حمزہ بیگ

حمزة بك الهوتسالي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

غمزت بیک (حمزہ بیک) بن اسکندر بیک (1789–1834) داغستان کے دوسرے امام (1832–1834) اور غازی محمد کے جانشین تھے۔ آوار اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے اس سپہ سالار نے پہلے امام کی فوجوں کی قیادت کی؛ غازی محمد کی گمری میں شہادت پر وہ امام منتخب ہوئے، بیشتر آوار سطح مرتفع کو مطیع کیا اور آوار خانات کے دارالحکومت خونزاخ پر قبضہ کر کے اس کے حکمران خاندان کو ختم کر دیا؛ 19 ستمبر (1 اکتوبر) 1834 کو خونزاخ کی مسجد میں حاجی مراد کے بھائی حاجی عثمان نے خاندان کے انتقام میں انہیں قتل کر دیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
emir · عالم
خطہ
anatolia-balkans
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: احمد اللہ شاہ · البيجوري إبراهيم بن محمد · الرحمتي · الشوكاني · أمير خان (زعيم البَتان، مؤسس طونك)

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی

    وہ 1789 میں آوار خانات کے بڑے گاؤں گوتساتل (ہوتسال) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علی اسکندر بیک کامیاب آوار سپہ سالار تھے، جو اوما خان پنجم کے وزیر اور خان سلطان احمد کے مشیر رہے، اور والدہ عام گھرانے سے تھیں؛ اس طرح وہ «جانکا» طبقے سے تھے، یعنی مخلوط اشرافی و عوامی نسل سے۔ 1 2

    ان کے پہلے استاد اوما خان کے منشی دیبیر قادی تھے۔ 1801 میں بارہ برس کی عمر میں انہیں چوخ بھیجا گیا جہاں معروف عالم مہاد آفندی نے ان کی تربیت کی، پھر انہوں نے سعید اراکانی اور خونزاخ کے نور محمد قادی کے پاس عربی، بلاغت اور فقہ کی تعلیم جاری رکھی اور خونزاخ میں خان کے گھر رہے؛ انگریزی مضمون اسے کئی آوار علماء کے ہاں شافعی فقہ اور عربی کی تعلیم قرار دیتا ہے۔ 1 2

    جوانی میں وہ شراب پیتے تھے، مگر داغستانی دینی مصلح غازی محمد سے ملاقات کے بعد چھوڑ دی۔ وہ متقی مسلمان بنے اور داغستان میں رائج عرفی قانون (عادت) کی جگہ شریعت نافذ کرنے کی غازی محمد کی تحریک میں شامل ہو گئے۔ تاہم وہ نقشبندیہ خالدیہ صوفی سلسلے کے رکن کبھی نہیں بنے، جس کے ارکان غازی محمد اور تیسرے امام شامل تھے؛ انگریزی مضمون یہ بات دو مرتبہ صراحت سے کہتا ہے۔ مختصر عربی اور اردو مضامین انہیں کمزور اور غیر مسند الفاظ میں اپنے زمانے کے صوفی مشائخ کا مخلص پیروکار بتاتے ہیں — یہ قراءت اس عجائب گھر کے ڈیٹا ریکارڈ میں اس تضاد سمیت محفوظ ہے، یہاں اختیار نہیں کی گئی۔ 2 3 4

