ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · writer · sociologist
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
احمد رضا (پیدائش: استنبول، 1858ء انگریزی و ترکی مضامین کے مطابق، 1859ء عربی مضمون و وکی ڈیٹا کے مطابق – وفات: استنبول، 26 فروری 1930ء) عثمانی ترک سیاست دان و مصنف تھے، نوجوان ترکوں کے سرکردہ رہنما، پیرس میں جمعیتِ اتحاد و ترقی کے سربراہ، اخبار «مشورت» کے بانی، آگسٹ کومٹ کی اثباتیت کو ترکی لانے والے مفکر، اور 1908ء کے انقلاب کے بعد بحال شدہ مجلسِ مبعوثان کے پہلے صدر — جنہیں «بابائے حریت» کہا گیا۔ 1 2 3
زندگی اور عہد
احمد رضا استنبول کے ایک خدمت گار خاندان میں پیدا ہوئے؛ والد علی رضا بے سینیٹر تھے جنہیں انگریزی دانی کی وجہ سے «انگریز» کہا جاتا تھا، والدہ میونخ کی ایک خاتون تھیں جنہوں نے ان سے شادی کے لیے اسلام قبول کیا، اور بہن سلمیٰ رضا ترکی کی پہلی خاتون صحافی بنیں۔ 1 مکتبِ سلطانی (گلٹہ سرائے) سے پڑھ کر دفترِ ترجمہ میں کام کیا، پھر فرانس جا کر گرینیون سے زراعت کی تعلیم 1884ء میں مکمل کی اور بروسہ میں مدیرِ معارف رہے، بعد ازاں اپوزیشن تحریک کے لیے پیرس چلے گئے۔ 1
پیرس میں انہوں نے لافیت کی اثباتی محاضرات سنیں، سوسائٹی پوزیٹیوسٹ کے رکن بنے اور اس کے «مسلم/عثمانی» نمائندے کی حیثیت سے کانفرنسوں میں شریک ہوئے۔ 1 انہوں نے جمعیت کی پیرس شاخ کی قیادت کی اور 1895ء میں «مشورت» نکالا؛ اخبار فرانس و بلجیم میں بند ہوا تو فرانسیسی میں جاری رکھا۔ 1 1908ء میں استنبول لوٹے تو «بابائے حریت» کے لقب سے استقبال ہوا، مجلسِ مبعوثان کے صدر منتخب ہوئے، 31 مارچ 1909ء کی بغاوت میں مبینہ کفر کے الزام پر فسادیوں کی فہرست میں سرفہرست رہے، اور پھر مجلسِ اعیان کے صدر (1918–1919ء) بنے۔ 1 وہ ان چند سیاست دانوں میں تھے جنہوں نے آرمینیائی نسل کشی کی اس کے وقوع کے دوران مذمت کی؛ اسمبلی میں کہا کہ ضبط شدہ آرمینیائی املاک «متروکہ» نہیں کیونکہ مالکوں نے وہ رضا سے نہیں چھوڑیں، انہیں زبردستی جلاوطن کیا گیا تھا۔ 1 جنگ کے بعد اپنے پرانے اتحادی ساتھیوں پر مقدمات چلائے، پھر فرانس جا کر مصطفیٰ کمال کی قومی تحریک کی حمایت کی اور لوزان کے معاہدے کے بعد واپس آ کر 26 فروری 1930ء کو استنبول میں وفات پائی۔ 1
موقف و نقد
یہ حصہ ماخذوں میں منقول مواقف کی پیش کش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔
حامیوں کے نزدیک وہ بابائے حریت اور اصولی مفکر تھے جنہوں نے سلطان کے ایجنٹوں کی فیاض معافی کی پیشکشیں ہمیشہ ٹھکرائیں؛ مخالفوں کے نزدیک ضدّی سیکولر، اور قدامت پسند نوجوان ترکوں اور عبد الحمید کے حامیوں نے ان پر کفر کا الزام لگایا — یہی مبینہ الزام انہیں 31 مارچ کے فسادیوں کی نشانہ فہرست کی چوٹی پر لے گیا۔ 1 بعد میں انہوں نے خود جمعیت کی صحافیوں کے قتل و آمریت پر سخت تنقید کی اور اس سے استعفیٰ دے دیا۔ 1
ان کے مذہب کے بارے میں کوئی مضمون دین یا مسلک نہیں بتاتا؛ ترکی مضمون کا دینی خانہ خالی ہے، عربی مضمون دین کا ذکر نہیں کرتا، اور وکی ڈیٹا کے پاس مذہب کی کوئی قدر ہی نہیں۔ 3 2 4 ماخذ جو دیتے ہیں وہ ایک فلسفہ ہے، مسلک نہیں: ان کی اثباتیت، کومٹ و لافیت کی پیروی، اور اثباتی سوسائٹی میں «مسلم/عثمانی» نمائندگی؛ وکی ڈیٹا بھی صرف ان کی تحریک «اثباتیت» اور کومٹ کا اثر درج کرتا ہے۔ 1 4 کفر ان پر مخالفوں کا الزام تھا، خود بیان نہیں، اور یہی مضمون ان کی حامدی مظالم کی مذمت «اسلام کی روایات و قرآن کے احکام کے خلاف» قرار دے کر نقل کرتا ہے؛ اثباتیت ایک فلسفہ ہے، فقہی مسلک نہیں، اس لیے ان کا دین ریکارڈ میں نامعلوم رکھا گیا ہے۔ 1
حوالہ جات
- اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی بعد کی ترجمہ و تدوین کو واضح تواریخ کے ساتھ دورانی جائزے کی ضرورت ہے۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا
ماخذ
- Ahmet Rıza — English Wikipedia
- أحمد رضا (سياسي) — Arabic Wikipedia
- Ahmed Rıza — Turkish Wikipedia
- Ahmed Rıza — Wikidata Q401469
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “احمد رضا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-riza/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.