حمیدہ جوانشیر

حميدة جوانشير

–

آذربائیجانی معلمہ، سماجی کارکن اور صاحبِ خیر (1873–1955)، آذربائیجان کی اولین روشن خیال خواتین میں سے ایک؛ طنز نگار جلیل محمد قلی زادہ کی اہلیہ اور رسالے «ملا نصرالدین» میں ان کی شریکِ کار۔ انہوں نے اپنے گاؤں کہریزلی میں مخلوط تعلیم کا اسکول اور اسپتال قائم کیا، قفقازی مسلم خواتین کی فلاحی انجمن کی بانیوں میں شامل ہوئیں، اور ان کی یادداشتیں ان کی وفات کے بعد شائع ہوئیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist · writer · philanthropist
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · احمد لطفی سید · علی المیرغنی · محمد طاہر جلال الدین

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حمیدہ احمد بے قاضی جوانشیر (19 جنوری 1873 – 6 فروری 1955)، جو اپنی دوسری شادی کے بعد حمیدہ محمد قلی زادہ کے نام سے مشہور ہوئیں، آذربائیجانی معلمہ، سماجی کارکن اور صاحبِ خیر تھیں، آذربائیجان کی اولین روشن خیال خواتین میں سے ایک، اور طنز نگار جلیل محمد قلی زادہ (1869–1932) کی اہلیہ اور ان کے رسالے «ملا نصرالدین» میں شریکِ کار، جو اپنے دور کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا مسلم طنزیہ رسالہ تھا۔ 1 2 انہوں نے اپنے گاؤں کہریزلی میں مخلوط تعلیم کا اسکول اور اسپتال قائم کیا، قفقازی مسلم خواتین کی فلاحی انجمن کی بانیوں میں شامل ہوئیں، اور ان کی یادداشتیں ان کی وفات کے بعد شائع ہوئیں۔ 2 3

    ابتدائی زندگی اور شادیاں

    وہ کہریزلی میں اپنے خاندان کی آبائی جاگیر میں پیدا ہوئیں، مؤرخ و مترجم اور روسی شاہی فوج کے افسر احمد بے جوانشیر کی سب سے بڑی اولاد اور قاراباغ کے آخری خان ابراہیم خلیل خان کی پڑپوتی تھیں۔ وہ گھر پر تعلیم یافتہ تھیں؛ چودہ برس کی عمر میں یورپی اور اسلامی ادب سے واقف تھیں اور روسی و فرانسیسی روانی سے بولتی تھیں۔ 1 4 1889 میں ان کی شادی لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم بے داوتداروف سے ہوئی؛ 1900 میں خاندان قارص منتقل ہوا اور جلد ہی ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا — انگریزی مضمون 1901 کی طرف اشارہ کرتا ہے اور روسی مضمون 1902 دیتا ہے۔ 1 3 انہیں والد کی جاگیر ورثے میں ملی اور انہوں نے کپاس کی تجارت جاری رکھی۔ والد کے تاریخی مخطوطے کو طباعت کے لیے تفلس لے جانے پر اکتوبر 1905 میں ان کی ملاقات جلیل محمد قلی زادہ سے ہوئی، 1907 میں شادی ہوئی — روسی مضمون کے مطابق 15 جون 1907 — اور وہ 1920 تک تفلس میں رہے؛ ان کے دو بیٹے مدحت (1908) اور انور (1911) پیدا ہوئے۔ 1 3

