عبد اللہ الشرقاوی

عبد الله الشرقاوي

–

القاهرة

مصری ازہری عالم (1737–1812) جو 1208ھ میں جامعہ ازہر کے شیخ بنے اور وفات تک اس منصب پر رہے۔ وہ اپنے دور میں مصر کے سب سے بڑے شافعی عالم اور مفتی تھے اور سلسلۂ خلوتیہ کے شیخ بھی تھے۔ فرانسیسی قبضے کے دوران انہوں نے قاہرہ کے دیوان کی صدارت کی اور 1805 میں محمد علی کو حکمران تسلیم کرنے والے رہنماؤں میں شامل تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · فقیہ
دور
العصر الاستعماري
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: أحمد التجاني · حمدان خوجة · نظیر اکبر آبادی · مختار الکُنتی · میر تقی میر

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sunni-shafii (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    تعارف

    عبد اللہ الشرقاوی (1737–1812)، پورا نام عبد اللہ بن حجازی بن ابراہیم الشرقاوی، مصری عالم تھے جو 1208ھ میں شیخ احمد العروسی کی وفات کے بعد جامعہ ازہر کے شیخ بنے اور وفات تک اس منصب پر رہے۔ وہ اپنے دور میں مصر کے سب سے بڑے شافعی عالم اور مفتی تھے اور سلسلۂ خلوتیہ کے شیخ بھی تھے، یوں فقہ، تصوف اور عوامی قیادت ان کی شخصیت میں جمع تھیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ شرقیہ کے قصبے بلبیس کے قریب گاؤں الطویلہ میں پیدا ہوئے، قریہ القرین میں قرآن حفظ کیا، پھر ازہر جا کر وہاں کے علما سے تعلیم حاصل کی۔ سلسلۂ خلوتیہ انہوں نے پہلے شیخ الحفنی سے اور پھر شیخ محمود الکردی سے لیا، اور فقہ شافعی، زبان اور منطق میں ایسی مہارت حاصل کی کہ مصر کے شافعیوں کا مرجع بن گئے۔ 1 3

    شیخِ ازہر

    انہوں نے 1208ھ (1793/94) میں ازہر کی مشیخت سنبھالی۔ اس سے پہلے جولائی 1795 کے بلبیس واقعے میں ان کا عوامی کردار نمایاں ہو چکا تھا، جب ٹیکسوں اور ظلم پر عوام اور مملوکوں کے درمیان کشیدگی بڑھی تو علما حرکت میں آئے۔ ان برسوں میں ازہر اور اس کے علما کی مصر کی عوامی زندگی میں جو حیثیت بنی، اس سے ان کا مقام اور بلند ہوا۔ 1 4

    فرانسیسی قبضہ

    جب 1798 میں فرانسیسی مہم نے مصر پر قبضہ کیا تو الشرقاوی شیخِ ازہر تھے۔ نپولین نے قاہرہ کے انتظام کے لیے نو مشائخ پر مشتمل ایک دیوان بنایا جس کی صدارت انہی کو دی گئی؛ انگریزی مضمون کے مطابق نپولین نے سینٹ ہیلینا کی جلاوطنی میں لکھا کہ ازہر پیرس کی سوربون کے برابر، بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔ تاہم یہی مضمون انہیں فرانسیسی قبضے کے خلاف مزاحمت کے رہنماؤں میں بھی شمار کرتا ہے — یہ دوہری تصویر اس پیچیدہ صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہے جس میں ازہر کے علما قبضے کے تحت دارالحکومت کا انتظام بھی چلا رہے تھے اور عوام کے رہنما بھی تھے۔ 2 1

    محمد علی کی بیعت اور آخری ایام

    فرانسیسیوں کے انخلا اور اس کے بعد کی بدنظمی کے بعد، الشرقاوی عمر مکرم اور دیگر عوامی رہنماؤں کے ساتھ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے 1805 میں محمد علی کو مصر کا حکمران تسلیم کیا — یہ مشہور واقعہ علما اور عوامی قیادت کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ بعد میں محمد علی سے ان کے تعلقات کشیدہ ہو گئے: کچھ عرصہ انہیں نظر بند رکھا گیا، پھر رہا کر دیا گیا، اور وہ وفات تک شیخِ ازہر رہے۔ 2 1

    وفات اور تصانیف

    الجبرتی کے بیان کے مطابق ان کا انتقال قاہرہ میں جمعرات 2 شوال 1227ھ (1812) کو ہوا، اور انہیں اسی مقبرے میں دفن کیا گیا جو انہوں نے صحرائی قبرستان میں خستہ حال وقف زمین پر اپنے بنوائے ہوئے مسجد کے پہلو میں اپنے لیے تعمیر کرایا تھا۔ ان کی تصانیف میں «التحفۃ البہیۃ فی طبقات الشافعیۃ» اور فقہ شافعی میں «شرح التحریر» پر حاشیہ شامل ہیں، اور «تحریر تنقیح اللباب» پر ان کا حاشیہ بھی ان کے سوانح نگار ان کی فقہی تصانیف میں گنتے ہیں۔ ان کے شاگردوں میں محمد الدواخلی تھے، جنہوں نے انہی سے ان کے مذہب کی فقہ حاصل کی۔ 1 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    القاهرة
    Died in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· ذہبی کا طلبِ حدیث کے سفر، تقریباً 700ھ/1300ء· مقریزی کے والد کی وفات، 779ھ/1378ء· مقریزی کی آخری اولاد کی وفات، 826ھ/1423ء· مقریزی کی قاہرہ کے محتسب کے طور پر پہلی مدت، 801ھ· مقریزی کی محتسبی کی آخری مدت، 807ھ· مصر واپسی اور تاریخ کے لیے وقف، تقریباً 820ھ/1418ء

    ماخذ

    1. Abd Allah al-Sharqawi — Arabic Wikipedia
    2. Abd Allah al-Sharqawi — English Wikipedia
    3. Abd Allah al-Sharqawi — alsufi.net biography
    4. Abd Allah al-Sharqawi — Urdu Wikipedia
    • Abd Allah al-Sharqawi — Wikidata
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد اللہ الشرقاوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abd-allah-al-sharqawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-03.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.