پانمباہان راتو

بانمباهان راتو

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

جاوا کے شمالی ساحل پر واقع چیربون کے تیسرے سلطان، جنھوں نے 79 سال حکومت کی (1570–1649ء)۔ پیدائشی نام زین العارفین تھا؛ انھوں نے چیربون کو بنتن اور مطرم کے درمیان خوش حال اور غیر جانبدار رکھا، 1619ء میں مطرم کی بالادستی قبول کی، اور آستانا گونونگ سمبونگ میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1525عیسوی1550عیسوی1575عیسوی1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی تقریباً
إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد الحق الدهلوي · زكريا زاده يحيى أفندي · مير فندرسكي · عبد الحق أمانت خان · مرزا غیاث بیگ

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    پانمباہان راتو اول، جن کا پیدائشی نام زین العارفین تھا، جاوا کے شمالی ساحل پر واقع چیربون کے تیسرے سلطان تھے اور انھوں نے 1570ء سے 1649ء تک 79 سال حکومت کی — یہ جاوا کی تاریخ کے طویل ترین ادوار میں سے ایک ہے۔ 1 2

    تخت نشینی اور دورِ حکومت

    وہ 1570ء میں 23 سال کی عمر میں سونن گونونگ جاتی کی نسل سے تخت پر بیٹھے، جبکہ اس سے پہلے فتح اللہ دو سال (1568–1570ء) نائب کی حیثیت سے حکومت سنبھالے رہے۔ 1 ان کے عہد میں چیربون کی بندرگاہیں غیر ملکی حملوں سے محفوظ رہیں اور سلطنت سترہویں صدی کا ایک اہم تجارتی مرکز بن گئی؛ 1579ء میں بنتن کے سونڈا مملکت فتح کرنے کے بعد دونوں نے اس کا علاقہ دریائے چیتاروم کے ساتھ بانٹ لیا، اور 1585–1588ء کے لگ بھگ سومیدانگ سے ایک تنازع بھی ہوا۔ 1

    مطرم اور بنتن کے درمیان

    1586ء سے مشرق میں اقتدار کا مرکز پاجانگ سے مطرم منتقل ہو گیا۔ مطرم کے پہلے حکمران سوتاوِجایا نے پانمباہان راتو سے دوستانہ سلوک کیا، لیکن سلطان آگونگ نے 1619ء میں چیربون کو اپنا باج گزار بنا لیا اور اسے باتاویا کے خلاف اپنا بڑا بحری اڈا بنایا۔ 1 پھر بھی سلطان نے چیربون کو باہم دشمن بنتن اور مطرم کے درمیان غیر جانبدار رکھا، اور سلطان آگونگ انھیں اپنا استاد یاد کرتا تھا۔ فنون میں انھوں نے 1649ء میں سنگا بارونگ گاڑی بنوائی۔ 1

    وفات

    تقریباً 79 سال حکومت کے بعد وہ 1649ء میں اس بیماری سے وفات پا گئے جو سلطان آگونگ سے ملاقات کے سفر میں لاحق ہوئی تھی، اور آستانا گونونگ سمبونگ میں دفن ہوئے۔ 1 2 ان کے بیٹے آدیننگ کوسوما ان سے پہلے وفات پا چکے تھے، سو تخت ان کے پوتے پانگیران کریم کو ملا جو پانمباہان راتو دوم کے نام سے حکمران بنے۔ 1

    مذہب

    انڈونیشی مضمون کے خانے میں ان کا مذہب ’اسلام اور سنی‘ درج ہے اور ویکی ڈیٹا ’اسلام‘ اور ’تصوف‘ بتاتا ہے؛ پڑھے گئے کسی ماخذ نے ان کا فقہی مسلک نہیں بتایا، اس لیے ان کا ریکارڈ اسی درجے کی تصدیق پر رکھا گیا ہے۔ 1 2

    ماخذ

    1. Panembahan Ratu I — Indonesian Wikipedia
    2. Panembahan Ratu I — Wikidata
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “پانمباہان راتو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/panembahan-ratu/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