    غازی محمد کے سپہ سالار

    حمزہ بیک نے 1826 ہی سے روسیوں کے خلاف لڑائی لڑی، اور 1829 میں اس دستے کی قیادت کی جو خان کی بیوہ پاخو بکہ نے تارکی شمخالیت کی جانشینی کی جدوجہد میں ابو مسلم کی حمایت کے لیے بھیجا تھا۔ وہ غازی محمد کے اہم ترین سپہ سالاروں میں سے بنے: فروری 1830 میں خونزاخ پر حملے میں شریک ہوئے، بہار 1830 میں ایک روسی دستے پر حملہ کیا، جاروبلاکان پر روسی قبضے کے بعد جوابی حملوں کی قیادت کی اور خزاں 1830 میں کاخیتی کی وادیِ الازانی میں جارجیائی بستیوں پر حملے کیے۔ پھر روسیوں نے انہیں گرفتار کیا — انگریزی مضمون ان کی گرفتاری جون 1831 کی مذاکرات سے جوڑتا ہے، روسی مضمون 1830 کی جاروبلاکان مہم کے بعد کے موسم سرما سے — انہیں تفلیس لے جایا گیا، یرغمالی دے کر اور روسی مضمون کے مطابق کیورین کے اصلان خان کی سفارش سے رہا ہوئے؛ انگریزی مضمون کہتا ہے کہ وہ یرغمالی دیے گئے بیٹے کی قید میں موت کی خبر سن کر غازی محمد کے پاس واپس آئے۔ نومبر 1831 میں انہوں نے آگاچ قلعے کا دفاع کیا، جولائی 1832 کے اوائل میں زخمی ہوئے مگر اسی موسم گرما جاروبلاکان میں مہم جاری رکھی۔ اکتوبر 1832 میں جب غازی محمد گمری میں محصور تھے تو روسی پروپیگنڈے کے جعلی خطوط نے حمزہ بیک کو گمراہ کیا اور وہ وقت پر نہ پہنچ سکے؛ غازی محمد 29 اکتوبر 1832 کو قتل ہوئے۔ 2 1

    داغستان کی امامت

    غازی محمد کی وفات کے بعد داغستان کے علماء و اعیان نے انہیں امام قرار دیا — روسی مضمون کے مطابق جنوری 1833 میں، اور انگریزی مضمون کے مطابق نقشبندی شیخ محمد الیٰراغی کی تحریک پر، اگرچہ میخائیل کیمپر لکھتے ہیں کہ انہوں نے «خود کو نیا امام اعلان کروایا»۔ دوسرے امیدوار شامل تھے، جو گمری کے زخموں سے صحت یاب ہو رہے تھے، جب کہ حمزہ بیک بطور دولت مند جانکا حامی جٹانے میں زیادہ اہل تھے۔ 2 1

    ابتدا میں ان کی حکومت گوتساتل، اشیلتا، گمری، تلیق (تلیتل) اور موقوخ سے آگے نہ تھی؛ انہوں نے طاقت سے بستیوں کو دوبارہ امامت کے تابع کیا، اگست 1833 میں ارگانائے اور اراکانی لیے، اکتوبر 1833 میں غیرگیبل کے مقام پر شمخال، مہتولی خان اور اکوشا اتحاد کے اتحاد کو شکست دی، اور 1834 کے اوائل تک بیشتر آوار اتحادوں پر قابض ہو گئے، جن میں کوئیسوبو، گومبت، اندی اور اندالال شامل تھے۔ وہ اپنے زیرِ حکومت ہر علاقے میں باقاعدگی سے نائب مقرر کرتے تھے — موشے گامر انہیں امامت کے ریاستی انتظامی ڈھانچے کا بانی قرار دیتے ہیں — اور گوتساتل کو دارالحکومت قرار دے کر بعد میں خونزاخ منتقل کیا۔ اپنے پیشرو اور جانشین کے برعکس، جو بنیادی طور پر «آزاد» (اوزدن) برادریوں پر تکیہ کرتے تھے، حمزہ بیک نے آوار خانات کے شاہی خاندان کی حمایت حاصل کرنے پر توجہ دی، جس سے ان کے ذاتی روابط تھے۔ انہوں نے روس سے اس شرط پر صلح کی کوشش بھی کی کہ روسی شریعت کے نفاذ میں مداخلت نہ کریں، مگر خطوط اور شمخال کی ثالثی سے چلنے والی یہ مذاکرات ناکام رہیں۔ 2 1

