأثر کیا۔ 1965 میں صدر جمال عبد الناصر نے انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا، اور 1977 میں صدر انور سادات کے ہمراہ یروشلم کے دورے میں انہیں بیت المقدس میں تلاوت کا شرف حاصل ہوا۔ انہیں مصر اور دیگر ممالک کے بے شمار ایوارڈ ملے؛ عربی مقالہ لبنان کے وسام الارز (1958)، وسام الفنون (1965) اور شام و ملیشیا و تنزانیہ کے اعزازات ذکر کرتا ہے۔12
انداز
وفات
ایمانی ریکارڈ
عجائب گھر ان کا مذہب نامعلوم درج کرتا ہے۔ انگریزی مقالے کے خانہ معلومات میں ان کا فرقہ سنی اور عربی مقالے کے خانے میں اہل السنہ والجماعہ درج ہے، لیکن کوئی مقالہ متن میں ان کے لیے کوئی مکتب نامزد نہیں کرتا، کہیں ان کا فقہی مذہب مذکور نہیں، اور وکی ڈیٹا صرف اسلام دیتا ہے۔ دو خانے اور ایک منظم قیمت ایک ہی منظم روایت ہے، دو آزاد شہادتیں نہیں۔123
ماخذ
- اوپر مذکور متعین ماخذ اکائیاں،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مقالے کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور ہر واقعہ بدلنے والے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔
تعلقات
- Died in
- الإسكندرية
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
خلاف أهل الإسكندرية واستردادها· الزلزلة العظمى سنة 180· ابن جبير يصل الإسكندرية· خروج نزار بن المستنصر بالإسكندرية وقمعه سنة 495· عبد اللہ الندیم· أبو العباس القرطي· احمد عصمت عبد المجید· احمد زویل
ماخذ
- Mustafa Ismail — Urdu Wikipedia
- Mustafa Ismail — Arabic Wikipedia
- Mustafa Ismail — Wikidata Q4116099
- Mustafa Ismail — English Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “مصطفی اسماعیل”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mustafa-ismail/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.