ہاشم آملہ

هاشم أملا

جنوبی افریقہ کے سابق کرکٹ کھلاڑی اور سابق کپتان، جو 1983 میں ڈربن میں بھارتی نژاد مسلم خاندان میں پیدا ہوئے جس کے دادا 1927 میں سورت سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ دائیں ہاتھ کے ممتاز بلے باز کی حیثیت سے انھوں نے 2004ء سے 2019ء تک جنوبی افریقہ کے لیے کھیلا؛ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ملک کے دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں (9,282 رنز) اور ایک روزہ کرکٹ میں تیسرے نمبر پر ہیں (8,113 رنز)، ان کے نام 28 ٹیسٹ سنچریاں اور 27 ایک روزہ سنچریاں ہیں، 2012 میں انھوں نے جنوبی افریقہ کی پہلی ٹیسٹ ٹرپل سنچری بنائی (انگلینڈ کے خلاف 311 ناٹ آؤٹ)، 2014 میں وہ جنوبی افریقہ کے پہلے مستقل غیر سفید فام ٹیسٹ کپتان بنے، اور 2019 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو کر بیٹنگ مرشد اور کوچ کے طور پر کام کیا۔ ماخذ انھیں ایک پرہیزگار مسلمان قرار دیتا ہے جنھوں نے اپنی وردی پر شراب ساز کمپنی کا لوگو لگانے سے انکار کیا تھا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
athlete
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ہاشم محمد آملہ جنوبی افریقہ کے سابق کرکٹ کھلاڑی ہیں جنھوں نے 2004ء سے 2019ء تک قومی ٹیم کے لیے کھیلا، وہ 31 مارچ 1983 کو ڈربن میں پیدا ہوئے۔ دائیں ہاتھ کے ممتاز بلے باز کی حیثیت سے وہ ٹیسٹ کرکٹ میں جنوبی افریقہ کے دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے اور ایک روزہ کرکٹ میں تیسرے نمبر کے کھلاڑی ہیں، دونوں فارمیٹس میں ان کی 55 بین الاقوامی سنچریاں ہیں، اور انھوں نے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ بھی کھیلی۔ 1 2 3 4

    وہ جون 2014 میں جنوبی افریقہ کے پہلے مستقل غیر سفید فام ٹیسٹ کپتان بنے، اور ان کا پیشہ ورانہ کیریئر 1999/2000ء سے 2022ء تک دنیا بھر کی ملکی اور فرنچائز ٹیموں پر پھیلا رہا۔ 1

    ذاتی زندگی اور ماخذ کے مطابق ایمان

    ڈربن میں پیدا ہونے والے آملہ کو مضمون ایک پرہیزگار مسلمان قرار دیتا ہے۔ وہ بھارتی نژاد ہیں؛ ان کے دادا 1927 میں بھارت کے سورت سے جنوبی افریقہ ہجرت کر آئے تھے۔ وہ ایک متوسط گھرانے میں پلے بڑھے اور ڈربن ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے بڑے بھائی احمد آملہ بھی پیشہ ور کرکٹ کھلاڑی تھے اور دونوں بھائی کچھ عرصہ کوازولو نٹال ڈولفنز میں ایک ساتھ کھیلے۔ ان کی شادی سمیہ سے ہوئی اور ان کے دو بچے ہیں۔ 1

    ان کی دینی پاسداری پورے کیریئر میں نمایاں رہی: انھوں نے اپنی وردی پر کاسل شراب ساز کمپنی کا لوگو لگانے سے انکار کیا، اور ای ایس پی این کرک انفو کے خاکے میں درج ہے کہ نوجوانی میں انڈر 19 دورے پر انھوں نے اپنے کمرے کے ساتھی سے رات کو جاگنے اور فجر سے قبل نماز کے لیے اٹھنے کی اجازت مانگی تھی۔ جولائی 2012 میں دی اوول میں اپنے ریکارڈ 311 ناٹ آؤٹ کے دوران، رمضان میں، وہ سفر کی وجہ سے میچ کے دنوں میں روزہ نہیں رکھ رہے تھے اور احتراماً کھانا نجی طور پر رکھا، اور کہا کہ وطن واپسی پر قضا رکھیں گے۔ 1

    اگست 2006 میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ کے دوران آسٹریلوی مبصر ڈین جونز کو ہوا پر آملہ کو کیچ لینے کے بعد «دہشت گرد» کہتے سنا گیا؛ یہ جملہ دنیا بھر میں نشر ہوا، جونز کی وسیع مذمت ہوئی اور ان کے چینل نے ان کا معاہدہ ختم کر دیا، اور جونز نے آملہ سے معافی مانگی جو انھوں نے قبول کر لی۔ 1

    بین الاقوامی کیریئر

    2004-05ء کے ملکی سیزن کی پہلی آٹھ اننگز میں چار سنچریاں بنانے کے بعد آملہ کو 21 برس کی عمر میں 2004 کے دورہِ بھارت کے لیے منتخب کیا گیا اور وہ بین الاقوامی کرکٹ میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرنے والے بھارتی نژاد پہلے جنوبی افریقی بن گئے۔ انھوں نے 28 نومبر 2004 کو ایڈن گارڈنز، کولکتہ میں آغاز کیا، سست آغاز اور اپنی تکنیک پر تنقید کے بعد 2006 میں نیولینڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ بچانے والی 149 رنز کی اننگز سے ناقدین کو جواب دیا۔ 2012 کے دورہِ انگلینڈ میں انھوں نے دی اوول میں 311 ناٹ آؤٹ بنائے — جنوبی افریقی کھلاڑی کی سب سے بڑی ٹیسٹ اننگز اور ملک کی پہلی ٹرپل سنچری — اور جنوبی افریقہ نے سیریز 2-0 سے جیت کر ٹیسٹ درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ انھوں نے اپنے کیریئر کا اختتام 9,282 ٹیسٹ رنز اور 28 ٹیسٹ سنچریوں اور 8,113 ایک روزہ رنز اور 27 سنچریوں کے ساتھ کیا۔ 1

    کپتانی، ریٹائرمنٹ اور کوچنگ

    جون 2014 میں گریم اسمتھ کی ریٹائرمنٹ کے بعد دورہِ سری لنکا سے قبل آملہ جنوبی افریقہ کے پہلے مستقل غیر سفید فام ٹیسٹ کپتان بنے اور اپنی پہلی ہی سیریز میں ٹیم کو سری لنکا میں تاریخی فتح دلائی۔ جنوری 2016 میں وہ کپتانی سے مستعفی ہو گئے۔ انھوں نے 2019 کرکٹ ورلڈ کپ میں شرکت کی اور 8 اگست 2019 کو تمام بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ بعد میں انھوں نے بیٹنگ مشیر اور مرشد کے طور پر کام کیا — کیپ ٹاؤن بلٹز اور پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کے لیے — اور اگست 2023 میں جوہانسبرگ کے لائنز کے بیٹنگ کوچ مقرر ہوئے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    ماخذ

    1. Hashim Amla — English Wikipedia
    2. Hashim Amla — Arabic Wikipedia
    3. Hashim Amla — Urdu Wikipedia
    4. Hashim Amla — Wikidata Q735128
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ہاشم آملہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hashim-amla/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