مرزا غیاث بیگ

ميرزا غياث بك

تقریباً 1544 عیسوی · تقریباً 951 ھ† – †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

مغل دربار کے فارسی النسل وزیر (تقریباً 1544ء–1622ء)، خواجہ محمد شریف کے سب سے چھوٹے صاحبزادے، جو صفوی دربار کے وزیر و شاعر تھے۔ تہران میں پیدا ہوئے؛ 1576ء میں والد کی وفات کے بعد خاندان کی حالت بگڑی تو ہندوستان ہجرت کی۔ راستے میں لوٹے گئے، قندھار میں بیٹی مہر النساء (بعد ازاں نور جہاں) پیدا ہوئی اور تاجر مالک مسعود نے پناہ دی اور بعد میں اکبر کی خدمت میں داخل کرایا۔ اکبر نے انھیں کابل کا دیوان بنایا اور «اعتماد الدولہ» کا لقب دیا؛ جہانگیر — جس نے 1611ء میں ان کی بیٹی نور جہاں سے شادی کی — کے عہد میں 1611ء سے 1621ء تک وکیلِ سلطنت (وزیر اعظم) رہے۔ یہ نور جہاں اور آصف خان کے والد اور ممتاز محل کے نانا تھے۔ 1622ء میں کانگڑہ کے قریب وفات پائی اور آگرہ میں دفن ہوئے، جہاں نور جہاں نے مقبرۂ اعتماد الدولہ بنوایا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
وزیر
خطہ
persia-central-asia · south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1525عیسوی1550عیسوی1575عیسوی1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی تقریباً
إمبراطوريات البارود ہم عصر: پانمباہان راتو · بهاء الدين العاملي (البهائي) · الشنہاجی الفشتالی · سيد قاسم كوباري · عبد الحق الدهلوي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ہجرت

    راستے میں خاندان لوٹ لیا گیا اور صرف دو خچر باقی رہ گئے۔ قندھار میں ان کی اہلیہ عصمت بیگم کے ہاں بیٹی مہر النساء پیدا ہوئی — یہی بعد میں نور جہاں بنیں، مغل دربار کی سب سے با اثر خاتون — اور تاجر مالک مسعود نے بے سہارا خاندان کو پناہ دی اور بعد میں غیاث بیگ کو اکبر کی خدمت میں داخل کرایا 1۔

    عروج

    اکبر نے انھیں کابل کا دیوان (خزانچی) بنایا اور مالی مہارت پر «اعتماد الدولہ» یعنی ستونِ سلطنت کا لقب دیا۔ جہانگیر کے عہد میں، جس نے 1611ء میں ان کی بیٹی نور جہاں سے شادی کی، وہ 1611ء سے 1621ء تک پوری سلطنت کے وکیل (وزیر اعظم) رہے اور 6,000 کے منصب تک پہنچے۔ ان کے بیٹے ابوالحسن آصف خان بڑے سپہ سالار اور پھر شاہ جہاں کے وزیر اعظم بنے؛ یوں غیاث بیگ ممتاز محل کے نانا بھی تھے 12۔

    وفات اور مقبرہ

    انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا ان کی وفات کانگڑہ کے قریب 1031ھ/1622ء بتاتا ہے، جبکہ موجودہ انگریزی مضمون جنوری 1621ء دیتا ہے؛ اس ریکارڈ میں ایرانیکا کی تاریخ اختلاف کی نشاندہی کے ساتھ اختیار کی گئی ہے۔ ان کی میت آگرہ لائی گئی اور جمنا کے بائیں کنارے دفن کی گئی، جہاں نور جہاں نے بعد میں مقبرۂ اعتماد الدولہ (1622ء–1628ء) بنوایا، جو تاج محل کی پیش رو عمارتوں میں شمار ہوتا ہے 21۔

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • وزیر · اصل پیشہ · بغیر تاریخ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    ابوالحسن آصف خان· نور جهان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابوالحسن آصف خان· نور جهان· شائستہ خان· لاهور

    ماخذ

    1. ویکیپیڈیا (انگریزی)، «مرزا غیاث بیگ»
    2. انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا، «غیاث بیگ، اعتماد الدولہ» (شکوہی، 2001ء)
    • ویکیپیڈیا (عربی)، «مرزا غیاث بیگ»
    • ویکیپیڈیا (اردو)، «مرزا غیاث بیگ»
    • ویکی ڈیٹا، «Mirza Ghiyas Beg»
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مرزا غیاث بیگ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mirza-ghiyas-beg/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابوالحسن آصف خان

    ابوالحسن آصف خان (تقریباً 1569ء–1641ء)، فارسی نژاد مغل امیر، مرزا غیاث بیگ کے بیٹے، نور جہاں کے بڑے بھائی اور ارجمند بانو بیگم (ممتاز محل) کے والد؛ جہانگیر کے وکیل اور شاہ جہاں کے وزیرِ اعظم رہے، لاہور کے شاہدرہ باغ میں ان کا مقبرہ ہے۔