ادیب اسحاق

أديب إسحاق

–

دمشق

آرمینی نژاد سوری مصنف، صحافی اور شاعر (1856–1885)؛ دمشق کے لعازری اسکول میں تعلیم پائی، کسٹم ہاؤسز اور پھر بیروت و مصر میں صحافت سے وابستہ رہے، جمال الدین افغانی کے شاگرد بنے، پیرس میں اخبار «مصر القاہرہ» (1879) جاری کیا، اور لبنان کے گاؤں الحدث میں انتقال ہوا؛ ان کی تحریریں بعد از وفات «الدرر» میں جمع ہوئیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · شاعر
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی1940عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · ابائی قنان باولی · عبد الحميد الزهراوي · عبد الرحمن الكواكبي · عبد الرزاق البيطار

مکان میں

دمشق

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ادیب اسحاق (21 جنوری 1856 – 12 جون 1885) آرمینی نژاد سوری مصنف، صحافی اور شاعر تھے، نہضہ کی ان ذہین شخصیات میں سے ایک جن کی عمر مختصر رہی۔ انہوں نے دمشق میں لعازری پادریوں کے اسکول میں تعلیم پائی، کسٹم ہاؤسز اور پھر بیروت و مصر کی صحافت میں کام کیا، قاہرہ میں جمال الدین افغانی کے شاگرد بنے، 1879 میں پیرس سے اخبار «مصر القاہرہ» جاری کیا، اور انتیس برس کی عمر میں لبنان کے گاؤں الحدث میں انتقال ہوا؛ ان کے مضامین و اشعار بعد از وفات «الدرر» میں جمع ہوئے۔ 1 2

    زندگی

    وہ دمشق میں ایک آرمینی خاندان میں پیدا ہوئے — ان کا آرمینی نام ادیب زالماتیان تھا — اور لعازریوں کے اسکول میں داخل ہوئے جہاں عربی اور فرانسیسی پڑھی۔ بارہ برس سے پہلے ہی خاندان کی کفالت کے لیے اسکول چھوڑ کر کسٹم ہاؤس میں کام کیا، جس سے انہیں ترکی بھی آ گئی۔ پندرہ برس کی عمر میں بیروت جا کر والد کے ساتھ ڈاک خانے میں، پھر بیروت کے کسٹم ہاؤس میں کام کیا، لیکن تحریر کے شوق نے انہیں صحافت کی طرف کھینچا اور انہوں نے «التقدم» میں لکھا۔ 1876 میں مصر منتقل ہوئے اور اسکندریہ میں اپنے جیسے نئے آنے والے سلیم النقاش کے ساتھ مل کر ڈرامے لکھے اور پیش کیے؛ قاہرہ میں جمال الدین افغانی سے ملاقات ہوئی، ان سے گہرا اثر لیا اور 1877 میں ان کے لیے اخبار «مصر» جاری کیا۔ عرابی تحریک میں وہ اعلیٰ سیکریٹری کے عہدے پر رہے، 1881 میں اس کے زوال پر مصر چھوڑا، اور پیرس — جہاں وہ 1880 میں گئے تھے — سے عبد اللہ مراش کی مدد سے عربی اخبار «مصر القاہرہ» نکالا؛ وہاں وکٹر ہیوگو سمیت فرانسیسی ادیبوں سے رابطہ رہا اور وہ «نابغۂ مشرق» کہلائے۔ شریف پاشا نے انہیں قاہرہ واپس بلا کر ترجمہ و انشا کے دیوان کا ناظر اور مجلسِ نواب کا سیکریٹری مقرر کیا، پھر وہ انقلابی میدان سے الگ ہو کر «الاعتدال» میں عرابیوں کے خلاف لکھنے لگے۔ آخر میں بیروت لوٹے اور الحدث میں اپنے موسمِ گرما کے مکان میں انتقال ہوا۔ 2 1

