محمود خلیل الحصری

محمود خليل الحصري

–

القاهرة

مصری قاری قرآن اور قراءات کے عالم (1917ء–1980ء)، طنطا کے قریب گاؤں شبرا النملہ میں پیدا ہوئے۔ وہ پہلے قاری تھے جنھوں نے مکمل قرآن ترتیل کے انداز میں ریکارڈ کیا (روایت حفص، 1961ء)؛ انھوں نے ورش، قالون اور دوری کی روایات بھی ریکارڈ کیں، مصر کے شیخ المقاری رہے، الازہر میں تدریس کی اور علوم قرآن پر بارہ کتابیں لکھیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
reciter · عالم · writer
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي · عبد الرزاق نوفل · عبد الله بن الصديق الغماري · عبد العزيز ملازاده

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمود خلیل الحصری (17 ستمبر 1917ء – 24 نومبر 1980ء) ایک مصری قاری قرآن اور قراءات کے عالم تھے، طنطا کے قریب الغربیہ گورنریٹ کے گاؤں شبرا النملہ میں پیدا ہوئے۔ 1944ء میں مصری ریڈیو کے مقابلے میں اول آئے، قاہرہ کی مسجد امام حسین میں دہائیوں تک قاری رہے، اور وہ پہلے قاری تھے جنھوں نے مکمل قرآن ترتیل کے انداز میں ریکارڈ کیا؛ پھر ورش، قالون اور دوری کی روایات بھی ریکارڈ کیں۔ الازہر میں تدریس کی، مصر کے شیخ المقاری رہے، علوم قرآن پر بارہ کتابیں لکھیں، اور وہ المنشاوی، عبد الباسط اور مصطفی اسماعیل کے ساتھ جدید مصر کے عظیم قاریوں کی چوگردی میں شمار ہوتے ہیں۔12

    ابتدائی زندگی

    وہ 1 ذی الحجہ 1335ھ مطابق 17 ستمبر 1917ء کو شبرا النملہ میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد السید خلیل ان کی پیدائش سے پہلے الفیوم سے آ کر بس گئے تھے؛ ان کی والدہ فرح تھیں جنھیں گاؤں والے محبت سے فرحہ کہتے تھے۔ چار سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے اور عربی مضمون کے مطابق آٹھ سال کی عمر میں حفظ مکمل کیا — انگریزی مضمون نو یا گیارہ سال بتاتا ہے۔ روزانہ گاؤں سے طنطا کی مسجد احمدی پیدل جا کر حفظ جاری رکھا، بارہ سال کی عمر میں طنطا کے دینی ادارے میں داخل ہوئے، پھر الازہر میں قراءات عشرہ کی تعلیم پائی، اس علم کی اسناد لیں اور علوم قرآن کے مطالعے کے لیے وقف ہو گئے۔23

    ریڈیو و مساجد کی خدمت

    1944ء میں مصری ریڈیو کے قرآن تلاوت مقابلے میں شرکت کی جس میں تقریباً دو سو امیدوار تھے، جن میں محمد رفعت، علی محمود و عبد الفتاح الشعشاعی جیسے ماہرین شامل تھے، اور اول رہے؛ ان کی پہلی نشریات 16 فروری 1944ء کو ہوئی۔ طنطا کی مسجد احمدی کے قاری مقرر ہوئے — انگریزی مضمون یہ تقرری 1945ء بتاتے ہوئے ایک مخالف روایت کا ذکر کرتا ہے جس کے مطابق وہ پورے دس سال وہاں رہے، جب کہ عربی مضمون اسے 1950ء بتاتا ہے — اور 1948ء میں مسجد سیدی حمزہ کے مؤذن پھر مقرئ بنے اور الغربیہ صوبے کے تلاوت مراکز کی نگرانی کی۔ 1955ء میں قاہرہ کی مسجد الامام الحسین کے قاری مقرر ہوئے اور انگریزی مضمون کے مطابق انتیس سال، اپنی وفات تک، وہیں خدمت کی۔32

