ایک نظر میں
- کردار
- صحابی
- دور
- العصر النبوي
- خطہ
- arabia
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
خلاصہ
جلیبیب ایک صحابی تھے جن کا ذکر ابو اسحاق حوینی «صید الخاطر» کے خاطرہ «اولیا کے بارے میں» میں اس بات کی دلیل کے طور پر کرتے ہیں کہ ولی ہونے کے لیے ظاہری حسن شرط نہیں: انہیں یقین ہے کہ جلیبیب اللہ کے اولیا میں سے تھے، حالانکہ وہ خوش شکل نہ تھے۔ 1 2 وہ کہتے ہیں کہ ان کے قتل کا قصہ صحیح مسلم میں ہے، کہ اس کا ابتدائی حصہ پورا مسند احمد میں مسلم کی سند سے ہے، اور کہ احمد کی روایت لمبی ہے جبکہ مسلم نے اس کا آخری حصہ لیا۔ 1 3
نکاح
حوینی بیان کرتے ہیں کہ جلیبیب عورتوں سے مذاق کیا کرتے تھے، اور ایک صحابی نے اپنی بیوی سے کہا کہ انہیں اندر نہ آنے دے۔ 4 پھر نبی نے ایک شخص سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا، اور واضح کیا کہ وہ اسے جلیبیب کے لیے چاہتے ہیں؛ اس شخص نے معاملہ اس کی ماں پر چھوڑا، جس نے انکار کیا، کیونکہ وہ ان سے بلند مرتبہ رشتے ٹھکرا چکی تھی۔ بیٹی نے پردے کے پیچھے سے کہا: کیا تم رسول اللہ ﷺ کا حکم رد کرو گے؟ مجھے ان کے حوالے کر دو، وہ مجھے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ 5 6 7 حوینی اس کے جواب کو اس آیت سے جوڑتے ہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو کسی مومن مرد یا عورت کو اس میں اختیار نہیں رہتا، اور کہتے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ اس کے جوتے کے تسمے کے نیچے کیا بھلائی یا برائی چھپی ہے۔ 8 وہ کہتے ہیں کہ ایک راوی نے ثابت بنانی سے پوچھا کہ نبی نے دلہن کے لیے کیا دعا کی، تو اسے ایک دعا بتائی گئی کہ اس پر بھلائی انڈیل دی جائے؛ وہ اس حصے کو مرسل کہتے ہیں، اور بتاتے ہیں کہ بعد میں وہ مدینہ کی سب سے زیادہ مطلوب بیواؤں میں سے ہوئیں۔ 9 10
ان کا قتل
ان کے بیان میں ایک غزوے کے بعد نبی نے تین بار پوچھا کہ کیا کوئی کم ہے، پھر کہا کہ انہیں جلیبیب نظر نہیں آ رہے؛ لوگوں نے انہیں سات آدمیوں کے پہلو میں مقتول پایا جنہیں انہوں نے قتل کیا تھا۔ نبی ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ جلیبیب ان سے ہیں اور وہ جلیبیب سے، اور ان کے لیے نبی کے دو بازوؤں کے سوا کوئی چارپائی نہ تھی۔ 11 12 13 اسی بنا پر حوینی کو یقین ہے کہ وہ اللہ کے اولیا میں سے تھے۔ 13 (needs_source: حوینی اس غزوے کا نام نہیں لیتے جس میں جلیبیب قتل ہوئے، اور میوزیم کا صفحہ ابھی کسی آزاد ماخذ کا حوالہ نہیں دیتا۔)
آرکائیو کی ساتویں قسط اسی درس کی ریکارڈنگ دہراتی ہے۔ 14
تعلقات
- Lived in
- المدينة المنورة
- Subject of
- مدرسۃ الحیاۃ: زندگی کا مدرسہ (صید الخاطر کی شرح)
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
عبد الله بن سلام· خبيب بن عدي· محمد· تکبر (کبر)· علي يمتنع عن إمامة الناس والخليفة محصور· مسجد القبلتين· المسجد النبوي· فراست
ماخذ
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:09:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:10:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:15:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:09:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:10:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:11:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:12:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:12:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:17:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:17:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:15:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:16:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 4, 00:16:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Madrassat Al Hayat، قسط 7, 00:02:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “جلیبیب”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/julaybib/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.