عدي بن أرطاة الفزاري

عدي بن أرطاة الفزاري

720 عیسوی · 101 ھ† †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

Adi ibn Artat al-Fazari; Umar ibn Abd al-Aziz's Basra governor who meant to raise upper rooms on the dar al-imara till the caliph's letter — 'your mother lose you, son of Umm Adi — does the house that held Ziyad and his folk fail you?' — stopped him.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر الأموي
شناختیں
Wikidata
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

625عیسوی650عیسوی675عیسوی700عیسوی725عیسوی750عیسوی775عیسوی800عیسوی
العصر العباسي المبكر · العصر النبوي · عصر الخلفاء الراشدين · العصر الأموي ہم عصر: عبد الملك بن عمير · عبد الرحمن بن زياد بن أنعم · أبو حنيفة النعمان بن ثابت · عائشة بنت سعد بن أبي وقاص · الأعمش سليمان بن مهران

خلاصہ

عدی بن ارطاۃ الفزاری کو عمر بن عبدالعزیز نے بصرہ کا حاکم بنایا۔ انھوں نے امارت کے محل کے اوپر کمرے بنانے کا ارادہ کیا، تو عمر نے انھیں خط لکھ کر ملامت کی اور یاد دلایا کہ یہ محل زیاد اور ان کی اولاد کے لیے بھی کافی وسیع رہا، تو انھوں نے اس کی تکمیل روک دی۔ 1

عمر کا خط

کتاب بیان کرتی ہے کہ عمر نے انھیں لکھا کہ جو ذمی اسلام لے آئے اس سے جزیہ اٹھا دیا جائے۔ عمر کے جواب میں یہ بھی آیا کہ اسلام کو محصول وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، اور وہ چاہتے ہیں کہ سب لوگ مسلمان ہو جائیں۔ 1

عمر کی وفات کے بعد

کتاب نقل کرتی ہے کہ عمر نے انھیں لکھا: «تم نے اپنی سیاہ پگڑی اور اپنے قاری ساتھیوں کے ذریعے مجھے دھوکا دیا»۔ وہ ذکر کرتی ہے کہ عمر کی وفات کے بعد عدی نے اپنے لیے دعوائے خلافت کیا اور ان کے سیاہ جھنڈے بلند ہوئے، تو مسلمہ بن عبدالملک نے 102ھ میں انھیں قتل کر دیا۔ 2

قتل کی تاریخ میوزیم کے ڈیٹا میں ایک ہی ماخذ سے ہے، اس کے لیے ایک اضافی ماخذ درکار ہے۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Ruled over
البصرة
Participated in
أخبار دار الإمارة بالبصرة

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

أخبار دار الإمارة بالبصرة· البصرة· جامع البصرة· قصر قباذ (قصر الحجاج) بالبصرة· نزول الأساورة البصرة· إذن الحمامات بالبصرة· صياح أهل البصرة بعبد الله بن علي· اتخاذ المغيثة

ماخذ

  1. الدولة الأموية: عوامل الازدهار وتداعيات الانهيار — علي محمد الصلابي (الجزء الثاني، 2005) , p.203-204
  2. الدولة الأموية: عوامل الازدهار وتداعيات الانهيار — علي محمد الصلابي (الجزء الثاني، 2005) , p.387
  • فتوح البلدان — البلاذري (طبعة مؤسسة المعارف)
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “عدي بن أرطاة الفزاري”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/adi-ibn-artat/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-20.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

متعلقہ

أخبار دار الإمارة بالبصرة

Utba built the dar al-imara below the mosque on al-Dahna' square holding prison and diwan; Abu Musa rebuilt it in mud-brick, Ziyad moved it to the qibla wall. Al-Hajjaj, meaning to erase Ziyad's name, resolved to raze and rebuild — told it was permanence he wanted, he demolished it and left it, its clay and doors going into the surrounding houses, and Basra had no governor's palace till Sulayman's kharaj-agent Salih ibn Abd al-Rahman rebuilt it on its foundations, raised and roofed it. Adi ibn Artat's upper rooms drew Umar ibn Abd al-Aziz's letter 'your mother lose you, son of Umm Adi — does a house that held Ziyad and Ziyad's folk fail you?'; Sulayman ibn Ali topped the walls in clay then moved to the Mirbad, and under al-Rashid the palace was swallowed into the mosque — Basra's governors have no dar al-imara today.