جابر بن مبارک الصباح

جابر بن مبارك الصباح

–

جابر بن مبارک الصباح، جابر ثانی (ولادت: 1860ء – وفات: کویت، 5 فروری 1917ء)، کویت کے آٹھویں حکمران اور مبارک الکبیر کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ وہ والد کے دستِ راست تھے، 28 نومبر 1915ء کو حکمران بنے، جائیداد پر ثلث ٹیکس ختم کر کے عوام میں مقبول ہوئے، اور مختصر عہد کے بعد انتقال کر گئے؛ ان کے بعد ان کے بھائی سالم حکمران بنے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · عبد الرزاق البيطار · عبد الرشید ابراہیم · أحمد الحملاوي · احمد رضا خان بریلوی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    جابر مبارک الصباح (ولادت: 1860ء – وفات: 5 فروری 1917ء) کویت کے آٹھویں حکمران تھے، جیسا کہ اردو بطاقہ بیان کرتا ہے۔ 1 وہ مبارک الصباح کے سب سے بڑے بیٹے اور آل صباح کے فرعِ آل جابر کے جد تھے؛ انہوں نے 28 نومبر 1915ء سے 5 فروری 1917ء تک حکمرانی کی اور ان کے بعد ان کے بھائی سالم حکمران بنے۔ 2 3

    زندگی اور عہد

    جابر والد کے دستِ راست تھے: انہوں نے 1896ء میں چچاؤں محمد و جراح کے قتل میں والد کا ساتھ دیا، معرکۂ صریف کے زمانے میں والد کے نائب رہے، اور 1904ء میں جو لبن اور 1910ء میں ہدیہ کی لڑائیوں میں کویت کی فوج کی قیادت کی، جن میں عبد العزیز آل سعود بھی ان کے ساتھ تھے۔ 3 28 نومبر 1915ء کو حکمران بن کر انہوں نے جائیداد پر ثلث ٹیکس ختم کیا، ضبط شدہ مکانات لوٹائے اور خزانے سے رقم تقسیم کی، جس سے عوام میں مقبول ہوئے۔ 3 پہلی جنگِ عظیم میں وہ والد کے برعکس عثمانیوں کی طرف مائل ہوئے اور قافلوں کی آمد و رفت سہل کر کے برطانوی ناکہ بندی کمزور کی، جس پر برطانوی احتجاج 23 نومبر 1916ء کو پرسی کوکس سے ملاقات تک پہنچا جو بے نتیجہ رہی۔ 3 وہ بخار سے 5 فروری 1917ء کو انتقال کر گئے؛ ان کے بیٹے احمد بعد میں کویت کے دسویں امیر بنے۔ 3 2

    موقف و نقد

    یہ حصہ ماخذوں میں منقول مواقف کی پیش کش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    ان کے ہم عصر کویت کے مؤرخ عبد العزیز الرشید نے، جیسا کہ عربی مضمون نقل کرتا ہے، انہیں بردبار، کینے سے پاک اور انصاف پسند قرار دیا، اور کہا کہ تواضع و ظلم سے دوری نے انہیں رعایا کی نظروں میں وقار بخشا۔ 3 اردو بطاقہ ان کے عہد کا آغاز غلطی سے 28 فروری 1915ء بتاتا ہے؛ درست تاریخ 28 نومبر 1915ء ہے جیسا کہ انگریزی و عربی مضامین کہتے ہیں، اور عربی مضمون کا ایک حصہ ان کی وفات جنوری 1917ء میں بتاتا ہے جبکہ اسی مضمون کی ابتدا و اختتام 5 فروری پر متفق ہے — یہ اختلافات بیان کیے جاتے ہیں۔ 1 3 ان کے مذہب کا مسلک ریکارڈ میں نامعلوم ہے: تینوں مضامین ان کے لیے کوئی مذہب بیان نہیں کرتے، اور ان کے وکی ڈیٹا عنصر میں — اس گروہ کے دیگر حکمرانوں کے برعکس — مذہب کی کوئی قدر سرے سے موجود نہیں؛ یہ عدم موجودگی درج کی گئی ہے، پُر نہیں کی گئی۔ 2 4

    حوالہ جات

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی بعد کی ترجمہ و تدوین کو واضح تواریخ کے ساتھ دورانی جائزے کی ضرورت ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    مبارک بن صباح الصباح
    Member of
    آل صباح

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    سالم مبارک الصباح· آل صباح· مبارک بن صباح الصباح· جابر احمد الصباح· مشعل الاحمد الجابر الصباح· نواف الاحمد الجابر الصباح· صباح الاحمد الجابر الصباح

    ماخذ

    1. Jaber II Al-Sabah — Urdu Wikipedia
    2. Jaber II Al-Sabah — English Wikipedia
    3. Jaber II Al-Sabah — Arabic Wikipedia
    4. Jaber II Al-Sabah — Wikidata Q26919
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “جابر بن مبارک الصباح”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/jaber-ii-al-sabah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    سالم مبارک الصباح

    سالم المبارک الصباح (پیدائش: 1864ء – وفات: کویت، 23 فروری 1921ء)، کویت کے نویں حکمران اور مبارک الکبیر کے دوسرے بیٹے تھے۔ وہ 1915–1917ء میں کویت شہر کے والی رہے، 5 فروری 1917ء کو بھائی جابر ثانی کے بعد حکمران بنے، ان کے مختصر عہد میں کویت کی تیسری فصیل بنی اور حمض و جہرہ کی لڑائیاں ہوئیں، اور ان کے بیٹے عبد اللہ و صباح بعد میں کویت کے امیر بنے۔