محمد یوسف کاندھلوی

محمد يوسف الكاندهلوي

–

لاهور → دلهي

بھارتی عالم (1917ء–1965ء) جن کا تعلق کاندھلہ سے تھا، تبلیغی جماعت کے بانی محمد الیاس کاندھلوی کے فرزند اور ان کے بعد جماعت کے دوسرے امیر۔ دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا اور 1936ء میں مظاہر علوم سہارنپور سے فارغ ہوئے، والد کی وفات (1944ء) کے بعد جماعت کا نظام مرتب کیا اور اس کے کام کو وسعت دی، «حیاۃ الصحابہ» اور «امانی الاحبار» تصنیف کیں، 1965ء میں لاہور میں انتقال ہوا اور دہلی میں والد کے پہلو میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · واعظ · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحلیم محمود · عبد الجبار الجومرد · عبد الرحمن بدوي · عبد الرزاق نوفل · عبد الله بن الصديق الغماري

مکان میں

لاهوردلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد یوسف کاندھلوی (20 مارچ 1917ء – 2 اپریل 1965ء) بھارتی عالم دین، تبلیغی جماعت کے بانی محمد الیاس کاندھلوی کے فرزند اور ان کے بعد جماعت کے دوسرے امیر تھے۔12 ان کی تصانیف میں «حیاۃ الصحابہ» اور «امانی الاحبار فی شرح معانی الآثار» شامل ہیں۔1

    ابتدائی زندگی و تعلیم

    آپ کی ولادت کاندھلہ میں 25 جمادی اولیٰ 1335ھ بمطابق 20 مارچ 1917ء کو ہوئی؛ اس وقت آپ کے والد مظاہر علوم سہارنپور میں مدرس تھے۔1 دس سال کی عمر میں حافظ امام خان میواتی سے قرآن حفظ کیا، اور سید حسین احمد مدنی کے بڑے بھائی سید احمد فیض آبادی نے مدینہ منورہ سے آپ کے لیے حفظ کی اعزازی سند بھیجی۔12 فقہ کی کتابیں کنز الدقائق تک حافظ مقبول حسن گنگوہی سے پڑھیں، پھر مظاہر علوم سہارنپور میں داخل ہو کر صحاح پڑھیں — سنن ابی داؤد محمد زکریا کاندھلوی سے — اور 1936ء میں بیس سال کی عمر میں فارغ ہوئے۔1 1935ء میں آپ کا نکاح محمد زکریا کاندھلوی کی بڑی صاحبزادی سے ہوا۔1

    تبلیغی جماعت کی امارت

    والد کی وفات (1944ء) کے بعد آپ جماعت کے دوسرے امیر مقرر ہوئے؛ چلہ اور چار ماہ وغیرہ کی ترتیب انہی کی بنائی ہوئی سمجھی جاتی ہے، اور آپ کے دور میں مسجد نبوی سے بیرونی تبلیغی اسفار شروع ہوئے۔1 مرکز نظام الدین، دہلی میں آپ کے بیان سننے کے لیے ہندو بھی بکثرت آتے تھے۔1

    تصانیف

    ان کی کتب میں «حیاۃ الصحابہ» (تین جلدیں، عربی)، «امانی الاحبار فی شرح معانی الآثار» (چار جلدیں) اور «منتخب احادیث» شامل ہیں۔12

    وفات

    پاکستان کے سفر کے دوران لاہور کے اجتماع میں طبیعت خراب ہوئی اور 29 ذی قعدہ 1384ھ بمطابق 2 اپریل 1965ء کو انتقال ہوا۔1 دہلی میں نماز جنازہ محمد زکریا کاندھلوی نے پڑھائی، کم از کم دو لاکھ افراد شریک ہوئے، اور آپ والد محمد الیاس کاندھلوی کے پہلو میں دفن ہوئے۔23

    حوالہ جات

    {1} {2} {3} {4}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    محمد الیاس کاندھلوی
    Died in
    لاهور
    Buried in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الطاف حسین حالی· محمود حسن دیوبندی· محمد حسین آزاد· محمد الیاس کاندھلوی· دلهي· مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· الديوبندية

    ماخذ

    1. Muhammad Yusuf Kandhlawi — Urdu Wikipedia
    2. Muhammad Yusuf Kandhlawi — English Wikipedia
    3. Muhammad Yusuf Kandhlawi — Arabic Wikipedia
    4. Muhammad Yusuf Kandhlawi — Wikidata Q6932805
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد یوسف کاندھلوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-yusuf-kandhlawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الطاف حسین حالی

    اردو کے شاعر اور مصنف (1837ء–1914ء) جن کا تعلق پانی پت سے تھا اور جو سر سید احمد خان کے علی گڑھ حلقے سے وابستہ رہے۔ انھوں نے «مسدس حالی» (1879ء) لکھی، جو اسلام کے مد و جزر پر رثائی نظم ہے، اردو کی پہلی ادبی تنقید «مقدمہ شعر و شاعری» لکھی، اور غالب، سعدی اور سر سید کی سوانح لکھیں۔