جلال الدين أكبر

جلال الدين أكبر

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

Akbar the Great.

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1475عیسوی1500عیسوی1525عیسوی1550عیسوی1575عیسوی1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی تقریباً
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · إمبراطوريات البارود · العصر المغولي وما بعده ہم عصر: شاه سليمان نوري · علاء الدين التبريزي · بهاء الدين العاملي (البهائي) · الشنہاجی الفشتالی · سيد قاسم كوباري

islam-and-hinduismsects-and-schoolswars-and-campaigns

خلاصہ

ہندوستان میں مغل بادشاہوں میں تیسرے، جن کا دور 1556 تا 1605ء تھا۔ انہوں نے سلطنت کو وسعت دی، صلح کل کی پالیسی اپنائی اور متنازع دینِ الٰہی کی بنیاد رکھی۔ 1

انسائیکلوپیڈیا آف اسلام کا بیان

جلال الدین اکبر (ابوالفتح جلال الدین محمد) 15 اکتوبر 1542ء کو سندھ میں امرکوٹ کے مقام پر پیدا ہوئے، جب ان کے والد ہمایوں، جنہیں افغان غاصب شیر شاہ سور نے بےدخل کر دیا تھا، ایران کی طرف فرار ہو رہے تھے۔ وہ بابر کے پوتے تھے، اس لیے تیموری ترک اور چغتائی منگول دونوں تھے؛ ان کی والدہ حمیدہ بانو فارسی النسل تھیں۔ تیرہ سال کی جلاوطنی کے بعد ہمایوں نے سور اقتدار کے زوال سے فائدہ اٹھا کر ہندوستان کی بازیابی کی کوشش کی، مگر ان کی وفات (24 جنوری 1556ء) سے پہلے کچھ زیادہ حاصل نہ ہو سکا۔ مقالے کی رائے ہے کہ اکبر سے پہلے کوئی مغل سلطنت قائم نہیں ہوئی تھی، صرف اسے قائم کرنے کی کوشش ہوئی تھی۔ 2

ابتدائی مشکلات میں اکبر کو اپنے سرپرست اور نائب بیرم خان سے بہت مدد ملی۔ سور دعویداروں کے بعد سب سے خطرناک حریف ہندو وزیر ہیمو تھا، جس نے راجا وکرمادتیہ کا لقب اختیار کر لیا تھا؛ اس کی فوجیں 5 نومبر 1556ء کو پانی پت میں شکست کھا گئیں۔ 1557ء میں سکندر شاہ سور نے ہتھیار ڈال دیے۔ 1560ء میں بیرم خان اقتدار سے محروم ہوئے، اور اس کے بعد اکبر کچھ عرصہ حرم کی خواتین اور اپنے رضاعی رشتہ داروں کے گروہ، یعنی معاصر مسلم مؤرخین کے «اتغہ خیل»، کے مضر اثر میں رہے۔ اس لیے ان کے ذاتی اقتدار کی ابتدا 1560ء کے بعد سے شمار کی جاتی ہے۔ 2

ان کی فتوحات مرحلہ وار ہوئیں۔ 1561ء تک ان کی سلطنت میں پنجاب اور ملتان، پانی پت اور الہ آباد کے درمیان گنگا اور جمنا کا میدان، گومتی اور ہمالیہ کے دامن کے درمیان کا علاقہ، گوالیار اور اجمیر شامل تھے؛ کابل ان کے سوتیلے بھائی محمد حکیم کے پاس تھا، اور قندھار فارس کے ماتحت تھا۔ ان کی حدود سے باہر گجرات اور خاندیش، دکن کی پانچ سلطنتیں (برار، بیدر، احمدنگر، بیجاپور اور گولکنڈہ) اور جنوب میں ہندو سلطنت وجے نگر تھیں۔ کشمیر، راجپوتانہ اور گونڈوانہ آزاد سرداروں اور راجاؤں کے پاس تھے، اور بہار و بنگال ایک افغان حکمران سلیمان کرانی کو تسلیم کرتے تھے۔ 1562ء اور 1576ء کے درمیان انہوں نے مالوہ (1562ء)، گونڈ ریاست گڑھا کٹنگا (1564ء)، چتور (1568ء)، رنتھمبھور اور کالنجر بندیل کھنڈ میں (1569ء) اور گجرات (1573ء) شامل کیے؛ 1576ء میں بنگال کے الحاق سے وہ زیریں سندھ کے سوا پورے شمالی ہندوستان کے مالک ہو گئے۔ بعد کے اضافوں میں کشمیر (1586ء)، سندھ (1591ء)، اڑیسہ کا ایک حصہ (1592ء)، بلوچستان اور مکران (1594ء) اور قندھار (1595ء) شامل ہیں۔ دکن کی مہمات سے برار، خاندیش اور احمدنگر کا ایک حصہ 1595ء اور 1601ء کے درمیان ان کے قبضے میں آیا۔ 1605ء میں ان کی وفات کے وقت سلطنت پندرہ صوبوں (صوبہ جات) پر مشتمل تھی۔ 2

