ایک نظر میں
- کردار
- فقیہ · mystic · writer
- خطہ
- maghreb
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
sufi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
الحاج احسن بن محمد بن ابی جماعہ البعقیلی (1883 – 1949) مراکش کے علاقے سوس کے ایک فقیہ اور تیجانی صوفی عالم تھے۔ فاس میں تعلیم اور طویل سفروں کے بعد 1929 میں کازابلانکا میں مقیم ہو گئے اور وفات تک وہیں رہے؛ انہوں نے مراکش بھر میں قریب سو تیجانی خانقاہیں قائم کیں، اپنا عربی مطبع بنایا، اور تفسیر، فقہ، نحو اور تصوف پر متعدد کتابیں لکھیں۔1
وہ 1301ھ میں سوس کے قبائلی علاقے بعقیلہ کے گاؤں ایکض میں پیدا ہوئے اور اپنے علاقے کے مدرسے میں قرآن حفظ کیا۔ پھر عربی کی تعلیم کئی اساتذہ سے حاصل کی، جن میں الحاج مسعود الوفقاوی بھی تھے، اور 1318ھ/1900 میں فاس جا کر مدرسۂ صفارین میں کچھ عرصہ رہے۔ اس کے بعد اولاد کنون، قصر الکبیر اور سطات سے گزرتے ہوئے آخر 1348ھ/1929 میں کازابلانکا آ بسے، جہاں زندگی کے آخری بیس برس گزارے۔1
انہوں نے کم عمری میں ہی تصوف کی راہ اختیار کی: تزنيت کی تیجانی خانقاہ کے بانی، ان کے استاد الحاج الحسین الافرانی نے انہیں احمدیہ تیجانیہ طریقے کی اجازت دی، اور المختار السوسی کی کتاب «المعسول» میں اس اجازت کا متن محفوظ ہے۔ انہوں نے الحاج عبد اللہ الغشانی سمیت دیگر مشائخ سے بھی فیض حاصل کیا۔ درب غلف، کازابلانکا میں ان کی خانقاہ تعلیم، طباعت اور روحانی تربیت کا مرکز رہی، اور ان کی قائم کردہ خانقاہوں کی تعداد قریب سو بتائی جاتی ہے۔ ان کی صاحبزادی زینب ابو عقیل نے اپنے قلم سے لکھی سوانح میں انہیں مالکی المذہب، اشعری العقیدہ اور تیجانی المشرب قرار دیا ہے؛ عجائب گھر نے ان کا تیجانی انتماء درج کیا ہے، جس کی آزادانہ تصدیق وکی ڈیٹا بھی کرتا ہے جہاں انہیں صوفی فقیہ کہا گیا ہے، اور صاحبزادی کی مکمل عبارت ڈیٹا ریکارڈ میں محفوظ ہے۔12
اپنی کتابوں کی اشاعت کے لیے انہوں نے کازابلانکا میں عربی مطبع قائم کیا۔ ان کی مطبوعہ تصانیف میں سورۂ بقرہ کی دو جلدوں پر مشتمل تفسیر «مقاصد الأسرار والخفا» (1935)، «تبیین الأشراف» (1939)، بچوں کے لیے نحو کی کتاب «تحفة الأطفال» (1935)، «رفع الخلاف والغمة» (1934)، «تحقيق الحقائق» (1937)، «الزلال الأصفى» (1934) اور «إيضاح الأدلة بأنوار الأئمة» (1934) شامل ہیں، ان کے علاوہ عقائد، حدیث اور روحانی تربیت پر رسائل اور سوس کے اشراف کے انساب پر ایک کتاب بھی ہے۔1
ان کا انتقال کازابلانکا میں 10 شوال 1368ھ کی رات ہوا، جو 5 اگست 1949 کے مطابق ہے؛ ان کی سوانح میں کسی جگہ اسی ہجری سال کو تقریباً 1948 کے ساتھ بھی جوڑا گیا ہے اور وکی ڈیٹا 1949 دیتا ہے، یہ اختلاف ڈیٹا ریکارڈ میں واضح کر دیا گیا ہے۔ انہیں پہلے کازابلانکا کے بن مسیک قبرستان میں دفن کیا گیا، اور قریب نصف صدی بعد ان کے بیٹے کی درخواست پر ان کی میت الغفران قبرستان منتقل کر دی گئی۔12
ماخذ
- الأحسن البعقيلي — ترجمة موقع الطريقة التجانية
- Al-Ahsan al-Ba'qili — Wikidata Q124745966
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “احسن البعقیلی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahsan-al-baqili/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.