ہاشم الاتاسی

هاشم الأتاسي

–

حمص

حمص سے تعلق رکھنے والے سوری سیاست دان اور مردِ مملکت (1875–1960)، «ابو الجمهوریہ» کہلائے؛ وہ تین مرتبہ شام کے صدر رہے (1936–1939، 1949–1951، 1954–1955)، دو مرتبہ حکومت بنائی، اور سوری قومی کانگریس و آئین ساز اسمبلی کی صدارت کی؛ وہ فرانسیسی انتداب کے خلاف جدوجہدِ آزادی میں قومی بلاک کی نمایاں شخصیت تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · مولوی عبد الحق · احمد لطفی سید · علی المیرغنی · دا بوشينغ

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ہاشم الاتاسی (1875–1960) حمص سے تعلق رکھنے والے سوری سیاست دان اور مردِ مملکت تھے، جنہیں «ابو الجمهوریہ» کہا جاتا ہے۔ وہ تین مرتبہ شام کے صدر رہے (1936–1939، 1949–1951 اور 1954–1955)، دو مرتبہ حکومت بنائی، اور 1919–1920 کی سوری قومی کانگریس اور 1928 کی آئین ساز اسمبلی کی صدارت کی؛ وہ فرانسیسی انتداب کے خلاف جدوجہدِ آزادی میں قومی بلاک کی نمایاں شخصیت تھے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور عثمانی دور

    وہ حمص کے بڑے، زمین دار اور سیاسی طور پر سرگرم اتاسی خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد خالد الاتاسی حمص کے مفتی تھے۔ انہوں نے استنبول کے مکتبِ ملکیہ میں عوامی انتظامیہ کی تعلیم حاصل کی اور 1893 میں فارغ التحصیل ہوئے، اور 1888 میں عثمانی ولایت بیروت سے اپنے کریئر کا آغاز کر کے 1918 تک حمص، حماہ، بعلبک، اناطولیہ اور یافا کے گورنر رہے۔ ان کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے: انگریزی مضمون 11 جنوری 1875 دیتا ہے، جبکہ عربی مضمون 1873 بتاتا ہے اور ان کی زندگی کو 1290–1380 ہجری سے جوڑتا ہے، اور ویکی ڈیٹا میں دونوں سال موجود ہیں۔ 1 2 3

    کانگریس، انتداب اور صدارتیں

    پہلی جنگِ عظیم میں عثمانی شکست کے بعد وہ سوری قومی کانگریس کے صدر منتخب ہوئے، جس نے 8 مارچ 1920 کو شام کو شاہ فیصل کے تحت آئینی بادشاہت کے طور پر آزاد قرار دیا؛ اس مختصر مدت میں الاتاسی وزیرِ اعظم بنے، اس کے بعد فرانسیسیوں نے اپنا انتداب مسلط کر دیا۔ انتداب کے دور میں وہ قومی بلاک کے رہنما بنے اور 1928 میں آئین ساز اسمبلی کی صدارت کی۔ وہ پہلی مرتبہ صدر منتخب ہو کر 21 دسمبر 1936 سے 7 جولائی 1939 تک عہدے پر رہے۔ 1949 کی بغاوتوں کے بعد وہ اگست 1949 میں دوبارہ وزیرِ اعظم اور دسمبر میں صدر بنے، حتیٰ کہ دسمبر 1951 میں ادیب شیشکلی کی بغاوت نے ان کی مدت ختم کر دی؛ وہ تیسری مرتبہ فروری 1954 سے ستمبر 1955 تک صدر رہے اور آئینی زندگی بحال کی۔ ان کا انتقال حمص میں انگریزی مضمون اور ویکی ڈیٹا کے مطابق 5 دسمبر 1960 کو ہوا؛ عربی مضمون 6 دسمبر 1960 دیتا ہے۔ 1 2

    ان کے مذہب پر ایک نوٹ

    عربی مضمون کا اطلاعات خانہ ان کا مذہب صرف «مسلمان» بتاتا ہے، کوئی مسلک نامزد نہیں کرتا؛ انگریزی و اردو مضامین کوئی وابستگی بیان نہیں کرتے اور ویکی ڈیٹا میں مذہب کی کوئی قدر نہیں۔ ان کے والد حمص کے مفتی تھے — والد کا منصب خاندانی پس منظر ہے، بیٹے کے لیے ثبوت نہیں۔ اس لیے ان کے اندراج میں ایمان «نامعلوم» درج ہے۔ 2 1 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    حمص
    Died in
    حمص

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مشهد خالد خارج حمص· فتح حمص· ملك صلاح الدين حمص وحماة· وقعة حمص الثانية على التتار سنة 680هـ· عبد الدائم کحیل· الملك المنصور ابن شيركوه· أسد الدين شيركوه صاحب حمص· خالد بن الوليد

    ماخذ

    1. Hashim al-Atassi — English Wikipedia
    2. Hashim al-Atassi — Arabic Wikipedia
    3. Hashim al-Atassi — Wikidata Q59930
    • Hashim al-Atassi — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ہاشم الاتاسی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hashim-al-atassi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مشهد خالد خارج حمص

    The shrine outside Homs popularly ascribed to Khalid ibn al-Walid; al-Umari rejects the ascription decisively — Khalid was dismissed by Umar, taken to Medina and died there — and assigns the tomb to Khalid ibn Yazid ibn Mu'awiya.