خورشید بانو ناتوان

خورشيدبانو ناتوان

–

آذربائیجانی شاعرہ اور صاحبِ خیر (1832–1897)، قاراباغ کے آخری خان مہدی قلی خان کی بیٹی اور اکلوتی وارث، آذربائیجان کی نمایاں غزل گو شاعرات میں سے ایک؛ آذربائیجانی اور فارسی میں لکھا۔ انہوں نے شوشا میں ادبی مجلس «مجلسِ انس» قائم کی، شہر تک پانی کی پہلی لائن پہنچائی، اور قاراباغ کے گھوڑوں کی پرورش کے لیے مشہور ہوئیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · philanthropist
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: المامی سولوکو · الفا یایا ڈیالو · امیر مینائی · داغ دہلوی · غازی عثمان پاشا

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    خورشیدبانو ناتوان (1832–1897) آذربائیجانی شاعرہ اور صاحبِ خیر تھیں، قاراباغ کے آخری خان مہدی قلی خان کی بیٹی اور اکلوتی وارث، جو عوام میں «خان کی بیٹی» (خان قیزی) کے نام سے مشہور تھیں۔ 1 2 وہ آذربائیجان کی نمایاں غزل گو شاعرات میں شمار ہوتی ہیں؛ آذربائیجانی اور فارسی میں لکھا، شوشا میں ادبی مجلس «مجلسِ انس» قائم کی، شہر تک پانی کی پہلی لائن پہنچائی، اور قاراباغ کے گھوڑوں کی پرورش کے لیے مشہور ہوئیں۔ 1 3

    زندگی

    وہ شوشا میں پیدا ہوئیں — چاروں مضامین کی تمہیدیں اور ویکی ڈیٹا 6 اگست 1832 دیتے ہیں، جبکہ انگریزی اور عربی مضامین کا متن 5 اگست دیتا ہے، اور عجائب گھر غالب روایت کو اختلاف کے انکشاف کے ساتھ درج کرتا ہے — مہدی قلی خان (1763–1845) اور بدیر جہاں بیگم کی اکلوتی اولاد تھیں۔ ان کی پرورش ان کی پھوپھی گوہر آغا نے کی، جنہوں نے انہیں موسیقی، شاعری اور مصوری سکھائی؛ انہوں نے مشرقی زبانیں سیکھیں اور فردوسی، نظامی، سعدی، حافظ، نوائی اور فضولی کو پڑھا۔ 1 2 آذربائیجانی مضمون بتاتا ہے کہ بچپن میں انہوں نے دنیوی علوم کے ساتھ قرآن کی آیات اور دینی احکام بھی حفظ کیے تھے — یہ ان کی تعلیم کی تفصیل ہے۔ 3 چودہ برس کی عمر میں والد کی وفات پر انہیں وسیع اراضی ورثے میں ملی، اور 1861 میں والدہ سے مزید نو گاؤں ملے۔ ان کی پہلی شادی غالباً 1847 میں قوموق شریف خسائی اوتسمییف سے ہوئی، اور دوسری 1866 میں شوشا کے ایک عام شہری سید حسین آغا میروف سے، جس سے پانچ بچے ہوئے۔ 1

    شاعری اور مجلسِ انس

    انہوں نے شوشا اور پورے آذربائیجان میں پہلی ادبی انجمنیں قائم کیں، جن میں سب سے مشہور «مجلسِ انس» تھا، جس میں قاراباغ کے بڑے شاعر اور موسیقار جمع ہوتے تھے — انگریزی مضمون اس کی تاسیس 1864 بتاتا ہے اور روسی مضمون کہتا ہے کہ انہوں نے اسے 1872 میں منظم کیا اور اس کی صدارت کی، اور عجائب گھر دونوں روایتیں درج کرتا ہے۔ 1 2 ان کی ابتدائی شاعری «خورشید» کے دستخط سے تھی، جس کا بیشتر حصہ ضائع ہو گیا؛ 1870 سے انہوں نے «ناتوان» — فارسی میں بے بس و ناتواں — کا تخلص اختیار کیا۔ ان کی غزلوں اور رباعیات کے مرکزی موضوعات انسان دوستی، مہربانی، دوستی اور محبت ہیں، اور کئی غزلیں ایک ایسی خاتون کے دکھ کو بیان کرتی ہیں جس نے کم عمر بیٹا کھویا؛ ان کے اشعار آج بھی لوک گیتوں میں گائے جاتے ہیں۔ 1 2

