ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان
- خطہ
- egypt-nile
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
حسین رشدی پاشا (1863–1928) ایک مصری سیاست دان تھے جنہوں نے 1914 اور 1919 کے درمیان چار مرتبہ مصر کی حکومت کی سربراہی کی، خدیو عباس حلمی ثانی، سلطان حسین کامل اور سلطان فؤاد اول کے عہد میں۔ پیرس سے قانون کی تعلیم پانے کے بعد انہوں نے عدلیہ اور وزارتِ انصاف و وزارتِ خارجہ کے مناصب سنبھالے، اور بعد میں 1922 کے آئین کی مسودہ کمیٹی کی صدارت کی اور 1926 سے اپنی وفات تک سینیٹ کے صدر رہے۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
عربی مقالے کے مطابق وہ محمود حمدی کے بیٹے تھے، جو وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ عہدیدار اور قاہرہ کے گورنر تھے، اور ان کا خاندان البانوی خاندانوں میں سے تھا جو محمد علی کے ساتھ مصر آئے تھے۔ انگریزی مقالہ آرتھر گولڈشمٹ کی سوانحی لغت کے حوالے سے انہیں ترک اصل بتاتا ہے۔ وہ پیرس میں تعلیم پانے کے بعد 1883 میں سرکاری مشن میں شامل ہوئے، 1885 میں قانون کی ڈگری اور پیرس سے ڈاکٹریٹ اور سیاسی علوم کا ڈپلومہ حاصل کیا، اور 1892 میں خدیو عباس حلمی ثانی کے بلانے پر مصر واپس آئے۔ 1 2
وزارتِ عظمیٰ سے پہلے کا کیریئر
انہوں نے وکالت کا دفتر کھولا، پھر 1892 میں محکمۂ مالیات کے شعبۂ مقدمات میں شامل ہوئے اور قانون کی تدریس کی۔ وہ مخلوط عدالت کے جج (1899–1905)، اپیل عدالت کے مشیر (1906–1907)، دیوانِ اوقاف کے ڈائریکٹر (1904–1908)، پھر بطرس غالی کے دور میں وزیرِ انصاف (1908–1910) اور محمد سید پاشا کے دور میں وزیرِ خارجہ (1910–1913) رہے۔ 1
چار وزارات
ان کی پہلی وزارت 5 اپریل سے 19 دسمبر 1914 تک رہی، جو خدیویت کی آخری وزارت تھی۔ انگریزوں کے خدیو کو معزول کر کے حسین کامل کو سلطان بنانے کے بعد انہوں نے دوسری وزارت بنائی (19 دسمبر 1914 – 9 اکتوبر 1917)، جس نے پہلی جنگِ عظیم میں مرکزی طاقتوں کے خلاف عملاً اعلانِ جنگ کا فیصلہ جاری کیا۔ تیسری وزارت 10 اکتوبر 1917 سے 9 اپریل 1919 تک فؤاد اول کے عہد میں رہی۔ 1919 کے انقلاب کے دوران انہوں نے سعد زغلول سے سرکاری اور عوامی وفود بھیجنے پر رابطہ کیا؛ قابض حکام کے انکار پر انہوں نے استعفا دے دیا۔ چوتھی وزارت صرف 9 سے 22 اپریل 1919 تک رہی۔ 1 2
آخری برس اور وفات
وہ عدلی یکن کی پہلی وزارت (1921) میں نائب وزیرِ اعظم رہے اور لارڈ کرزن سے مذاکرات کرنے والے سرکاری وفد کے رکن تھے۔ 1922 میں انہوں نے آئین کا مسودہ تیار کرنے والی تیس رکنی کمیٹی کی صدارت کی۔ وہ مصری یونیورسٹی کی حکومت سے آزادی کے حامی تھے، اور 23 مئی 1926 سے 14 مارچ 1928 کو اپنی وفات تک سینیٹ کے صدر رہے۔ 1 3
ماخذ
- Hussein Rushdi Pasha — Arabic Wikipedia
- Hussein Rushdi Pasha — English Wikipedia
- Hussein Rushdi — Wikidata Q1994270
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “حسین رشدی پاشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hussein-rushdi-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.