آصف علی

آصف علي

–

ہندوستانی وکیل، مجاہد آزادی اور سیاست دان (1888ء–1953ء)، امریکہ میں ہندوستان کے پہلے سفیر، اڈیشہ کے دو مرتبہ گورنر اور پھر سوئٹزرلینڈ میں سفیر، جہاں وہ عہدے پر فوت ہوئے۔ انھوں نے بھگت سنگھ اور آئی این اے افسران کا دفاع کیا، 1935ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور تحریک آزادی میں بار بار قید رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد القادر حاج علی · عبد الحمید خان بھاشانی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 11 مئی 1888ء کو برطانوی ہند کے ضلع بجنور کے قصبے سیوہارہ میں پیدا ہوئے 12۔ انھوں نے دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں تعلیم پائی اور لندن کے لنکنز ان سے بار میں داخل ہوئے 1۔

    قومی تحریک

    1914ء میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف برطانیہ کے اعلان جنگ نے ہندوستانی مسلمانوں پر گہرا اثر کیا؛ آصف علی نے عثمانیوں کی حمایت کی اور عدم تعاون کے طور پر پریوی کونسل سے استعفا دے دیا، اور دسمبر 1914ء میں ہندوستان واپس آ کر قوم پرست تحریک میں سرگرم ہو گئے 31۔ 1935ء میں وہ مسلم نیشنلسٹ پارٹی کے رکن کی حیثیت سے مرکزی قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے، پھر کانگریس کے سرکردہ رکن اور نائب قائد بنے 3۔ ان کی آخری قید اگست 1942ء کے ’ہندوستان چھوڑ دو‘ قرارداد کے بعد ہوئی، جب انھیں نہرو اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ساتھ احمد نگر قلعے میں نظر بند کیا گیا 3۔

    وکالت اور مناصب

    وہ ملک کے معزز ترین وکلاء میں شمار ہوئے: انھوں نے بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت کا دفاع کیا اور 1945ء میں انڈین نیشنل آرمی کے افسران کے دفاع کے لیے کانگریس کی قائم کردہ ٹیم کے منتظم بنے 1۔ 1946ء کی عبوری حکومت میں وہ ریلوے و نقل و حمل کے نگران رہے، فروری تا اپریل 1947ء امریکہ میں ہندوستان کے پہلے سفیر رہے، پھر 1948ء تا 1952ء اڈیشہ کے گورنر اور اس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں سفیر رہے 1۔

    ذاتی زندگی اور وفات

    1928ء میں انھوں نے ارونا گنگولی سے شادی کی؛ یہ شادی مذہب کے فرق — اردو و انگریزی مقالے بیان کرتے ہیں کہ آصف علی مسلمان جبکہ ارونا ہندو خاتون تھیں — اور عمر میں بیس سال کے فرق کی وجہ سے زیر بحث رہی 31۔ وہ برن میں عہدے پر 2 اپریل 1953ء کو فوت ہوئے 1؛ عربی مقالہ اور ویکی ڈیٹا اس کے بجائے 1 اپریل بتاتے ہیں 42۔ 1989ء میں ہندوستانی ڈاک نے ان کا یادگاری ٹکٹ جاری کیا 1۔

    دین جیسا کہ ذرائع ثابت کرتے ہیں

    انگریزی مقالے کا متن خود انھیں مسلمان قرار دیتا ہے، شادی والے اقتباس میں جیسا کہ اوپر درج ہے 1، اور اردو مقالہ اسی بیان کو اپنی روایت میں دہراتا ہے 3۔ عربی مقالے کے خانہ اطلاعات میں مذہب کا خانہ خالی ہے اور اس کے زمرے انھیں ’ہندوستانی مسلمانوں‘ میں رکھتے ہیں 4، اور ویکی ڈیٹا ان کا مذہب صرف ’اسلام‘ بتاتا ہے 2۔ کوئی ماخذ ان کے لیے کوئی مکتب بیان نہیں کرتا؛ اس لیے عجائب گھر کا ریکارڈ ان کا مکتب نامعلوم رکھتا ہے اور شواہد جوں کے توں پیش کرتا ہے۔

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذی ادارے، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو اور ہر تبدیل شدہ واقعے کا ماخذ نام لے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Spouse of
    ارونا آصف علی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    دلهي· ارونا آصف علی

    ماخذ

    1. Asaf Ali — English Wikipedia
    2. Asaf Ali — Wikidata Q684845
    3. Asaf Ali — Urdu Wikipedia
    4. Asaf Ali — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “آصف علی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/asaf-ali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    دلهي

    A city in northern India; it was the capital of the Delhi Sultanate from the thirteenth century CE and then the Mughal capital.