ایک نظر میں
- کردار
- حکمران
- خطہ
- west-africa-sahel
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
آسکیا داؤد (وفات 1582ء) سلطنت سونگھائی کے حکمران تھے، 1549ء سے 1582ء تک، آسکیا محمد اول کے بیٹے۔ ان کا عہد — کسی بھی آسکیا کا طویل ترین — جانشینی کے جھگڑوں کی ایک نسل کے بعد سلطنت کے امن و خوشحالی کی انتہا تھا۔ جو سال 1549ء–1582ء کبھی ان کی زندگی کے طور پر دیے جاتے ہیں وہ ان کا دورِ حکومت ہیں؛ ان کی پیدائش ذرائع میں ثابت نہیں۔ 1
پس منظر و تخت نشینی
داؤد آسکیا محمد تورے کے بہت سے بیٹوں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے اور ان کے بھائیوں نے والد کے زمانے میں اچھی اسلامی تعلیم پائی، جن کا منصوبہ — جیسا کہ عربی مضمون کہتا ہے — تجارت، تعلیم و خواندگی پر مبنی ایک مسلم معاشرہ تھا۔ 1528ء میں والد کی معزولی کے بعد سلطنت مختصر ادوار اور جانشینی کے جھگڑوں سے گزری حتیٰ کہ ان کے بھائی آسکیا اسحاق اول 1539ء میں پرامن طور پر منتخب ہوئے۔ داؤد کورمینا فاری کے منصب پر سلطنت کے مغربی نصف کے حکمران رہے۔ جب 1549ء میں اسحاق اول قریب المرگ ہوئے تو حامیوں نے داؤد کو تندیرما سے بلایا، اور وہ بلا مخالفت جانشین ہوئے۔ 1 2
دورِ حکومت
انھوں نے فوج کی تنظیم نو کی اور کم از کم بیس مہمات کی قیادت کی، جن میں سے بیشتر کامیاب رہیں: 1549ء اور 1561ء–1562ء میں موسی کے خلاف، 1558ء–1559ء اور 1563ء میں بورگو، اور 1550ء و 1558ء میں سلطنت مالی کے خلاف، جن میں آخری کا اختتام مانسا کی بیٹی سے شادی پر ہوا۔ اندرونِ ملک انھوں نے بیٹوں کو مناصب دیے، خزانے کی صوبائی شاخیں قائم کیں، تابع سرداروں، مذہبی رہنماؤں و تاجروں کو تخت سے جوڑنے کے لیے حکمتِ عملی کی شادیاں استعمال کیں، اور غلاموں سے چلنے والی وسیع جاگیریں رکھیں۔ 1556ء–1557ء میں مراکشی فوجوں نے طغازا کی نمک کی کانیں لیں اور واپس چلی گئیں؛ جب سلطان احمد المنصور نے 1578ء میں اپنی تخت نشینی کے بعد کانوں کی آمدنی کا مطالبہ کیا تو داؤد نے سونے کی بھاری نذر سے جواب دیا، جس سے امن تو خریدا گیا مگر کمزوری بھی ظاہر ہوئی۔ 1
مذہب و علم
داؤد اسلام سے لگاؤ کی وجہ سے مشہور تھے: وہ فقہ اسلامی کے ماہر اور قرآن کے حافظ تھے، اور تمبکٹو کے علما کا احترام کرتے اور ان پر سخاوت کرتے تھے۔ انھوں نے یونیورسٹی آف تمبکٹو کی تینوں مساجد کی مرمت کرائی اور خواندگی و اسلامی تعلیم کے فروغ کے لیے عوامی کتب خانے قائم کیے۔ اس ریکارڈ کے لیے پڑھے گئے کسی ماخذ نے ذاتی طور پر ان کا کوئی فقہی یا اعتقادی مکتب نہیں لکھا۔ 1
وفات و جانشینی
وہ 1582ء میں اپنی ایک جاگیر، توندیبی، میں طبعی موت فوت ہوئے، اور ان کی میت دریا کے راستے گاؤ لائی گئی جہاں وہ دفن ہوئے۔ ان کے بعد بیٹوں کے درمیان جانشینی کے جھگڑوں نے 1591ء کی مراکشی فتح سے پہلے کے عشرے میں سلطنت کو شدید کمزور کر دیا۔ 1
تعلقات
- Child of
- آسکیا محمد اول
- Buried in
- غاو
- Parent of
- آسکیا اسحاق دوم
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Askia Daoud — English Wikipedia
- Askia Daoud — Arabic Wikipedia
- Askia Daoud — Wikidata (Q2866678)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “آسکیا داؤد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/askia-dawud/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-31.