حسرت موہانی

حسرت موهاني

–

اردو شاعر اور ہندوستانی مجاہد آزادی (1875ء–1951ء)، اصل نام سید فضل الحسن اور تخلص ’حسرت‘۔ وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے 1921ء کے احمد آباد کانگریس اجلاس میں ہندوستان کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ انھی کی تخلیق ہے، 1919ء میں مسلم لیگ کے صدر رہے، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں شامل ہوئے، اور تقسیم کے بعد ہندوستان ہی میں رہے اور دستور ساز اسمبلی کے رکن بنے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · سیاست دان · activist · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · احمد لطفی سید · علی المیرغنی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ قصبہ موہان ضلع اناؤ میں پیدا ہوئے؛ ’موہانی‘ موہان ہی کی نسبت ہے اور ان کے آبا ایران کے نیشاپور سے ہجرت کر کے آئے تھے 1۔ ان کی تاریخ پیدائش ہر سمت سے متنازع ہے: انگریزی مقالہ 1 جنوری 1875ء دیتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ بہت سی کتابیں 1880ء اور 1881ء دیتی ہیں 1، اردو مقالہ 4 اکتوبر 1875ء دیتا ہے 2، اور عربی مقالہ 14 اکتوبر 1878ء دیتا ہے 3۔ اسکول کے امتحانوں میں ریاضی میں اول آئے، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے پیش رو کالج میں پڑھے — جہاں سے برطانوی حکومت پر تنقید پر تین بار نکالے گئے — اور 1903ء میں بی اے کیا 1۔ شاعری میں ان کے اساتذہ تسلیم لکھنوی اور نسیم دہلوی تھے 21۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، عربی سید ظہور الاسلام فتح پوری سے اور فارسی محمد امیر خان سے پڑھی 2۔

    شاعری اور صحافت

    1903ء میں علی گڑھ سے رسالہ ’اردوئے معلی‘ جاری کیا 2۔ ان کی تصانیف میں ’کلیات حسرت موہانی‘، غالب کے کلام کی شرح، ’نکات سخن‘ اور ’مشاہدات زندان‘ شامل ہیں 1۔ ان کی غزل ’چپکے چپکے رات دن‘ پورے برصغیر میں مشہور ہوئی؛ انھوں نے کرشن سے گہری محبت کے اشعار بھی کہے اور اکثر جنم اشٹمی پر متھرا جاتے تھے 1۔

    سیاست

    وہ برسوں کانگریس کے رکن رہے اور مسلم لیگ میں بھی شامل ہوئے، جس کے 1919ء میں صدر رہے 1۔ 1903ء سے بار بار قید ہوئے اور مکمل آزادی کی مہم چلاتے رہے یہاں تک کہ کانگریس نے اسے اپنا نصب العین بنا لیا 1۔ وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں سے تھے؛ دسمبر 1925ء کے پہلے آل انڈیا کمیونسٹ کانفرنس کی تیاریوں کا مرکز ان کا کانپور کا گھر تھا اور وہ اس کی استقبالیہ کمیٹی کے صدر تھے 1۔ تقسیم ہند کے مخالف تھے؛ جون 1947ء میں تقسیم کا منصوبہ اعلان ہونے پر لیگ سے مستعفی ہو گئے، باقی ماندہ ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے ہندوستان ہی میں رہے، اور دستور ساز اسمبلی کے رکن بنے — البتہ دستور پر دستخط نہیں کیے 1۔

    دین جیسا کہ ذرائع ثابت کرتے ہیں

    انگریزی مقالہ خود ان کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ ’ایک مذہبی و عملی مسلمان‘ تھے، سادہ زندگی گزارتے تھے، دہلی میں سرکاری رہائش گاہوں کے بجائے مساجد میں ٹھہرتے تھے اور کئی بار حج کر چکے تھے 1۔ کوئی مقالہ ان کے لیے کوئی مکتب بیان نہیں کرتا اور ویکی ڈیٹا ان کا مذہب صرف ’اسلام‘ بتاتا ہے 4۔ ان کی کمیونزم ایک سیاسی وابستگی تھی جو اوپر سیاست ہی کے طور پر درج ہے؛ عجائب گھر کا ریکارڈ ان کا مکتب نامعلوم رکھتا ہے اور شواہد جوں کے توں پیش کرتا ہے۔

    وہ 13 مئی 1951ء کو لکھنؤ میں وفات پا گئے 21۔ کراچی میں ان کے نام پر یادگاری لائبریری و ہال ہے اور 2014ء میں ہندوستانی ڈاک نے ان کا یادگاری ٹکٹ جاری کیا 1۔

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذی ادارے، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو اور ہر تبدیل شدہ واقعے کا ماخذ نام لے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Spouse of
    نشاة النساء موہانی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    نشاة النساء موہانی

    ماخذ

    1. Hasrat Mohani — English Wikipedia
    2. Hasrat Mohani — Urdu Wikipedia
    3. Hasrat Mohani — Arabic Wikipedia
    4. Hasrat Mohani — Wikidata Q3764778
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حسرت موہانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hasrat-mohani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    نشاة النساء موہانی

    ہندوستانی صحافی اور مجاہد آزادی (1884ء–1937ء)، حسرت موہانی کی اہلیہ۔ گھر پر تعلیم پائیں اور اردو، عربی، فارسی اور انگریزی میں مہارت رکھتی تھیں؛ عدم تعاون اور خلافت تحریکوں میں کام کیا، کھادی کی پہلی دکان ’علی گڑھ خلافت اسٹور‘ کھولی جس کی آمدنی سے گاندھی کے رسالے ’ینگ انڈیا‘ کی مدد کی، اپنے شوہر کے اخبار ’اردوئے معلى‘ کی اشاعت جاری رکھی، اور گاندھی کو اپنے شوہر کی مکمل آزادی کی قرارداد کی حمایت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