اکبر محض فاتح نہیں تھے؛ مقالہ انہیں انتظامی ذہانت سے بھی منسوب کرتا ہے، جس کا ثبوت مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتوں کی ساخت ہے۔ ان کے خیالات سور افغانوں اور دہلی کے سلاطین سے ماخوذ تھے، اور انہوں نے ماضی سے جو سب سے بڑا سبق لیا وہ بے قید وزارت کا خطرہ تھا۔ 1564ء میں مرکزی حکومت از سر نو منظم کی گئی: وکیل مطلق کے مالی کام دیوان یا وزیر کو منتقل ہوئے، وکیل کا منصب گہنا گیا اور اکثر طویل مدت تک خالی رہا۔ مرکز کے دوسرے اہم عہدیدار میر بخشی، جو فوجی انتظام کا سربراہ تھا (نقل و حمل اور خدمت میں مصروف دستوں کی تنخواہ، اگرچہ عام طور پر تنخواہ دیوان دیتا تھا)، میر سامان، جو بیوتات کے شعبے اور شاہی کارخانوں کا منتظم تھا، اور صدر الصدور، جو قاضیوں کا سربراہ اور عدلیہ کا سربراہ تھا، شامل تھے۔ صدر الصدور کو حکومت کے آغاز میں غیر معمولی اختیارات حاصل تھے۔ مقالہ کہتا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اکبر نے 1581ء میں یہ منصب ختم کر دیا تھا؛ چھ صوبائی صدور مقرر ہوئے، مگر منصب اپنے سابقہ اختیارات کم ہو جانے کے ساتھ برقرار رہا۔ عہدیداروں کو امیر یا منصبدار کے طور پر 33 درجات میں تقسیم کیا گیا، اور ان کی مرتبہ بندی گھوڑوں کی اسمی کمان کے حساب سے ہوتی تھی، اگرچہ «ذات» اور «سوار» کے درست معنی پر اختلاف ہے۔ صوبائی حکومت صوبوں کو سرکاروں اور پھر پرگنوں یا محلوں میں تقسیم کرتی تھی، جو سب سے چھوٹی مالیاتی اکائی تھی۔ گورنر مختصر مدت کے لیے رہتے تھے، اور صوبے کے دیوان اور فوجدار کا تقرر مرکز سے ہوتا تھا؛ واقعہ نویس اور دوسرے عہدیدار جاسوسی کا نظام چلاتے اور اپنی رپورٹیں دربار تک پہنچاتے تھے۔ 2

اکبر کی محصولاتی پالیسی تین تجربات کا نتیجہ تھی؛ ہر بار زمین کا تخمینہ بوئے گئے رقبے پر لگایا گیا اور فصل کے لحاظ سے شرح مختلف رہی۔ پہلے دو تجربے ناکام ہوئے۔ حکومت کا مستقل نظام ان کی حکومت کے چوبیسویں سال (1579–1580ء) میں نافذ ہوا، جو «دہ سالہ» کے نام سے معروف ہے کیونکہ تخمینہ پچھلے دس سالوں کے اوسط پر مبنی تھا۔ کسان مجموعی پیداوار کا ایک تہائی حصہ ریاست کو ادا کرتا تھا۔ یہ نظام صرف چھ مرکزی صوبوں میں نافذ ہوا جو سلطنت کا اصل مرکز تھے۔ 2

ان کی مذہبی پالیسی بنیادی طور پر سیاسی اور خاندانی تقاضوں سے متعین ہوئی۔ صلح کل (عالمگیر رواداری) کی پالیسی، جزیہ اور ہندو زائرین پر عائد ٹیکس کا خاتمہ، ان سب کا مقصد ہندو رعایا کی وفاداری حاصل کرنا تھا، جو آبادی کی اکثریت تھی، اور یہ ریاست کی سیاسی، معاشی اور مالی بالادستی کے ان کے تصور کا اظہار تھا۔ 1579ء کے «مرسوم عصمت» کے ذریعے انہوں نے علماء کے اختیار کو محدود کیا، جس نے انہیں مذہبی امور میں سلطنت کا سب سے بڑا اختیار دار تسلیم کیا۔ وہ ناخواندہ تھے، مگر انہیں تقابلی مذاہب کے مطالعے میں حقیقی دلچسپی تھی، اور انہوں نے «عبادت خانہ» بنوایا جہاں ہر مذہب کے عالم الہیات کے مسائل پر بحث کے لیے جمع ہوتے تھے۔ ان مباحث نے انہیں یقین دلایا کہ ہر مذہب میں کچھ خیر ہے، اور انہوں نے «دینِ الٰہی» کے نام سے ایک نیا التقاطی عقیدہ جاری کیا، جس کے بارے میں انہیں امید تھی مگر بے سود، کہ ان کی رعایا اسے قبول کر لے گی۔ مقالہ سلطنت کے زوال کو ان کے جانشینوں کی جانب سے مصالحت کی پالیسی کو ترک کرنے اور اس کے بنیادی اصولوں سے بتدریج دور ہونے سے جوڑتا ہے۔ 2

مقالے میں مذکور مراجع میں ابوالفضل علامی کی «آئین اکبری» اور «اکبرنامہ»؛ عبدالقادر بدایونی کی «منتخب التواریخ»؛ فون نوئر کی «قیصر اکبر»؛ وی اے سمتھ کی «اکبر عظیم مغل»؛ «ہسٹری آف انڈیا» (کیمبرج) کی چوتھی جلد؛ مورلینڈ کی «اکبر کی وفات کے وقت ہندوستان»؛ اور پین کی «اکبر اور یسوعی» شامل ہیں۔ 3

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Child of
همايون بن بابر· حميدة بانو بيكم
Successor of
همايون بن بابر
Participated in
أكبر يأخذ كجرات 980هـ

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· أكبر يأخذ كجرات 980هـ· حميدة بانو بيكم· همايون بن بابر· باجيراو ماستاني· بادماوات· روضہ کاظمین· روضہ امام حسین کربلا

ماخذ

  1. ويكيداتا
  2. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 338-339
  3. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 339
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “جلال الدين أكبر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/jalal-al-din-akbar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
متعلقہ

عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ

962ھ/1555ء میں سلطان ہمایوں نے پندرہ سالہ جلاوطنی کے بعد سوری سلطنت سے دلی واپس لے لی اور راجدھانی پھر مغلوں کی ہوئی.