    تصانیف اور وفات کا سال

    ان کی تصانیف میں «تراجم مصر في هذا العصر»، ناول «الباريسية الحسناء»، «غرائب الاتفاق» اور ڈراموں «انڈروماک» و «شارلمان» کے ترجمے شامل ہیں؛ ان کے مضامین و منظومات جرجی میخائیل نحاس نے 1886 میں اسکندریہ سے «الدرر» کے نام سے شائع کیے، اور دوسرا ایڈیشن ان کے بھائی عونی کی تدوین سے 1909 میں بیروت سے نکلا۔ ماخذ ان کی وفات کے سال میں اختلاف کرتے ہیں: انگریزی مضمون کی ابتدا مصطفی الخیاطی کی تحقیق کے حوالے سے 12 جون 1885 دیتی ہے اور وکی ڈیٹا بھی یہی کہتا ہے، جب کہ اسی مضمون کا معلوماتی خانہ اور زمرے 1884 دیتے ہیں اور عربی مضمون کے زمروں میں دونوں سال موجود ہیں۔ ان کے ریکارڈ میں 1885 اختیار کیا گیا ہے اور 1884 کی قراءت محفوظ ہے۔ 2 1 3

    ان کے مذہب پر نوٹ

    کوئی متن ادیب اسحاق کے لیے ذاتی طور پر کوئی مذہب نام نہیں لیتا۔ ماخذ جو دیتے ہیں وہ اصل اور تعلیم ہے: دمشق کا ایک آرمینی خاندان، اور لعازریوں کے اسکول میں بچپن — خاندانی پس منظر اور تعلیم، جن میں سے کوئی بھی وابستگی ثابت نہیں کرتا۔ درجہ بندی کے نظام آگے جاتے ہیں: عربی مضمون انہیں «مسیحی شعراء» اور «سوری مسیحی» میں رکھتا ہے، اور اردو مختصر مضمون «سوری مسیحی» اور «مسیحی شعراء» میں، لیکن درجہ بندیاں گواہیاں نہیں، اور وکی ڈیٹا کی واحد ساختی قدر — آرمینی کیتھولک کلیسا — ایسی اکیلی قدر ہے جسے میوزیم کبھی تنہا نہیں گنتا۔ یہ اس بلاک کی پہلی بار بار آنے والی صورت ہے — صرف اصول اور درجہ بندیاں — اور یہ «نامعلوم» پر ہی کھڑی ہے، جیسے سلامہ موسیٰ اور جرجی زیدان کے معاملے میں ہوا۔ دوسری طرف سے، الخیاطی کی تحقیق انہیں افغانی کا «آزاد خیال شاگرد» کہتی ہے: ایک محقق کا ان کی فکر کا وصف، جو بذاتِ خود میوزیم کے عدمِ ایمان درج کرنے کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔ اس لیے ان کا مذہب ان کے ریکارڈ میں «نامعلوم» درج ہے، دونوں قراءتیں محفوظ ہیں اور مسئلہ بانی کے فیصلے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ 2 1 4 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دمشق
    Studied under
    جمال الدين الأفغاني

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)· الجامع الأموي بدمشق· فتنة الحافظ عبد الغني بدمشق سنة 595· حصر الأفضل دمشق وعوده عنها· استيلاء العادل على دمشق· قدوم الغزالي دمشق متزهداً سنة 488· ملك الملك الأشرف مدينة دمشق

    ماخذ

    1. Adib Ishaq — Arabic Wikipedia
    2. Adib Ishaq — English Wikipedia
    3. Adib Ishaq — Wikidata Q3605297
    4. Adib Ishaq — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ادیب اسحاق”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/adib-ishaq/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الكهف بقاسيون (كهف جبريل)

    The mosque raised inside the cave of Mount Qasyun by Abu al-Faraj Muhammad ibn Abd Allah ibn al-Mu'allim beginning in 370, after a dream in which Jibril bade him build a mosque where God's name would be remembered — he called it Jibril's Cave; a broad prayer-hall floored in white marble, its columns all marble, never empty of the pious at remembrance.