ایک نظر میں
- دور
- شبه الجزيرة العربية قبل الإسلام
- خطہ
- levant-iraq
- جائزہ
- مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
مسعودی بیان کرتے ہیں کہ ساپور اپنے لشکر کے ساتھ حضر کے قلعے پر اترا، جو ضیزن تنوخی کا قلعہ تھا۔ ایک مہینہ تک وہ محاصرہ کیے رہا مگر اسے فتح کرنے کا کوئی راستہ نہ ملا۔ 1
تدبیر اور قلعے میں داخلہ
مسعودی کی روایت کے مطابق ضیزن کی بیٹی النضیرہ، جو ساپور پر فریفتہ ہو چکی تھی، نے اسے پیغام بھیجا کہ وہ قلعے کے اوپر والے دریائے ثرثار میں بھوسا بکھیر دے اور پھر اس کے پیچھے چل کر دیکھے کہ وہ کہاں سے اندر جاتا ہے۔ ساپور نے ایسا ہی کیا اور اسی راستے سے اپنے آدمی اندر داخل کیے۔ 1
قلعے والوں کو کچھ خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ ساپور کے آدمی ان کے درمیان پہنچ گئے۔ ضیزن اور اس کے ساتھی قتل کر دیے گئے، اور ساپور نے قلعہ گرانے کا حکم دیا۔ 1
پس منظر
مسعودی بیان کرتے ہیں کہ ضیزن کے پاس بہت سے لشکر تھے، وہ رومیوں کے ساتھ صلح رکھتا تھا، اور اس کے آدمی عراق اور سواد پر چھاپے مارتے تھے۔ 1
اس واقعے میں ساپور بن اردشیر اور ضیزن بن معاویہ کا ذکر آتا ہے، اور اس کا مقام الحضر ہے۔ تاریخ: اس کے لیے کسی اضافی ماخذ کی ضرورت ہے۔
تعلقات
- Had participant
- سابور بن أزدشير الوزير· الضيزن بن معاوية التنوخي
- Occurred at
- الحضر
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
دار العلم ببغداد (دار العلم السابورية)· وقف دار العلم بالكرخ· هزيمة بلنجر (32هـ)· غزوة خيبر· وقعة سمورة (٣٢٧هـ)· غزوة الأحزاب (الخندق)· فتح مكة (الفتح الأعظم)· غزوة ذات الصواري (31هـ)
ماخذ
- مروج الذهب — المسعودي , p. 552-554
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “نزول سابور الجنود على الحضر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/event/siege-of-hadra/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-19.