فاروق الباز

فاروق الباز

مصری نژاد امریکی ماہرِ ارضیات اور خلائی سائنس دان، جو 1938 میں زقازیق میں پیدا ہوئے، جنہوں نے اپولو پروگرام میں چاند کی سائنسی تحقیق کی منصوبہ بندی میں ناسا کے ساتھ کام کیا (1967–1972)، نزول کی جگہیں منتخب کیں اور خلابازوں کو تربیت دی، پھر بوسٹن یونیورسٹی کے مرکزِ استشعارِ بعید کی بنیاد رکھی اور اس کے ڈائریکٹر رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سائنس دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس حلمی ثانی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    فاروق الباز (پیدائش 2 جنوری 1938) مصری نژاد امریکی ماہرِ ارضیات اور خلائی سائنس دان ہیں۔ 1 انہوں نے اپولو پروگرام میں ناسا کے ساتھ چاند کی سائنسی تحقیق کی منصوبہ بندی میں کام کیا، نزول کی جگہیں منتخب کیں اور خلابازوں کو قمری مشاہدے اور تصویر کشی کی تربیت دی، اور اپولو 11 (1969) میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 1 بعد ازاں انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی کے مرکزِ استشعارِ بعید کی بنیاد رکھی اور اس کے ڈائریکٹر رہے، اور مصنوعی سیاروں کی تصاویر سے صحراؤں اور زیرِ زمین پانی کی تحقیق میں نام پایا۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ زقازیق، محافظہ شرقیہ میں مسلم مصری والدین کے ہاں پیدا ہوئے؛ ان کا خاندان اصلاً دقہلیہ کے گاؤں طوخ الاقلام سے تھا، اور ان کے والد شیخ محمد الباز الازہر کے فارغ تھے جن سے شیخ محمد متولی الشعراوی نے بھی پڑھا تھا۔ 1 2 ایک سوانح ان کی تاریخِ پیدائش 1 جنوری 1938 لکھتی ہے؛ یہ ریکارڈ جامعہ عین شمس اور انگریزی مقالے کی قراءت — زقازیق، 2 جنوری 1938 — کو اپناتا ہے اور اختلاف یہاں درج کرتا ہے۔ 3 4 انہوں نے 1958 میں جامعہ عین شمس سے کیمیا اور ارضیات میں بی ایس سی کیا، 1961 میں میزوری سے ایم ایس اور 1964 میں پی ایچ ڈی کی، پھر ہائیڈلبرگ میں پڑھایا اور 1966 میں خلیجِ سویز میں المرجان آئل فیلڈ کی دریافت میں شریک ہوئے۔ 1

    اپولو کے سال

    1967 سے 1972 تک وہ بیل کام میں قمری سائنسی منصوبہ بندی کے نگران، لینڈنگ سائٹ سلیکشن کمیٹی کے سیکرٹری، اور خلاباز تربیتی گروپ کے چیئرمین رہے۔ 1 خلاباز انہیں «کنگ» کہتے تھے، اور اپولو 15 کے الفریڈ ورڈن نے چاند کے گرد پہلی بار چکر لگاتے ہوئے کہا کہ کنگ کی تربیت کے بعد لگتا ہے جیسے میں یہاں پہلے آ چکا ہوں۔ 1 عجائب گھر میں چھوئے جا سکنے والے چاند کے پتھروں کا خیال انہیں بچپن کے حج میں حجرِ اسود چھونے سے آیا۔ 1

    بعد از اپولو اور تحقیقی کام

    1972 کے بعد انہوں نے سمتھسونین میں مرکزِ مطالعۂ ارض و سیارگان قائم کیا، 1978 میں صدر سادات کے سائنسی مشیر بنے، اور 1986 میں بوسٹن یونیورسٹی کے مرکزِ استشعارِ بعید کے بانی ڈائریکٹر بنے۔ 1 ان کی تحقیق نے ریڈار تصاویر سے صحرائے اعظم میں دفن دریا دریافت کیے اور مصر، عمان اور امارات میں زیرِ زمین پانی کے مقامات بتائے؛ انہوں نے جزیرہ نما عرب سے خلیج کی جانب بہنے والے قدیم دریا کو «دریائے کویت» کا نام دیا۔ 1 وہ 2002 میں امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف انجینئرنگ کے رکن منتخب ہوئے، اور کشودر گرہ 7371 ان کے نام پر رکھا گیا۔ 1 5

    مؤقف

    یہ حصہ مصادر کی روایت بغیر فیصلے کے پیش کرتا ہے۔ انگریزی مقالہ درج کرتا ہے کہ وہ اپریل 2011 میں حزب المصریین الاحرار میں شامل ہوئے اور صدر مبارک کے سینئر مشیر رہے؛ متحف یہ کردار جوں کے توں درج کرتا ہے۔ 1 ان کے مسلک کے بارے میں کوئی مصدر کوئی نام نہیں دیتا؛ انگریزی مقالہ مسلم والدین اور بچپن کے حج کا ذکر کرتا ہے، جو خاندانی پس منظر ہے، مسلک کا ثبوت نہیں، اس لیے ان کے اعداد میں مسلک «نامعلوم» ہی رہتا ہے۔ 1

    حوالہ جات

    • اوپر مذکور معرفہ مصدر اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    ماخذ

    1. Farouk El-Baz — English Wikipedia
    2. Al Jazeera — Farouk El-Baz profile (Arabic)
    3. Worldwide Cancer Network — Farouk El Baz biography
    4. Ain Shams University — Farouk El-Baz profile (Arabic)
    5. Egypt State Information Service — US Embassy highlights Farouk El-Baz
    • Farouk El-Baz — Wikidata Q1750619
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فاروق الباز”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/farouk-el-baz/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