السِّنّ

السِّنّ

In the lexicon sinn is a single tooth, a piece of bone set in the jaw, and the sinn of a thing is any toothed, pointed part of it. 1 The jurists agree that retaliation is due for a deliberately extracted tooth where equal matching is possible, and that the diya of each tooth is five camels. 1 2 They differ on breaking a tooth, on extracting the tooth of one who has not yet shed his milk teeth, on the timing of retaliation, and on a tooth that grows back after extraction. 3 4 Most jurists allow a man to fit a gold or silver tooth, and filing the teeth apart for beauty is forbidden. 2 5

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

health-body-deathethics-and-character

تعریف

سن لغت میں دانت کو کہتے ہیں، جو جبڑے میں اگنے والی ہڈی کا ٹکڑا ہے؛ کسی چیز کا سن اس کا دندانے دار حصہ ہوتا ہے۔ 1

دانت توڑنے اور نکالنے پر قصاص

عمداً دانت نکالنے پر قصاص واجب ہونے پر فقہاء کا اتفاق ہے، کیونکہ اس میں مماثلت ممکن ہے۔ 1 صحیح دانت کا بدلہ صحیح دانت سے لیا جائے؛ اگر عیب مجنی علیہ کے دانت میں ہو تو قصاص نہیں، بلکہ ارش واجب ہے۔ 3 جمہور کے نزدیک جانی کا دانت بھی نکالا جا سکتا ہے۔ حنفیہ و حنابلہ کے نزدیک دانت توڑنے پر قصاص ہے جو رگڑ کر لیا جائے؛ شافعیہ کے نزدیک توڑنے میں قصاص نہیں۔ 3 6

بغیر نکلے دانت

فقہاء کا اتفاق ہے کہ قصاص صرف اس دانت کا لیا جائے جو دودھ کے دانت گرنے کے بعد نکلا ہو۔ بچے کا دانت نکالنے پر فوری ضمان نہیں، کیونکہ اکثر دانت دوبارہ نکل آتے ہیں۔ 6 اگر نیا دانت صحیح نکلے تو کچھ واجب نہیں، البتہ ابو یوسف کے نزدیک درد کی حکومت اور طبیب کی اجرت ہے۔ عیب دار نکلے تو تناسب سے ضمان ہے۔ 6 4 نہ نکلے اور امید ختم ہو جائے تو مجنی علیہ کو قصاص یا دیت کا اختیار ہے؛ نابالغ کا قصاص بلوغ تک مؤخر ہوتا ہے۔ 4

رجوع اور وقت

جمہور کے نزدیک جس کا دودھ کا دانت گر چکا ہو اس کا دانت نکالنے پر فوری قصاص ہے۔ بعض حنفیہ، شافعیہ اور قاضی حنابلہ کے نزدیک اہل خبرہ سے پوچھا جائے۔ 4 قصاص کے بعد جانی کا دانت نکل آئے تو جمہور کے نزدیک نہ دوبارہ قلع ہوگا نہ ارش واپس ملے گا؛ حنابلہ اور بعض مالکیہ و شافعیہ کے نزدیک جانی ادا کیا گیا ارش واپس لے سکتا ہے۔ 7 8

دیت

فقہاء کا اتفاق ہے کہ ہر دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے، خواہ آگے کا ہو یا پیچھے کا، عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے خط کی بنا پر۔ 2 5

سونے چاندی کے دانت اور تفلیج

جمہور کے نزدیک مرد کے لیے سونے یا چاندی کا دانت لگوانا جائز ہے، ضرورت کے وقت؛ ابو حنیفہ کے نزدیک سونا منع ہے۔ عورت کے لیے بھی جائز ہے، مگر زینت کے لیے دانتوں میں سونا یا چاندی لگانا حرام ہے۔ 2 زینت کے لیے دانتوں کو ریت کر فاصلہ پیدا کرنا (التفلیج) حرام ہے، کیونکہ اس میں خلقتِ الٰہی میں تبدیلی ہے؛ علاج یا عیب کی صورت میں جائز ہے۔ 5

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

غم اور فکر (الحزن)· عقل (عقل اور اہلیت)· هَذَيان· عیادت (مریض کی تیمار داری)· الشَّارِب· نشہ آور ادویات (تخدیر)· نِياحة· مرثیہ

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.9840
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.9846
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.9841
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.9843
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.9847
  6. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.9842
  7. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.9844
  8. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.9845
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “السِّنّ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/sinn/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

غم اور فکر (الحزن)

شیخ عمر عبدالکافی غم کو گزری ہوئی بات پر حزن اور آنے والی بات کے اندیشے سے الگ کرتے ہیں؛ ان کے بیان کے مطابق بغیر علاج کے غم کمد، بث، سینے کی تنگی اور کرب تک پہنچ سکتا ہے، اور وہ دعا، توکل اور اللہ کی محبت کو اس کا علاج بتاتے ہیں۔