ملالہ یوسفزئی

ملالا يوسفزي

پاکستانی لڑکیوں کی تعلیم کی کارکن اور فلم و ٹیلی ویژن پروڈیوسر، تاریخ کی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ۔ انہوں نے گیارہ برس کی عمر میں مستعار نام سے بی بی سی اردو کے لیے بلاگ لکھنا شروع کیا، 2012ء میں طالبان کے قاتلانہ حملے میں بچ گئیں، پھر «ملالہ فنڈ» کی شریک بانی بنیں، کتاب «میں ہوں ملالہ» لکھی، اور 2014ء میں سترہ برس کی عمر میں نوبل امن انعام پایا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الرحمن بدوي · عبد العزیز بوتفلیقہ

کہانی میں مقام

    سنی (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    موجز

    ملالہ یوسفزئی (پیدائش 12 جولائی 1997ء) پاکستانی لڑکیوں کی تعلیم کی کارکن اور فلم و ٹیلی ویژن پروڈیوسر ہیں، اور تاریخ کی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ: انہوں نے 2014ء میں سترہ برس کی عمر میں نوبل امن انعام پایا۔ وہ سوات میں مستعار نام «گل مکئی» سے بی بی سی اردو کے لیے بلاگ لکھ کر مشہور ہوئیں، اور 2012ء میں طالبان کے قاتلانہ حملے کے بعد لڑکیوں کی تعلیم کی عالمی علامت بن گئیں۔ 1 2

    نشأة اور تعلیم

    وہ مینگورہ، سوات میں ایک متوسط سنی مسلمان پشتون گھرانے میں پیدا ہوئیں؛ ان کے والد ضیاء الدین یوسفزئی تعلیمی کارکن اور اسکول کے مالک ہیں۔ انہوں نے برمنگھم کے ایجباسٹن ہائی اسکول سے ثانوی تعلیم مکمل کی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال سے فلسفہ، سیاست اور معاشیات میں 2020ء میں گریجویشن کیا۔ 1

    حملہ اور عالمی کام

    9 اکتوبر 2012ء کو سوات میں اسکول بس میں طالبان کے ایک مسلح شخص نے انہیں گولی ماری؛ علاج کے لیے وہ برمنگھم منتقل ہوئیں۔ اس حملے نے دنیا بھر میں حمایت کی لہر پیدا کی، اور پاکستان کے پچاس سرکردہ علما نے قاتلوں کے خلاف فتویٰ جاری کیا۔ صحت یابی کے بعد انہوں نے شیزا شاہد کے ساتھ «ملالہ فنڈ» قائم کیا، 12 جولائی 2013ء کو اقوامِ متحدہ سے خطاب کیا، اور کتاب «میں ہوں ملالہ» (2013ء) لکھی۔ وہ فلم و ٹیلی ویژن پروڈکشن میں بھی سرگرم ہیں، جن میں ایپل ٹی وی پلس کے لیے پروگراموں کا معاہدہ شامل ہے۔ 1

    اعزازات اور اثر

    انہیں 2013ء میں ساخاروف انعام اور 2014ء میں کیلاش ستیارتھی کے ساتھ نوبل امن انعام ملا؛ وہ نوبل پانے والی دوسری پاکستانی اور واحد پشتون ہیں۔ ان کا فنڈ کئی ملکوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے منصوبے چلاتا ہے، اور ان کی کتاب و تقاریر لاکھوں قارئین و ناظرین تک پہنچیں۔ 1

    المراجع

    • اوپر درج شدہ معروف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    ضیاء الدین یوسفزئی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ضیاء الدین یوسفزئی

    ماخذ

    1. Malala Yousafzai — English Wikipedia
    2. Malala Yousafzai — Arabic Wikipedia
    • Malala Yousafzai — Wikidata Q32732
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ملالہ یوسفزئی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/malala-yousafzai/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ضیاء الدین یوسفزئی

    ضیاء الدین یوسفزئی (پیدائش 20 اپریل 1969ء) پاکستانی تعلیمی کارکن ہیں؛ انہوں نے سوات میں کم فیس نجی اسکولوں کا سلسلہ قائم کیا جو لڑکیوں کے لیے بھی کھلا تھا، اور وہ نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے والد کے طور پر دنیا بھر میں جانے گئے، جنہیں انہوں نے طالبان کے مقابل لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے کی ترغیب دی۔ وہ ملالہ فنڈ کے شریک بانی اور کتاب «Let Her Fly» (2018ء) کے مصنف ہیں۔