اسماعیل حسین سراجی

إسماعيل حسين سراجي

–

بنگالی مصنف، شاعر اور مقرر (1880ء–1931ء) جن کا تعلق سراج گنج سے تھا اور جو بنگالی مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ کے نمایاں قلم کار تھے۔ انھوں نے لکھنے اور تقریر سے روزی کمائی؛ حکومت نے ان کی پہلی کتاب «انل پرباہا» ضبط کی اور 1910ء میں انھیں قید کیا؛ 1912ء میں وہ بلقان جنگوں میں عثمانی افواج کے لیے طبی وفد کے ساتھ گئے؛ انجمنِ علمائے بنگالہ کے بانیوں میں شامل ہوئے اور ہندو مسلم اتحاد اور کسان تحریک کی قیادت کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · شاعر · activist
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي · عبد الرحمٰن الشہبندر

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سید اسماعیل حسین سراجی (1880ء–1931ء) سراج گنج کے بنگالی مصنف اور شاعر تھے، جو بنگالی مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ کے نمایاں قلم کار مانے جاتے ہیں؛ انھوں نے تعلیم کی حوصلہ افزائی کی اور اسلامی ورثے کو سراہا۔ 1 ان کی پہلی شعری کتاب «انل پرباہا» حکومت نے ضبط کر لی اور وہ برطانوی راج کے خلاف آزادی کی آواز اٹھانے کے الزام میں قید ہوئے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 13 جولائی 1880ء کو سراج گنج میں پیدا ہوئے (انگریزی مضمون کے مطابق؛ بنگلہ پیڈیا صرف سال اور ضلع دیتا ہے جس سے انھوں نے «سراجی» کا لاحقہ لیا)۔ 1 2 ان کے والد یونانی طبیب تھے اور خاندان مالی طور پر کمزور تھا، اس لیے وہ کالج نہ جا سکے، مگر گھر پر سنسکرت سیکھی اور شبلی نعمانی و محمد اقبال سے بہت متاثر ہوئے۔ 1 2

    کام

    انھوں نے لکھنے اور تقریر سے روزی کمائی اور مقرر کے طور پر بڑی شہرت پائی۔ 2 1912ء میں وہ بلقان جنگوں میں عثمانی افواج کی طبی امداد کے وفد میں شامل ہوئے، واپسی پر انجمنِ علمائے بنگالہ کے بانیوں میں سے ایک بنے، اور سراج گنج کے کسانوں کو زمینداروں اور ساہوکاروں کے خلاف منظم کیا۔ 1 2 انھوں نے مسلم لیگ، کانگریس، سواراجیہ پارٹی اور کرشک سمیتی سمیت کئی جماعتوں میں کام کیا اور ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے۔ 2

    تصانیف

    ان کی شعری کتابوں میں «انل پرباہا»، «اکانکھا» (1906ء)، «اچھواس» (1907ء)، «ادبودھن» (1907ء) اور «اسپین وجے کاویہ» (1914ء)؛ ناولوں میں «رائے نندنی» (1915ء)، «تارا بائی» (1916ء)، «فیروزہ بیگم» (1918ء) اور «نور الدین» (1919ء) شامل ہیں۔ 2 1

    وفات

    وہ 17 جولائی 1931ء کو وفات پا گئے؛ 1948ء میں حسین شہید سہروردی نے کہا کہ ان کی «انل پرباہا» نے نوجوانی میں ان کے خون میں بجلی دوڑا دی تھی۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Ismail Hossain Siraji — English Wikipedia
    2. Ismail Hossain Siraji — Banglapedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اسماعیل حسین سراجی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ismail-hossain-siraji/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