تأسيس مدينة السلام بغداد

تأسيس مدينة السلام بغداد

بغداد

In al-Baladhuri: Baghdad was ancient, and al-Mansur garrisoned it, beginning his city in year 145; when news of Muhammad and Ibrahim ibn Abdallah's rising reached him he returned to Kufa, then moved the treasury houses, coffers and diwans from Kufa to Baghdad in 146, naming it Madinat al-Salam; he finished the city wall and all its works, and the old Baghdad wall, in 147. He bought the city's ground from village-owners of Baduraya, Qatrabull, Nahr Buq and Nahr Bin, granted it in iqta' to his family, commanders, troops, companions and secretaries, made the markets' gathering at al-Karkh and ordered the merchants to build shops, obliging them their rents; he built Madinat al-Salam's two mosques and the new pontoon on al-Sarat, and built al-Rusafa for al-Mahdi on the east side — called Askar al-Mahdi from his camping there bound for Rayy — occupied on return in 151; earlier he had ordered Qasr al-Waddah built, named for an Anbar man who financed it, and Qasr al-Mahdi by Bab al-Karkh.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر العباسي المبكر
خطہ
levant-iraq
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

مکان میں

بغداد

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

پڑھنے کی سطحاسے بچوں کے حصے میں پڑھیں

خلیفہ ابو جعفر المنصور نے دریائے دجلہ کے کنارے گول شہر بغداد بسایا، اور اسے علم اور امن کا ایک آباد مرکز بنایا۔

عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور نے 145 ہجری میں بغداد کی بنیاد رکھی اور اسے 'مدینۃ السلام' کا نام دیا۔ معماروں نے اسے ایک شاندار دائرے کی شکل میں ڈیزائن کیا جس کے گرد فصیلیں اور دروازے تھے۔ جلد ہی یہ خلافت کا عظیم دار الحکومت، تجارتی سنگم اور کتب خانوں اور علماء کا گہوارہ بن گیا۔

کہانی گو (10–12) مہم جوؤں کا متن پڑھتے ہیں، پھر طالبِ علم کے متن کی طرف بڑھتے ہیں۔

145 ہجری (762 عیسوی) میں دوسرے عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے ہاتھوں دریائے دجلہ کے کنارے 'مدینۃ السلام' (بغداد) کی بنیاد۔ یہ شہر اپنے منفرد گول نقشے، دوہری فصیلوں اور چار بڑے تاریخی دروازوں کی وجہ سے مشہور ہوا، جس کے مرکز میں دار الخلافہ اور جامع مسجد تھی۔ بغداد تیزی سے اسلامی دنیا کا سب سے بڑا دار الحکومت اور علم، تجارت اور فنون کا مرکز بن گیا جہاں بیت الحکمہ اور عظیم کتب خانے قائم ہوئے۔

خلاصہ

بلاذری بیان کرتے ہیں کہ بغداد پہلے سے موجود تھا، جسے منصور نے شہر کی شکل دی اور سنہ 145 ہجری میں ایک نیا شہر بسانا شروع کیا، جس کا نام انھوں نے مدینۃ السلام رکھا۔ 1

تعمیر

جب انھیں محمد اور ابراہیم، جو عبداللہ بن حسن کے بیٹے تھے، کے خروج کی خبر ملی تو وہ کوفہ لوٹ آئے۔ پھر سنہ 146 ہجری میں انھوں نے بیت المال، خزانے اور دفاتر کوفہ سے بغداد منتقل کر دیے۔ سنہ 147 ہجری میں انھوں نے شہر کی فصیل اور قدیم بغداد کی دیوار مکمل کی۔ 1

انھوں نے شہر کی زمین بادوریا اور قطربل اور نہرِ بوق اور نہرِ بین کے قریوں کے مالکان سے خریدی، اور اپنے اہلِ بیت، سرداروں، فوجیوں اور کاتبوں میں تقسیم کر دی۔ بازاروں کا مرکز کرخ میں بنایا، دو مسجدیں بنوائیں، اور صراۃ پر نیا پل تعمیر کروایا۔ 1

الرصافہ

مشرقی جانب انھوں نے مہدی کے لیے الرصافہ بنوایا، جسے مہدی کا عسکر کہا جاتا تھا۔ مہدی سنہ 151 ہجری میں ری سے واپسی پر یہاں ٹھہرے۔ 1

سیوطی کی روایت

سیوطی کے ہاں ہے کہ منصور نے بغداد کی تعمیر چالیس ہجری میں شروع کی اور انتالیس ہجری میں مکمل کی، اور یہ بات پہلے بیان کی گئی بات کے خلاف ہے۔ 2

آپ کا انتخاب صرف اسی براؤزر میں محفوظ رہتا ہے۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Occurred at
بغداد
Had participant
ابو جعفر المنصور· محمد المهدي
Basis for
الإقطاع

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

أمان أهل ضمالو ونقلهم إلى بغداد· خلع عيسى بن موسى من ولاية العهد· بناء الرافقة· إقامة البريد من الحجاز إلى العراق· محمد المهدي· ابو جعفر المنصور· المدرسة النظامية ببغداد· بيت الحكمة (خزانة الحكمة)

ماخذ

  1. فتوح البلدان — البلاذري (طبعة مؤسسة المعارف) , p.414
  2. تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , p.424-425
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “تأسيس مدينة السلام بغداد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/event/founding-of-baghdad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

زمانہ

ادوار، زمانی خاکے، تاریخ میں یہ دن، اسلامی دنیا کا کوئی بھی سال۔
متعلقہ

أمان أهل ضمالو ونقلهم إلى بغداد

In al-Baladhuri: al-Mahdi sent his son Harun al-Rashid raiding in year 163 and he besieged the people of Damalu — which common speech calls Samalu — and they asked his aman, ten householders among them the qummis, which he granted on the condition that they not be separated, so they were settled in Baghdad at the Shammasiyya gate and named their quarter Samalu, which it is still known as; others say they came down on al-Mahdi's ruling — he spared them, gathered them at that spot and ordered it named Samalu; al-Rashid had those remaining in the fortress cried and sold, and an Abyssinian who used to curse al-Rashid and the Muslims was taken and crucified on one of its towers.