حفیظ جالندھری

حفيظ جالندهري

–

لاهور

پاکستانی شاعر (1900ء–1982ء) جنھوں نے پاکستان کے قومی ترانے اور آزاد کشمیر کے ترانے کے بول لکھے اور چار جلدوں پر مشتمل «شاہنامۂ اسلام» تصنیف کی۔ وہ جالندھر میں پیدا ہوئے، 1947ء میں لاہور آ گئے، نئی پاکستانی ریاست میں ثقافتی و تشہیری مناصب پر فائز رہے اور تمغۂ حسنِ کارکردگی اور ہلالِ امتیاز سے نوازے گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · عبد الله الموسوي الشيرازي · باوا محی الدین · فرحت عباس · حامد الأيتاج

مکان میں

لاهور

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ابوالاثر حفیظ جالندھری (14 جنوری 1900ء – 21 دسمبر 1982ء) پاکستانی شاعر و مصنف تھے جنھوں نے پاکستان کے قومی ترانے اور آزاد کشمیر کے ترانے کے بول لکھے اور چار جلدوں پر مشتمل «شاہنامۂ اسلام» تصنیف کی۔ وہ جالندھر (پنجاب) میں پیدا ہوئے، 1947ء میں لاہور آ گئے اور نئی پاکستانی ریاست میں ثقافتی و تشہیری مناصب پر فائز رہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ محمد عبد الحفیظ نام سے جالندھر میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد شمس الدین حافظِ قرآن تھے اور والدہ کا نام جہاں بی بی تھا۔ انھوں نے ساتویں جماعت تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی، پھر گھر اور محلے کی مسجد میں مطالعہ جاری رکھا۔ شاعری سے انھیں بچپن ہی سے شغف تھا، مولانا غلام قادر گرامی کی شفقت حاصل تھی اور انھوں نے دس سال سے کم عمر میں اردو اور شعر کے اصول سیکھ لیے۔ انگریزی مقالے میں ہے کہ وہ ایک پنجابی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے اور ایک پرہیزگار مسلمان سمجھے جاتے تھے؛ یہ ان کی پرورش اور مقام کی توصیف ہے، کسی مکتب سے انتماء کا اندراج نہیں۔ 1 2

    کارنامے اور مناصب

    1922ء سے 1929ء تک مختلف شہروں میں رسائل کی ادارت کے بعد لاہور آ بسے۔ 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد قومی ترانہ کمیٹی کے رکن تھے؛ 1948ء میں آزاد کشمیر کے قومی ترانے کے بول لکھے اور 1949ء میں 723 نظموں میں سے پاکستان کے قومی ترانے کے لیے ان کی نظم منتخب ہوئی، جو 1954ء میں باقاعدہ منظور ہوئی۔ وہ ڈائریکٹر آف پبلسٹی (1948ء–1953ء)، مشیر برائے وزارت اطلاعات و نشریات (1953ء–1955ء)، صدر ایوب خان کے مشیر برائے مصنف (1956ء–1958ء) اور صدر کی مشاورتی کونسل کے چیئرمین (1958ء–1965ء) رہے، فوج کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سربراہ کی حیثیت سے میجر جنرل کے عہدے پر بھی رہے، اور ایوانِ اقبال لاہور کے اعزازی سربراہ مقرر ہوئے۔ 1 2

    تصانیف

    ان کا پہلا مجموعہ «نغمہ زار» 1925ء میں شائع ہوا، بعد میں «سوز و ساز» (1932ء) اور «تلخابۂ شیریں» (1933ء) آئے۔ ان کی مشہور ترین تصنیف «شاہنامۂ اسلام» ہے جو چار جلدوں میں 1928ء سے 1947ء کے درمیان شائع ہوئی؛ یہ فردوسی کے شاہنامے کے طرز پر تاریخِ اسلام اور سیرتِ نبوی کا منظوم بیان ہے۔ 1 2

    وفات اور اعزازات

    وہ 21 دسمبر 1982ء کو لاہور میں وفات پا گئے۔ پہلے ماڈل ٹاؤن میں دفن ہوئے، بعد میں لاہور میں مینارِ پاکستان کے نزدیک حکومتِ پاکستان کے بنائے ہوئے مقبرے میں منتقل کر دیے گئے۔ انھیں 1958ء میں صدرِ پاکستان کی طرف سے ادب میں تمغۂ حسنِ کارکردگی اور ہلالِ امتیاز ملا۔ 1 2

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرفہ ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرنا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    لاهور
    Died in
    لاهور
    Buried in
    لاهور

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· امین احسن اصلاحی

    ماخذ

    1. Hafeez Jullundhri — English Wikipedia
    2. Hafeez Jullundhri — Urdu Wikipedia
    • Hafeez Jullundhri — Arabic Wikipedia
    • Hafeez Jullundhri — Wikidata Q1593557
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حفیظ جالندھری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hafeez-jullundhri/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد بادشاهي

    A mosque in Lahore, dated to 1671 CE.