اللہ کو قرض حسن

القرض الحسن لله

شعراوی کے نزدیک اللہ کی راہ میں خرچ کو قرض اس لیے کہا گیا کہ دینے والا مال اس امید پر دیتا ہے کہ اسے زیادہ کر کے واپس پائے گا۔ قرض حسن حلال مال سے ہوتا ہے، اور وہ نقل کرتے ہیں کہ اس کا ثواب صدقے سے بڑھ سکتا ہے کیونکہ نفس اس سے جڑا رہتا ہے 1 2۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

worship-and-the-pillars

خلاصہ

البقرہ 245 پر شعراوی کہتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں خرچ اللہ کو قرض دینا ہے۔ ان کے نزدیک قرض حسن حلال مال سے ہوتا ہے، اور اس کا اجر اللہ کے پیمانے سے بڑھایا جاتا ہے، ہمارے پیمانے سے نہیں 1 2۔

قرض کیوں کہا گیا

شعراوی کے مطابق قرض کا لفظ لغت میں دانت سے کسی چیز کو کاٹنے کے معنی میں ہے۔ اللہ نے یہ لفظ اس لیے رکھا کہ وہ جانتا ہے مال نفس سے جدا کرنا مشکل ہے۔ دینے والا اس امید پر مال دیتا ہے کہ واپس آئے گا، اور اللہ کئی گنا لوٹانے کا ذمہ لیتا ہے 1۔

کسے قرض دیا جاتا ہے

شعراوی کہتے ہیں کہ محتاج کو دینا گویا اللہ کو قرض دینا ہے، کیونکہ اللہ ہی ہر بندے کو وجود میں لاتا اور اس کا رزق کا ذمہ لیتا ہے۔ اور راہ خدا میں خرچ براہ راست اللہ کو ہے، کسی متعین شخص کو نہیں بلکہ عمومی مقصد کو 1۔

قرض حسن اور صدقہ

وہ کہتے ہیں کہ قرض حسن حلال مال سے ہوتا ہے، اور حرام کمائی کے صدقے والی عورت کے بارے میں بات کرتے ہیں 2۔ وہ ایک رائے نقل کرتے ہیں کہ قرض کا اجر صدقے سے بڑا ہے، کیونکہ صدقہ ایک بار دیا جاتا ہے، جبکہ قرض سے نفس جڑا رہتا ہے۔ وہ اس رائے کے قائل کا نام نہیں لیتے 2۔

رزق میں سے خرچ

البقرہ 254 پر وہ کہتے ہیں کہ انسان اللہ کے رزق میں سے خرچ کرتا ہے، کیونکہ عقل، اعضاء اور مادہ سب اللہ کے ہیں، اور خود انسان بھی محتاج ہو سکتا ہے 3۔ وہ سامان اور قیمت میں فرق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سونا بھوکے کا پیٹ نہیں بھرتا 4۔ پھر کہتے ہیں کہ قیامت کے دن نہ خرید و فروخت ہوگی، نہ گہری دوستی، نہ شفاعت مگر اللہ کی اجازت سے، اس لیے خرچ اس دن سے پہلے کرنا چاہیے 5۔

ابھی تک جانچ نہیں ہوئی

یہ شعراوی کی قراءت ہے۔ قرض حسن پر کلاسیکی فقہی اور تفسیری بحث، علمی رائے اور غیر سنی رائے کا موازنہ نہیں ہوا، اس لیے ان میں سے کسی کی طرف کچھ منسوب نہیں کیا گیا۔

