بائی بورے

باي بوريه

–

بائی بورے (15 فروری 1840ء – 24 اگست 1908ء)، سیرا لیون کے حکمران، عسکری ماہر اور مسلمان عالم، جنہوں نے 1898ء میں شمالی سیرا لیون میں برطانوی راج کے خلاف تمنے اور لوکو بغاوت کی قیادت کی۔ وہ پورٹ لوکو کے قریب کاسے میں ایک مسلمان عالم اور لوکو سردار کے ہاں پیدا ہوئے، گبندمبو میں جنگی تربیت پائی اور «کبالائی» یعنی «جو جنگ سے نہیں تھکتا» کا لقب پایا؛ 1860ء اور 1870ء کی دہائیوں میں وہ درست اسلامی رسوم کے قیام کے لیے لڑتے ہوئے شمال کے سب سے بڑے جنگجو بنے، 1882ء میں سوسو حملہ پسپا کیا اور 1886ء میں تاج پوشی ہوئی۔ انہوں نے برطانوی جھونپڑی ٹیکس ماننے سے انکار کر کے 1898ء کی جنگ کی قیادت کی اور مہینوں گوریلا حربوں سے مزاحمت کی؛ 11 نومبر 1898ء کو ہتھیار ڈالے، گولڈ کوسٹ جلاوطن ہوئے، 1905ء میں واپس آ کر کاسے کے سردار بحال ہوئے اور وفات تک رہے۔ آج وہ سیرا لیون کے سب سے بڑے ہیرو ہیں؛ فری ٹاؤن کے وسط میں ان کا مجسمہ ہے اور ایک لیون کے نوٹ پر ان کی تصویر ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · military-leader · religious-leader
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرزاق البيطار · الفا یایا ڈیالو · الطاف حسین حالی · شیخ بوعمامہ · دلی فواد پاشا

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    بائی بورے (15 فروری 1840ء – 24 اگست 1908ء) سیرا لیون کے حکمران، عسکری ماہر اور مسلمان عالم تھے جنہوں نے 1898ء میں شمالی سیرا لیون میں برطانوی راج کے خلاف تمنے اور لوکو بغاوت کی قیادت کی، جیسا کہ انگریزی مقالہ بیان کرتا ہے، اور فرانسیسی مقالہ و وکی ڈیٹا ان کی ولادت و وفات کی تاریخوں اور کاسے کو دونوں کا مقام قرار دینے پر متفق ہیں۔ 1 2 3

    زندگی اور عہد

    وہ کاسے میں پیدا ہوئے؛ والد مسلمان عالم اور لوکو سردار، والدہ ماکینی کی تمنے تاجر تھیں۔ 1 2 جوانی میں گبندمبو میں جنگی تربیت پائی اور «کبالائی» یعنی «جو جنگ سے نہیں تھکتا» کا لقب ملا؛ 1860ء اور 1870ء کی دہائیوں میں درست اسلامی رسوم کے قیام کے لیے لڑتے ہوئے وہ شمال کے سب سے بڑے جنگجو بنے، 1882ء میں سوسو حملہ پسپا کیا اور 1886ء میں شمالی سیرا لیون کے سردار کا تاج پہنا۔ 1 انہوں نے جھونپڑی ٹیکس قبول کرنے سے انکار کیا اور 1898ء کی جنگِ ٹیکس کی قیادت کی؛ گورنر کے سو پاؤنڈ انعام کے جواب میں انہوں نے گورنر کی گرفتاری پر پانچ سو پاؤنڈ کا انعام رکھا۔ 1 مہینوں کی گوریلا مزاحمت کے بعد 11 نومبر 1898ء کو انہوں نے ہتھیار ڈالے، گولڈ کوسٹ جلاوطن ہوئے، 1905ء میں واپس آ کر کاسے کے سردار بحال ہوئے اور 1908ء میں وفات پائی۔ 1 فری ٹاؤن کے وسط میں ان کا مجسمہ ہے اور 2022ء کے ایک لیون کے نوٹ پر ان کی تصویر چھپی ہے۔ 1

    موقف و نقد

    یہ حصہ مآخذ میں منقول مواقف کی پیشکش ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    انگریزی مقالہ ذکر کرتا ہے کہ ان کے آدمیوں نے شمالی سیرا لیون کے درجنوں کریول باشندوں کو بھی قتل کیا جنہیں مقامی لوگ نوآبادیاتی حکومت کے حامی سمجھتے تھے۔ 1 ان کا مسلک «نامعلوم» درج ہے: مآخذ آزادانہ طور پر ان کے اسلام اور عالمِ دین ہونے کی شہادت دیتے ہیں، لیکن کوئی بھی ان کے نام سے کوئی فقہی مذہب یا صوفی سلسلہ بیان نہیں کرتا۔ 1 2

    حوالہ جات

    • اوپر درج شدہ معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Allied with
    المامی سولوکو

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    المامی سولوکو

    ماخذ

    1. Bai Bureh — English Wikipedia
    2. Bai Bureh — French Wikipedia
    3. Bai Bureh — Wikidata Q4843124
    • Sierra Leonean Heroes: 1898 Rebellion Era — Sierra Leone Web
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “بائی بورے”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/bai-bureh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    المامی سولوکو

    المامی سولوکو (تقریباً 1820ء – 1906ء)، شمالی سیرا لیون کے علاقے بیریوا کے لمبا حکمران اور اس کے سردار سانکیلائی کے بیٹے۔ جوانی میں وہ کوروغبا (سپہ سالار) بنے اور بیریوا کو سیرا لیون کی بڑی سلطنتوں میں شامل کر دیا، پھر گباکو (بادشاہ) کا تاج پہنا؛ انہوں نے دارالحکومت بومبان سے فری ٹاؤن جانے والی تجارت کی حفاظت کر کے اسے مالا مال کیا۔ انہوں نے اپنی آزادی محض سیاسی تدبیر سے برقرار رکھی: 1884ء میں ساموری تورے کی ماندنکا فوجوں کے قبضے پر بظاہر تعاون کیا مگر خفیہ طور پر انگریزوں کو خبردار کرتے رہے یہاں تک کہ وہ پیچھے ہٹ گئیں؛ 1898ء کی بغاوت میں بائی بورے کو خفیہ طور پر جنگجو اور ہتھیار بھیجے اور ساتھ ہی انگریزوں کو ثالثی کی پیشکش بھی کر دی۔ ان کی رعایا نے ان کی زندگی میں سلطنت کی تقسیم قبول نہ کی، اور جب ایک برطانوی اہلکار نے بڑھاپے میں ان سے جانشین کا نام پوچھا تو جواب دیا: «سولوکو کبھی نہیں مرے گا»۔ وفات 1906ء میں ہوئی۔