ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · military-commander
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
احمد حسین الشرع، جو 29 اکتوبر 1982 کو پیدا ہوئے، شامی سیاست دان ہیں اور 29 جنوری 2025 سے عبوری دور کے لیے شام کے صدر ہیں۔ وہ پہلے اپنے جنگی نام «ابو محمد الجولانی» سے معروف تھے۔ 1 2
انہوں نے 2012 میں جبہة النصرہ قائم کی، 2017 میں اس کی تشکیل سے هيئة تحرير الشام کی قیادت کی اور ادلب میں اس کی شہری انتظامیہ چلائی، پھر 2024 کے اواخر میں اپوزیشن کی اس کارروائی کی قیادت کی جس نے بشار الاسد کی حکومت گرا دی۔ ٹائم میگزین نے 2025 میں انہیں دنیا کی 100 سب سے بااثر شخصیات میں شامل کیا۔ 1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ ریاض، سعودی عرب میں ہضبۂ جولان کے قصبے فیق سے تعلق رکھنے والے ایک شامی سنی مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سعودی وزارتِ پیٹرولیم میں کام کرتے تھے اور والدہ جغرافیہ کی استانی تھیں۔ خاندان 1989 میں شام واپس آیا اور دمشق کے محلے المزہ میں آباد ہوا۔ الشرع نے کہا ہے کہ جولان سے ان کے دادا کے خاندان کی بے دخلی اور 2000 کی دوسری فلسطینی انتفاضہ نے ان کی سوچ پر بڑا اثر ڈالا۔ انہوں نے جامعہ دمشق میں میڈیا کی تعلیم حاصل کی، پھر 2003 میں عراق چلے گئے اور تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ 1 2
عراق، قید اور جبہة النصرہ کا قیام
وہ 2003 میں امریکہ کے عراق پر حملے سے چند ہفتے پہلے بغداد پہنچے اور القاعدہ فی العراق میں شامل ہو گئے۔ امریکی افواج نے 2005 میں انہیں گرفتار کیا اور وہ چھ برس ابو غریب اور بوکا سمیت مختلف حراستی مراکز میں رہے، یہاں تک کہ 13 مارچ 2011 کو رہا ہوئے۔ 2011 میں القاعدہ کے امیر ایمن الظواہری نے انہیں شام میں تنظیم کا مشن قائم کرنے کی ذمہ داری دی؛ انہوں نے جبہة النصرہ قائم کی جس کا اعلان جنوری 2012 میں ہوا۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے دسمبر 2012 میں جبہے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور مئی 2013 میں الشرع کو خود «عالمی دہشت گرد» کی فہرست میں شامل کیا۔ 1
داعش سے اختلاف، القاعدہ سے علیحدگی اور ادلب کی حکمرانی
اپریل 2013 میں انہوں نے ابو بکر البغدادی کی جبہة النصرہ کو داعش میں ضم کرنے کی کوشش مسترد کی اور براہِ راست الظواہری سے بیعت کی؛ دونوں گروہوں کے درمیان کھلی جنگ چھڑ گئی۔ 28 جولائی 2016 کو انہوں نے القاعدہ سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کیا، اور 28 جنوری 2017 کو جبہہ دیگر گروہوں کے ساتھ ضم ہو کر هيئة تحرير الشام بن گئی۔ امریکہ نے نام کی تبدیلی مسترد کی اور مئی 2017 میں ان کے بارے میں معلومات پر ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا۔ ادلب میں هيئة نے «حکومتِ نجات» کے نام سے شہری انتظامیہ قائم کی جو ٹیکس وصول کرتی اور خدمات فراہم کرتی تھی؛ مارچ 2024 میں ان کی حکمرانی کے خلاف وسیع احتجاج ہوا جس کے جواب میں انہوں نے سیکڑوں قیدی رہا کیے اور مقامی انتخابات کا وعدہ کیا۔ 1
اسد حکومت کا خاتمہ اور صدارت
27 نومبر 2024 کو هيئة نے بڑی کارروائی شروع کی؛ 8 دسمبر 2024 کو دمشق فتح ہوا اور بشار الاسد روس فرار ہو گئے۔ الشرع ملک کے عملی رہنما بن گئے، امریکی وفد سے ملاقات کے بعد واشنگٹن نے ایک کروڑ ڈالر کا انعام واپس لے لیا۔ 29 جنوری 2025 کو انہیں عبوری دور کے لیے صدر مقرر کیا گیا، 13 مارچ 2025 کو انہوں نے آئینی اعلامیے پر دستخط کیے جس میں پانچ سالہ عبوری دور مقرر ہوا اور اسلامی فقہ کو قانون سازی کا مرکزی ماخذ قرار دیا گیا، اور 29 مارچ 2025 کو عبوری حکومت تشکیل دی گئی۔ مئی 2025 میں ریاض میں ان کی ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہوئی، اور نومبر 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان کا نام داعش و القاعدہ پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا اور امریکہ نے بھی انہیں اپنی فہرست سے خارج کر دیا۔ 1
مواقف اور تنقید
اس حصے کو ماخذوں میں منقول مواقف اور الزامات کے بیان کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کے فیصلے کے طور پر نہیں۔ انگریزی مضمون جبہة النصرہ کے دور میں ان کی قیادت میں علوی، شیعہ اور دروز برادریوں کے خلاف جنگی جرائم کا ایک حصہ رکھتا ہے، جن میں 2015 میں قلب لوز میں 20 دروز دیہاتیوں کا قتل شامل ہے — مضمون نوٹ کرتا ہے کہ جبہے کی مرکزی قیادت نے اس حملے کی مذمت کی تھی — 2013 میں حطلہ میں 30 سے 60 شیعہ شہریوں کا قتل، اور 2016 میں الزرعہ میں 42 شہریوں کا قتل۔ ان کی صدارت کے پہلے سال ساحلی علاقے میں علویوں کے خلاف قتلِ عام اور جنوب میں دروز سے جھڑپیں ہوئیں جن میں حکومت سے وابستہ افواج شامل تھیں؛ الشرع نے وفادار جنگجوؤں سے زیادتیوں سے بچنے کی اپیل کی اور مارچ 2025 میں ساحلی واقعات کی تحقیقات کے لیے سات ججوں کی آزاد قومی کمیٹی بنائی۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ 1974 کے فکِ اشتباک معاہدے کی پابندی کا اعادہ کیا، ایران کے اثر و رسوخ کی مذمت کی، اور کہا کہ شام نے روس سے بشار الاسد کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا جسے ماسکو نے مسترد کر دیا۔ 1
ذاتی زندگی
ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم معلوم ہے؛ مضمون کے مطابق ان کی اہلیہ لطیفہ الدروبی ہیں، جن سے وہ جامعہ دمشق میں ملے، 2012 میں شادی ہوئی اور ان کے تین بچے ہیں۔ 1
حوالہ جات
- اوپر جن تعریف شدہ ماخذوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کے بعد کے تراجم اور نظرثانیوں کو واضح تازہ کاری کی تاریخوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزہ درکار ہے۔
تعلقات
- Lived in
- دمشق
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)· الجامع الأموي بدمشق· فتنة الحافظ عبد الغني بدمشق سنة 595· حصر الأفضل دمشق وعوده عنها· استيلاء العادل على دمشق· قدوم الغزالي دمشق متزهداً سنة 488· ملك الملك الأشرف مدينة دمشق
ماخذ
- Ahmed al-Sharaa — English Wikipedia
- Ahmed al-Sharaa — Arabic Wikipedia
- Ahmed al-Sharaa — Wikidata Q7934206
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “احمد الشرع”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-al-sharaa/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.