اسرار احمد

إسرار أحمد

–

لاهور

پاکستانی عالمِ دین اور خطیب، جو 1932 میں حصار میں پیدا ہوئے اور 2010 میں لاہور میں وفات پائے۔ وہ لاہور اور کراچی سے تعلیم یافتہ معالج تھے؛ جماعتِ اسلامی کی انتخابی سیاست سے اختلاف پر اسے چھوڑا، انجمن خدام القرآن (1972) اور تنظیم اسلامی (1975) کی بنیاد رکھی، اور 1981 میں ستارۂ امتیاز ملا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · theologian · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد الستار ایدھی · عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود · احمد عصمت عبد المجید · احمد بن بیلا

مکان میں

لاهور

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ڈاکٹر اسرار احمد (26 اپریل 1932 – 14 اپریل 2010) پاکستانی عالمِ دین، مفسر اور خطیب تھے، جو حصار میں پیدا ہوئے اور لاہور میں وفات پائے۔ 1 2 وہ جماعتِ اسلامی کی انتخابی سیاست سے اختلاف کر کے اس سے الگ ہوئے اور انجمن خدام القرآن (1972) اور تنظیم اسلامی (1975) کی بنیاد رکھی۔ 1

    زندگی اور خدمات

    وہ حصار میں ایک رنگھڑ مسلمان راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور آئے، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے 1954 میں ایم بی بی ایس کیا، اور 1965 میں کراچی یونیورسٹی سے اسلامیات میں ماسٹرز کیا۔ 1 2

    1950 میں وہ جماعتِ اسلامی میں شامل ہوئے اور 1956 میں، مضامین کے مطابق، جماعت کے انتخابی سیاست میں آنے سے اختلاف کر کے الگ ہو گئے؛ اسی سال تنظیم اسلامی کا مرکز قائم ہوا، جو 1975 میں باقاعدہ تنظیم کی صورت اختیار کر گیا اور وہ 2002 تک اس کے امیر رہے۔ 1 2

    1981 میں صدر ضیاء الحق کے کہنے پر سرکاری ٹی وی پر ان کا ہفتہ وار پروگرام شروع ہوا، جس سے ان کے حلقۂ اثر میں بہت وسعت آئی؛ اسی سال انھیں ستارۂ امتیاز ملا اور وہ مجلسِ شوریٰ/قومی اسمبلی کے رکن رہے (1981–1982)۔ 1

    صحت کی خرابی کے باعث اکتوبر 2002 میں وہ تنظیم کی قیادت سے دست بردار ہوئے اور اپنے بیٹے حافظ عاکف سعید کو جانشین مقرر کیا۔ وہ 14 اپریل 2010 کو لاہور میں وفات پا گئے اور گارڈن ٹاؤن قبرستان، لاہور میں دفن ہوئے۔ 1 2

    تصانیف

    انھوں نے اردو میں تقریباً ساٹھ کتابیں لکھیں، جن میں «دی کال آف تنظیم اسلامی» شامل ہے، اور قرآن و سیرت پر ان کے سیکڑوں لیکچر محفوظ ہیں۔ 1

    موقف و تنقید

    یہ حصہ ماخذ میں بیان کردہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔ مضمون کے مطابق وہ جدید جمہوریت اور انتخابی نظام کے مخالف تھے اور خلافت کے قیام کے داعی تھے، اور ان کا خیال تھا کہ خلافت کی بنیاد پاکستان میں پڑنی چاہیے۔ محقق ولی نصر کا، مضمون میں منقول، موقف ہے کہ اسی کی دہائی میں ان کی تبلیغ ایک شیعہ مخالف مہم کا حصہ بنی۔ کوئی ماخذ ان کا فقہی مسلک صراحتاً نہیں بتاتا — اردو مضمون کے معلوماتی خانے میں فرقہ «اہل سنت» درج ہے، جو اکیلا کافی نہیں — اس لیے ان کا یہ خانہ «نامعلوم» رکھا گیا ہے۔ 1 2

    حوالے

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    لاهور
    Buried in
    لاهور

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· امین احسن اصلاحی

    ماخذ

    1. Israr Ahmed — English Wikipedia
    2. Israr Ahmed — Urdu Wikipedia
    • Israr Ahmed — Arabic Wikipedia
    • Israr Ahmed — Wikidata Q3155657
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اسرار احمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/israr-ahmed/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد بادشاهي

    A mosque in Lahore, dated to 1671 CE.