اللہ کو قرض دینا اور مال بطور عاریت

شیخ اللہ کو قرضِ حسن دینے کے بارے میں ایک آیت کا حوالہ دیتے ہیں، اور ایک حدیث کا ذکر کرتے ہیں جس میں ایک فرشتہ ہر روز دینے والے کے لیے بدلے اور روکنے والے کے لیے نقصان کی دعا کرتا ہے۔ 6 شیخ کہتے ہیں کہ اہلِ علم نے دنیا کو اس قرض سے تشبیہ دی ہے جسے لوٹانا ہے، جیسے عاریتاً لی ہوئی کتاب، اور یہ کہ اللہ ہمیں عمریں، مال اور صحت عاریتاً دیتا ہے۔ 7 وہ کہتے ہیں کہ اللہ انسان کی صحت اور مال کا عارضی طور پر مالک ہے، اور جو شخص اللہ کی ملکیت پر سچا ایمان رکھتا ہے وہ یہ بات کہتا ہے۔ 8 وہ کہتے ہیں کہ مال عاریت ہے جو لوٹایا جاتا ہے، وہ لوگوں کے درمیان گردش کرتا ہے، اور جو کسی شخص کی عزت صرف اس کے مال کی وجہ سے کرتا ہے وہ دراصل اس کی عزت نہیں کرتا۔ 9

شیخ کی رائے: اللہ سے خرید و فروخت

وہ ایک آیت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں بیان ہوا ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور مال جنت کے بدلے خرید لیے، اور اسے ملکیت کا ایک سنجیدہ سوال قرار دیتے ہیں۔ 10 وہ کہتے ہیں کہ خرید و فروخت میں دو فریق ہوتے ہیں، اور سوال کرتے ہیں کہ اللہ اپنی دی ہوئی چیز کیسے خرید سکتا ہے، اور ان کی رائے ہے کہ اس کی وضاحت ضروری ہے۔ 11

ابو الدحداح

شیخ قرضِ حسن سے متعلق آیت نازل ہونے پر ابو الدحداح کا جواب بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنا باغ صدقہ کر دیا اور اپنے اہل و عیال کو وہاں سے منتقل کر دیا (needs_source: قصے کا بیان ریکارڈنگ میں ماخوذ نہیں)۔ 12

ماہانہ رقم

شیخ ایک ایسے عزم کا ذکر کرتے ہیں جس میں ہر ماہ ایک رقم رشتہ داروں اور قرضوں کے لیے الگ رکھی جائے، چھوٹی سہی مگر مسلسل۔ 13 وہ مثال دیتے ہیں کہ دو ہزار کی تنخواہ میں سے ہر ماہ سو الگ کیے جائیں، اور کہتے ہیں کہ یہ سچا عزم ہے (needs_source: مثال کے اعداد ریکارڈنگ میں ماخوذ نہیں)۔ 14

اللہ کے ساتھ تجارت اور قرض کے اصول

وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ تجارت کا اصول اس سے محبت ہے، پھر نبی سے محبت، پھر اس کے ثواب کا انتظار۔ 15

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

حكم تارك الصلاة· أداء· اذان (نماز کی اطلاع: حکم، الفاظ، شرائط، سنتیں اور مؤذن کی صفات)· ہڈی (عظم)· خواہشات کی زینت اور دنیا کا متاع· اہل صفہ· الأرض مسجداً وطهوراً· الإنفاق في سبيل الله

ماخذ

  1. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1040
  2. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1041
  3. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1083
  4. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1084
  5. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1085
  6. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 16, 00:29:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  7. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 12, 00:07:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  8. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 12, 00:12:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  9. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 17, 00:13:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  10. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 12, 00:13:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  11. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 12, 00:13:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  12. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 12, 00:15:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  13. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 20, 00:25:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  14. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 20, 00:25:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  15. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 12, 00:37:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “اللہ کو قرض حسن”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/qard-hasan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

حكم تارك الصلاة

Al-Sallabi quotes Ali: whoever does not pray is an unbeliever. He then reports from al-Nawawi the dispute over one who neglects prayer while believing it obligatory: the majority (Malik, al-Shafi'i) hold him a sinner to be asked to repent, others hold him an unbeliever, a view ascribed to Ali; Abu Hanifa and the Kufans hold him not an unbeliever but to be disciplined.