    خدمات

    قاراباغ کے قحط (1907) میں انہوں نے بھوکے دیہاتیوں میں آٹا اور باجرہ تقسیم کیا اور مقامی آرمینیائیوں اور آذربائیجانیوں کے درمیان ثالثی کی۔ 1 کہریزلی میں انہوں نے ایک مخلوط اسکول قائم کیا جہاں لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی جماعت میں پڑھتے تھے — انگریزی مضمون اسے آذربائیجان کا پہلا ایسا اسکول کہتا ہے — لیکن اس کے سال میں مضامین مختلف ہیں: انگریزی 1908، روسی 1909، اور آذربائیجانی 1912 دیتا ہے، اور عجائب گھر اس اختلاف کو اسی طرح درج کرتا ہے۔ 1 3 2 روسی مضمون ان کے کھولے گئے اسپتال اور بنائی کے کارخانے کا بھی ذکر کرتا ہے، اور یہ کہ وہ قفقازی مسلم خواتین کی فلاحی انجمن (1906–1917) کی بانیوں میں شامل تھیں۔ 3 بیمار شاعر مرزا علی اکبر صابر کو ان کے مشورے پر جلیل نے علاج کے لیے تفلس بلایا اور میاں بیوی نے اسے اپنے گھر رکھ کر اس کے اخراجات اٹھائے۔ 2

    آخری سال اور وفات

    1921 میں خاندان باکو منتقل ہوا؛ سوویت دور کے شروع میں ان کی زمینیں ضبط ہوئیں اور شریفانہ نسل کی وجہ سے وہ حقِ رائے سے محروم ہوئیں، جیسا کہ روسی مضمون بتاتا ہے۔ 3 شوہر کی وفات (1932) کے بعد انہوں نے یادداشتیں لکھیں اور ان کی تصانیف کا ترجمہ کیا، اور آذربائیجان کے ادیبوں کی انجمن کی رکن منتخب ہوئیں۔ ان کی یادداشتیں 1967 میں باکو سے شائع ہوئیں اور ان کا انگریزی ترجمہ «Awake: A Moslem Woman's Rare Memoir» کے عنوان سے 2016 میں واشنگٹن سے آیا۔ 2 وہ 6 فروری 1955 کو باکو میں وفات پا گئیں اور اپنے شوہر کے پہلو میں رواقِ اعزاز میں دفن ہوئیں؛ کہریزلی میں 2005 سے ان کا گھر عجائب گھر ہے۔ 1 2

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    ان کا مذہب۔ کسی بھی زبان کا کوئی مضمون حمیدہ جوانشیر کے لیے کوئی مذہبی مکتب بیان نہیں کرتا۔ ویکی ڈیٹا میں ان کے دین کی واحد قیمت «شیعہ اسلام» ہے، جس کا واحد حوالہ یہ ہے کہ وہ «انگریزی ویکیپیڈیا سے درآمد شدہ» ہے — حالانکہ انگریزی مضمون ان کے دین کے بارے میں کچھ کہتا ہی نہیں — اس لیے یہ ایک درآمد شدہ ساختی قیمت ہے جس کے پیچھے کوئی متن نہیں، اور عجائب گھر کے دو ماخذوں کے اصول کے تحت یہ کسی مکتب کے اندراج کے لیے کافی نہیں۔ 5 1 مضامین جو کچھ درج کرتے ہیں وہ سیاق ہے، گواہی نہیں: مسلم خواتین کی فلاحی انجمن کی تاسیس میں شرکت ادارہ جاتی کام ہے اور ان کی یادداشتوں کا انگریزی عنوان ان کے مترجمین کا رکھا ہوا ہے۔ اس لیے ان کا مذہب «نامعلوم» درج کیا گیا ہے اور ویکی ڈیٹا کی قیمت ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں مکمل محفوظ ہے۔

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Spouse of
    جلیل محمد قلی زادہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جلیل محمد قلی زادہ

    ماخذ

    1. Hamida Javanshir — English Wikipedia
    2. Hamida Javanshir — Azerbaijani Wikipedia
    3. Hamida Javanshir — Russian Wikipedia
    4. Hamida Javanshir — Urdu Wikipedia
    5. Hamida Javanshir — Wikidata Q5644681
    • Hamida Javanshir — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حمیدہ جوانشیر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hamida-javanshir/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جلیل محمد قلی زادہ

    آذربائیجانی طنز نگار، ادیب اور استاد (1869–1932؛ سالِ پیدائش متنازع ہے)، ساتری رسالے «ملا نصرالدین» (1906) کے بانی و مدیر، جس نے عوامی زبان میں جہالت، بدعنوانی اور مذہبی تعصب پر کاری ضرب لگائی۔