تسمیہ (نام رکھنا اور نام کے احکام)

التسمية

Tasmiya in the language comes from height or from a mark. The jurists use it in four senses: saying «in the name of God», giving a proper name to a child or to anything else, fixing the consideration in contracts, and identifying by name as against leaving a thing vague. 1 2 The father has the better right to name a child, and if the parents differ the father's choice is preferred. 3 The schools differ on the time: the Malikis hold that a child is named on the seventh day after the aqiqa sacrifice, and a child whose guardian cannot afford the aqiqa may be named at any time; the Shafi'is recommend the seventh day; the Hanbalis report two views. 3 4 For a stillborn child, Abu Hanifa's view is that he is not named, the Malikis agree, the Shafi'is say his naming is not to be omitted, and the Hanbalis say he may be given a name fit for either sex. 5 A child who dies after birth and before he is named is named. 6 Names built on the divine names are recommended, and the most beloved to God are Abdullah and Abd al-Rahman. 6 7 Naming after prophets is allowed according to most jurists. Names that people think ill-omened, such as Rabah, Yasar, Najah and Aflah, are disliked, and names that people shrink from, such as Harb and Murra, are disliked too. The names of God that belong to Him alone are forbidden, and so is every name built on a servitude to anything other than God, such as Abd al-Uzza or Abd al-Ka'ba. 8 9 10 11 Changing a name is allowed and changing an ugly name to a good one is recommended. 12 Naming tools, mounts and garments, and naming stars after Arabic words, is permitted; renaming a forbidden drink to escape its ruling does not lift the prohibition. 13 14 2

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

family-marriage-kinshipethics-and-characterhalal-and-haram

خلاصہ

فقہاء کے نزدیک تسمیہ کا لفظ «بسم اللہ» کہنے، بچے کا نام رکھنے، عقد میں عوض مقرر کرنے، اور ابہام کے مقابلے میں نام سے تعیین کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ 1 2 بچے کا نام رکھنے کا باپ کو زیادہ حق ہے۔ 3

عمومی حکم

فقہاء کا اختلاف ہے کہ بچے کا نام کب رکھا جائے: مالکیہ ساتویں دن عقیقہ کے بعد کہتے ہیں، شافعیہ اسی دن کو مستحب کہتے ہیں، اور حنابلہ کی دو روایات ہیں۔ 3 4 اکثر فقہاء کے نزدیک انبیاء کے ناموں پر نام رکھنا جائز ہے، اور عبد اللہ اور عبد الرحمن کو مستحب کہا گیا ہے۔ بدشگونی اور برے ناموں کو ناپسند کیا گیا، جبکہ اللہ کے خاص ناموں اور غیر اللہ کی عبودیت پر مبنی ناموں کو حرام کہا گیا۔ 6 8 10 11

مواطنِ بحث

تسمیہ کے احکام ذبیحہ، عقیقہ اور نکاح کے ابواب میں آتے ہیں، اور عوض مقرر کرنے کا مفہوم اجارہ اور مہر کے ابواب میں۔ 1 2

شیخ عمر عبدالکافی کے نزدیک اچھا نام

وہ کہتے ہیں کہ نبی نے بہت سے صحابہ کے برے معنی والے نام بدل کر اچھے نام رکھے، اور باپ کو چاہیے کہ بیٹے کے لیے اچھا نام منتخب کرے۔ 15 16 وہ حزن نام کے ایک شخص کا قصہ بیان کرتے ہیں جس نے وہ نام بدلنے سے انکار کیا جو اس کے باپ نے رکھا تھا، اور کہتے ہیں کہ اس کے بعد غم اس کے گھر سے نہ نکلا (needs_source: نام اور تفصیلات تسجیل میں واضح نہیں)۔ 17 18 وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن آدمی کو اس کے نام اور اس کے باپ کے نام سے پکارا جائے گا۔ 19

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

خوشی اور مسرت (الفرح والسرور)· عنت (گناہ کا خوف)· الشَّهْوة· الشَّكّ· غضِّ بصر (نگاہ نیچی رکھنا)· هَدِيَّة· هَجْر· هِبَة

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5098
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5112
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5099
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5100
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5101
  6. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5102
  7. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5103
  8. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5104
  9. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5105
  10. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5106
  11. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5107
  12. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5108
  13. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5109
  14. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5111
  15. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Hoquq، قسط 5, 00:04:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  16. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Hoquq، قسط 5, 00:04:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  17. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Hoquq، قسط 5, 00:05:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  18. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Hoquq، قسط 5, 00:05:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  19. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Hoquq، قسط 5, 00:06:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “تسمیہ (نام رکھنا اور نام کے احکام)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/tasmiya-naming/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
متعلقہ

خوشی اور مسرت (الفرح والسرور)

شیخ عمر عبدالکافی خوشی اور مسرت کو بیان کرتے ہیں: وہ مسرت جو غم سے خالی ہو، اور وہ مذموم فرح جو فخر اور اترانے سے جڑا ہو، ان کے نزدیک ایمان خوشی کا سب سے بڑا سبب ہے، اور خوشی تقوی اور رضا سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ سفر یا مال سے، اور چہرے کی بشاشت نبوی اخلاق ہے۔