    الازہر میں

    جامعہ الازہر میں تعلیم بھی پائی اور تدریس بھی کی۔ 1960ء میں مجمع البحوث الاسلامیہ کے اس شعبے کے سربراہ بنے جو الازہر کی کتب خانوں میں موجود مصاحف کی تصحیح کرتا تھا، اور حدیث و قرآن پر اسلامی تحقیقات کے بورڈ کے رکن مقرر ہوئے۔ الازہر نے 1957ء میں انھیں «شیخ المقاری» کا لقب دیا؛ عربی مضمون انھیں مصر کی تمام قراءت درسگاہوں کے سابق شیخ (شیخ عموم المقاری المصریہ) کہتا ہے۔32

    ریکارڈنگز و تصانیف

    وہ پہلے قاری تھے جنھوں نے مکمل قرآن ترتیل کے انداز میں ریکارڈ کر کے نشر کیا (مصحف مرتل): روایت حفص 1961ء میں، روایت ورش 1964ء میں، اور روایات قالون و الدوری 1968ء میں؛ اسی سال «المصحف المعلم» ریکارڈ کیا جو تدریسی مقصد کی ترتیل ہے؛ مجود انداز کی ریکارڈنگز بھی موجود ہیں۔ علوم قرآن پر ان کی بارہ کتابیں ہیں جن کا مقصد — انگریزی مضمون کے مطابق — متن و اسالیب تلاوت کو تحریف سے محفوظ رکھنا تھا۔3

    اعزازات و اسفار

    1967ء میں صدر جمال عبد الناصر نے انھیں مصر کا تمغۂ اعزاز برائے فنون و علوم، درجہ اول، عطا کیا اور اسی سال وہ قراء قرآن کی اسلامی عالمی لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔ 1960ء میں پاکستان و بھارت کا سفر کیا — وہ پہلے مصری قاری تھے جنھوں نے ایسا کیا — اور ایک کانفرنس میں تلاوت کی جس میں وزیر اعظم جواہر لال نہرو و صدر ناصر حاضر تھے؛ شیخ الازہر کے اسفار میں بھی ان کے ہمراہ رہے۔ 1976ء میں لندن کے «عالم اسلام میلے» میں شریک ہوئے اور 1977ء میں امریکی کانگریس کے سامنے و اقوام متحدہ میں تلاوت کی۔3

    اعتقاد کا ریکارڈ

    کوئی مصدر ان کے لیے کوئی مسلک نام لے کر نہیں بتاتا۔ انگریزی معلوماتی خانہ ان کا فرقہ سنی بتاتا ہے اور عربی و اردو خانے ان کا عقیدہ اہل سنت و الجماعہ بتاتے ہیں جب کہ ان کے مذہب کے خانے خالی ہیں، اور ويكيڈاتا میں دین کی کوئی قیمت ہی نہیں؛ متحف ان کا انتماء «نامعلوم» درج کرتا ہے، کیونکہ یہ خانے ایک ہی منظم روایت ہیں، اور تفصیل ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں محفوظ ہے۔32

    وفات

    ان کا انتقال پیر کی شام، نماز عشاء کے بعد، 16 محرم 1401ھ مطابق 24 نومبر 1980ء کو ہوا — انگریزی معلوماتی خانے و فرانسیسی مضمون کے مطابق قاہرہ میں — قرآن کے ساتھ تقریباً پچپن سالہ رفاقت کے بعد۔23

    مصادر

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین مصدری ادارے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کی بعد کی ترجموں و ترمیموں کی تاریخ اور ہر تبدیلی کے مصدر کا نام درج ہونا ضروری ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    القاهرة
    Lived in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Mahmoud Khalil al-Hussary — Urdu Wikipedia
    2. Mahmoud Khalil al-Hussary — Arabic Wikipedia
    3. Mahmoud Khalil al-Hussary — English Wikipedia
    • Mahmoud Khalil al-Hussary — French Wikipedia
    • Mahmoud Khalil al-Hussary — Wikidata Q6734373
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمود خلیل الحصری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mahmoud-khalil-al-hussary/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.