    خیراتی کام اور وفات

    قاراباغ کی سماجی و ثقافتی ترقی میں ان کا بڑا حصہ تھا: روسی مضمون کے مطابق ان کے دور میں شوشا میں محل، مسجد، تجارتی عمارتیں، تھیٹر، کلب اور اسکول بنے — یہ سرپرستی اور تعمیر کے کام ہیں۔ 2 ان کا مشہور ترین کارنامہ 1872 میں شوشا تک پانی کی لائن تھی، جو دس کلومیٹر دور عیسیٰ کے چشمے سے لائی گئی اور ان کے ایک لاکھ روبل خرچ ہوئے؛ یہ «خان قیزی کا پانی» اور «ناتوان کے چشمے» کے نام سے مشہور ہوئی۔ ان کے قاراباغی گھوڑے پیرس (1867)، ماسکو (1869) اور تبلیسی (1882) کی نمائشوں میں طلائی تمغے لے کر آئے۔ 1 2 وہ شوشا میں وفات پا گئیں — انگریزی، آذربائیجانی اور عربی مضامین اور ویکی ڈیٹا 2 اکتوبر 1897 دیتے ہیں، جبکہ روسی مضمون «ستمبر – 8 اکتوبر 1897» دیتا ہے — اور آقدام کی عمارت قبرستان میں دفن ہوئیں۔ پہلی قاراباغ جنگ کے بعد ان کا مقبرہ نقصان زدہ ہوا، اور جنوری 2021 میں، علاقے کی آذربائیجان کو واپسی کے بعد، فوٹوگرافر رضا دقاتی نے اطلاع دی کہ قبرستان تباہ ہے اور ان کا مقبرہ لوٹا گیا ہے اور ہڈیاں غائب ہیں۔ 1 2

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    ان کا مذہب۔ کوئی ماخذ ناتوان کے لیے ذاتی طور پر کوئی مکتب بیان نہیں کرتا۔ روسی مضمون اپنے «ذاتی زندگی» کے حصے میں کہتا ہے کہ وہ قاراباغ خانات کے سابق حکمران خاندان — جوانشیروں — سے تعلق رکھتی تھیں، «جو شیعہ مسلمان تھے»: یہ صفت ان کے خاندان سے متعلق ہے، اور عجائب گھر کے اصول کے تحت خاندانی پس منظر ذاتی گواہی نہیں ہوتا، اس لیے «شیعہ» کی تحویل کی قاعدہ نافذ نہیں ہوتی۔ 2 باقی سب سیاق ہے: بچپن میں قرآن حفظ کرنا تعلیم ہے، اور شوشا میں مسجد بنوانا سرپرستی۔ ویکی ڈیٹا میں ان کے دین کی کوئی قیمت درج نہیں۔ 4 اس لیے ان کا مذہب «نامعلوم» درج کیا گیا ہے اور روسی مضمون کا خاندان سے متعلق بیان ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں مکمل محفوظ ہے۔

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Khurshidbanu Natavan — English Wikipedia
    2. Khurshidbanu Natavan — Russian Wikipedia
    3. Khurshidbanu Natavan — Azerbaijani Wikipedia
    4. Khurshidbanu Natavan — Wikidata Q2986900
    • Khurshidbanu Natavan — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “خورشید بانو ناتوان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khurshidbanu-natavan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