امیر خسرو

أمير خسرو

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

دلهي

امیر خسرو (1253ء – اکتوبر 1325ء) سلطنت دہلی کے شاعر، موسیقار اور عالم تھے اور ہندوستان کے سب سے مشہور فارسی شاعر شمار ہوتے ہیں۔ پٹیالی میں پیدا ہوئے اور دہلی میں پروان چڑھے؛ انھوں نے اس کے آٹھ سلاطین کے دربار دیکھے، فارسی اور ہندوی میں لکھا، اور موسیقی و شاعری کی ایسی اختراعات ان سے منسوب ہیں جو جنوبی ایشیا کی ثقافت میں رچ بس گئیں، یہاں تک کہ انھیں «طوطی ہند» کہا گیا۔ 1310ء میں وہ چشتی صوفی بزرگ نظام الدین اولیا کے مرید ہوئے اور 1325ء میں دہلی میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · musician · عالم · mystic
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1200عیسوی1225عیسوی1250عیسوی1275عیسوی1300عیسوی1325عیسوی1350عیسوی1375عیسوی تقریباً
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · العصر المغولي وما بعده ہم عصر: الجعبري أبو إسحاق إبراهيم بن عمر · ابن جماعة بدر الدين محمد بن إبراهيم · الشيخ صفي الدين الأردبيلي · زینب بنت الکمال · نظام الدین اولیاء

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    امیر خسرو (1253ء – اکتوبر 1325ء)، جن کا پورا نام ابو الحسن یمین الدین خسرو تھا، سلطنت دہلی کے شاعر، موسیقار اور عالم تھے اور ہندوستان کے سب سے مشہور فارسی شاعر شمار ہوتے ہیں۔ 1 2 پٹیالی میں پیدا ہوئے اور دہلی میں پروان چڑھے؛ انھوں نے اس کے آٹھ سلاطین کے دربار دیکھے، فارسی اور ہندوی میں لکھا، اور موسیقی و شاعری کی ایسی اختراعات ان سے منسوب ہیں جو جنوبی ایشیا کی ثقافت میں رچ بس گئیں، یہاں تک کہ انھیں «طوطی ہند» کہا گیا۔ 1

    نظام الدین اولیا کی مریدی

    1310ء میں خسرو دہلی کے چشتی صوفی بزرگ نظام الدین اولیا کے مرید ہوئے؛ انگریزی مضمون انھیں بزرگ کا روحانی شاگرد کہتا ہے اور سوانح میں مریدی کا سال بھی دیتا ہے۔ 1 عربی مضمون بھی انھیں نظام الدین اولیا کا تابع و شاگرد لکھتا ہے اور اردو مضمون ان کے روحانی شاگرد ہونے کی تصریح کرتا ہے۔ 3 2 یہی مکمل مریدی، جو تین آزاد متنوں میں ان کے لیے ثابت ہے، ان کا صوفی انتماء طے کرتی ہے؛ کسی متن میں ان کے لیے کوئی فقہی مذہب نہیں بتایا گیا۔ 1 3

    وفات

    خسرو کی وفات اکتوبر 1325ء میں اپنے مرشد کے چند ماہ بعد ہوئی، اور اردو مضمون صراحتاً لکھتا ہے کہ وفات دہلی میں ہوئی۔ 2 4 اکتوبر 1325ء 725ھ میں پڑتا ہے، جس سنہ سے عربی مضمون ان کی وفات مؤرخ کرتا ہے۔ 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    نظام الدین اولیاء
    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    نظام الدین اولیاء· دلهي· افسر والا مقبرہ، دہلی· افسر والی مسجد، احاطۂ مقبرۂ ہمایوں، دہلی· بیگم پور مسجد، دہلی· عیسیٰ خان نیازی کی مسجد، دہلی· جامع مسجد، کوٹلہ فیروز شاہ (فیروز آباد)· کلاں مسجد، ترکمان دروازہ، دہلی

    ماخذ

    1. Amir Khusrau — English Wikipedia
    2. Amir Khusrow — Urdu Wikipedia
    3. Amir Khusrow — Arabic Wikipedia
    4. Amir Khusrow (Q207817)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “امیر خسرو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/amir-khusrow/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-02.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    نظام الدین اولیاء

    نظام الدین اولیاء (1238ء – 3 اپریل 1325ء) دہلی کے سلسلہ چشتیہ کے شیخ تھے، اجودھن میں بابا فرید الدین گنج شکر کے مرید و خلیفہ، دہلی کے غیاث پور میں اپنی خانقاہ قائم کی اور سلاطین کے دربار کی خدمت سے انکار کیا۔