ایک نظر میں
- کردار
- sultan
- خطہ
- southeast-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سلطان ادریس مرشد الاعظم شاہ (19 جون 1849ء – 14 جنوری 1916ء) پیراک کے اٹھائیسویں سلطان تھے۔ وہ 1887ء میں اپنے سسر سلطان یوسف شرف الدین مظفر شاہ کے جانشین بنے، 1895ء–1896ء میں پیراک کو وفاقی ملائی ریاستوں میں لے آئے اور بوکیت چاندان کی مسجد عبودیہ کے لیے یاد کیے جاتے ہیں، جو انہوں نے بیماری میں منت مان کر شروع کرائی اور ان کی وفات کے اگلے سال مکمل ہوئی۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تخت نشینی
وہ پیراک کے کیمپار میں کوالا کیبوئی میں پیدا ہوئے، راجا بنداحارا الانگ اسکندر کے بیٹے تھے۔ 1875ء میں انہوں نے نئے برطانوی ریزیڈنٹ کی حکومت کے معاملات پر سنگاپور ایک وفد کی قیادت کی۔ سلطان یوسف کا انتقال 26 جولائی 1887ء کو ہوا اور ان کے داماد ادریس جانشین بنے — ملائی مضمون ان کی تخت نشینی اٹھائیسویں سلطان کے طور پر دیتا ہے، جو انگریزی مضمون کی تمہید اور جدول خلافت سے متفق ہے، اگرچہ انگریزی مضمون کا ابتدائی متن انہیں ایک جگہ ستائیسواں کہتا ہے۔ انڈونیشی مضمون کا یہ کہنا کہ وہ سوتیلے باپ عبد اللہ محمد شاہ کے جانشین بنے اور ان کا انیسواں نمبر تھا، دونوں مضامین سے متصادم ہے اور اختیار نہیں کیا گیا۔ ان کی رسم تاجپوشی 5 اپریل 1889ء کو بوکیت چاندان، کوالا کانگسار میں ہوئی۔ 1 2 3
دور حکومت
ان کے دور میں پیراک سیلانگور، نگری سمبیلان اور پہانگ کے ساتھ وفاقی ملائی ریاستوں میں شامل ہوا، جو باضابطہ طور پر 1 جولائی 1896ء کو قائم ہوئیں؛ چاروں حکمرانوں کا پہلا دربار جولائی 1897ء میں ان کے بوکیت چاندان محل میں ہوا۔ انہوں نے مارچ 1900ء میں دریائے پیراک پر وکٹوریہ پل کھولا، برطانوی اعزازات پائے اور 1902ء میں ایڈورڈ ہفتم کی تاجپوشی کے لیے لندن گئے۔ ان کے سرپرستی یافتگان میں ماہر فلکیات طاہر جلال الدین تھے، جنہیں ان کی حکومت نے پیراک میں عہدے دیے اور جو 1911ء میں ان کے ساتھ لندن گئے، جیسا کہ طاہر کے اپنے مضامین میں درج ہے۔ 1 2 4
مذہب
کسی مضمون کا متن ان کا مکتب نہیں بتاتا۔ انگریزی معلوماتی خانہ «سنی اسلام» بتاتا ہے اور انڈونیشی معلوماتی خانہ وہی قدر دہراتا ہے — ایک معلوماتی خاندان؛ ملائی اور عربی مضامین میں دینی ذکر نہیں اور ویکی ڈیٹا میں بھی کوئی قدر نہیں۔ ان کی مسجد کی منت عوامی عمل ہے اور پیراک کے اسلام کی سربراہی منصب ہے؛ دونوں ذاتی مکتب کی شہادت نہیں۔ اصولِ سربراہی کے تحت ریکارڈ میں مذہب نامعلوم درج ہے، بانی کے لیے نشاندہی کے ساتھ۔ 1 3 5
وفات
1911ء میں پیراک واپسی پر ان کی صحت خراب تھی؛ پورٹ ڈکسن میں آرام کے دوران انہوں نے منت مانی کہ صحت یاب ہو کر بوکیت چاندان میں مسجد بنائیں گے۔ مسجد عبودیہ کا حکم انہوں نے دیا مگر تکمیل نہ دیکھ سکے۔ انتقال 14 جنوری 1916ء کو 66 برس کی عمر میں ہوا اور 17 جنوری کو کوالا کانگسار کے بوکیت چاندان میں الغفران شاہی مقبرے میں «مرحوم رحمتہ اللہ» کے لقب کے ساتھ دفن ہوئے۔ ان کے بیٹے عبد الجلیل جانشین بنے۔ 1 2
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ ادارے،
data/source/میں درج ہیں۔ - ان کی کوئی اردو ویکیپیڈیا مضمون نہیں ہے؛ یہ صفحہ اوپر مذکور انگریزی، ملائی، عربی اور انڈونیشی مضامین اور ویکی ڈیٹا آئٹم سے لکھا گیا ہے۔
- اس مضمون کی ہر ترمیم کی تاریخ درج ہونی چاہیے اور ہر حقیقت بدلنے والے ماخذ کا نام آنا چاہیے۔
ماخذ
- Idris Shah I of Perak — English Wikipedia
- Idris Shah I of Perak — Malay Wikipedia
- Idris Shah I of Perak — Indonesian Wikipedia
- Tahir Jalaluddin — Indonesian Wikipedia
- Idris Shah I of Perak — Wikidata Q5989719
- Idris Shah I of Perak — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ادریس مرشد الاعظم شاہ، سلطان پیراک”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/idris-shah-i-of-perak/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.