    خونزاخ کی فتح اور قتل

    1834 کے موسم گرما میں انہوں نے خونزاخ کا دو ہفتے محاصرہ کیا۔ پاخو بکہ نے معاہدے کے لیے اپنے دو بیٹے یرغمالی دیے؛ 25 اگست [13 اگست قدیم طرز] کو ان کے کیمپ میں غیر ارادی طور پر بھڑکنے والی لڑائی میں اس کے بیٹے نوتسال اور اوما اور ان کے آدمی، اور امام کے بھائی اور کچھ پیروکار مارے گئے۔ پھر حمزہ بیک نے خونزاخ پر دھاوا بول کر پاخو بکہ اور آوار شاہی خاندان کی تمام عورتوں کے قتل کا حکم دیا، سوائے اس کی حاملہ بہو کے؛ انہوں نے چوپانوف اور سلطانیلوف خاندانوں کو بھی ختم کیا۔ اس کے بعد شاید انہوں نے آوار خان کا لقب بھی اختیار کیا، یوں روایتی اشرافیہ کے اختیار کو اپنی تحریک کے اسلامی اختیار سے جوڑنے کی کوشش کی۔ 2 1

    1 اکتوبر [19 ستمبر قدیم طرز] 1834 کو خونزاخ کی جامع مسجد کے سامنے حاجی عثمان نے انہیں قتل کر دیا، جو آوار حکمران خاندان کا رشتہ دار اور حاجی مراد — لیو ٹالسٹائی کے مشہور ناول کا مرکزی کردار — کا بھائی تھا؛ یہ قتل خاندان کی تباہی کا انتقام تھا، اور عثمان کو فوراً بعد قتل کر دیا گیا۔ امامت میں ان کے جانشین شامل ہوئے، اور ان کی قبر خونزاخ میں ہے۔ 2 1

    ورثہ و شہرت

    آوار حکمران خاندان کے قتلِ عام نے ان کی ساکھ کو زندگی میں بھی اور بعد میں بھی داغدار کیا، مگر چشم دید گواہ حاجی علی انہیں «عالم و دانا، اور داغستان میں بہادری میں ان کا کوئی ثانی نہیں» بتاتے ہیں۔ موشے گامر کا موقف ہے کہ داغستانی اور روسی مآخذ دونوں میں ان کی اہمیت نظر انداز ہوئی؛ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کی فوری جانشینی نے غازی محمد کی موت کے بعد تحریک کو بچایا اور آوار خانات کی تباہی نے امامت کو پورے وسطی داغستان پر پھیلا دیا۔ میخائیل کیمپر ان کے دور کو «کرشماتی قائدین غازی محمد اور شامل کے درمیان ایک مختصر 'اشرافی' وقفہ» قرار دیتے ہیں۔ داغستانی لوک روایت میں وہ ایک طرف منافقوں کے ہاتھوں مارے گئے شہید ہیں اور دوسری طرف خونزاخ کی روایتوں میں منفی صورت میں یاد کیے جاتے ہیں؛ ٹالسٹائی نے «حاجی مراد» میں ان کا نام اس مصرعے سے یاد کیا: «ہم لڑیں گے جیسے غمزت لڑا تھا»۔ 2 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    قاضی محمد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    نقشبندیہ طریقہ· قاضی محمد

    ماخذ

    1. Gamzat-bek — Russian Wikipedia
    2. Hamzat Bek — English Wikipedia
    3. Hamzat Bek — Arabic Wikipedia
    4. Hamzat Bek — Urdu Wikipedia
    • Gamzat-bek — Wikidata Q2737419
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حمزہ بیگ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/gamzat-bek/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    نقشبندیہ طریقہ

    The most widespread of the Sufi orders across Central Asia, the Ottoman lands and India, named after Baha al-Din Naqshband of Bukhara (d. 791 AH/1389 CE); marked by silent remembrance (dhikr khafi) and outward sobriety, its best-known branch the Mujaddidi.