خیار التعیین

خيار التعيين

خیار التعیین: لغت میں جماعت میں سے کسی کو خاص کرنا؛ حنفیہ کے نزدیک دو یا تین چیزوں میں سے ایک خریدنا جس میں خریدار اپنی پسند متعین کرے؛ اصطلاحاً عاقد کا وہ حق کہ جن چیزوں پر مشترک عقد ہوا ان میں سے ایک کو مقررہ مدت میں متعین کرے۔ 1 خیار التمییز بھی کہا جاتا ہے؛ مالکیہ اس عقد کو بیع الاختیار کہتے ہیں۔ 2 خیارِ شرط سے مختلف، کیونکہ شرط ایک پر معلق ہوتی ہے اور تعیین غیر معین متعدد پر؛ اور اسلام لانے والے کا چار سے زائد بیویوں میں سے انتخاب بھی الگ ہے؛ قیمت میں دو مدتوں یا دو قیمتوں پر بیع جو خریدار چنے ممنوع، جب تک مجلس میں تعیین کر کے جدا نہ ہوں۔ 23 حکم: حنفیہ، مالکیہ اور بعض حنابلہ کے نزدیک جائز؛ مالکیہ بیع الاختیار کو لازم کہتے ہیں اور خیار صرف تعیین میں ہوتا ہے؛ شافعیہ اور جمہور حنابلہ اسے غرر اور ثنیا کی ممانعت کی بنا پر منع کرتے ہیں۔ 3 شرائط: عقد کے اصل حصے میں تعیین کا ذکر، مدت معلوم، تین سے زیادہ چیزیں نہ ہوں، ایک کا چنا جانا، حنفیہ کے مشہور قول میں خیار شرط سے متصل ہونا؛ یہ خریدار یا بائع کا ہو سکتا ہے، دونوں کا نہیں۔ 344556 اثر: ملکیت کی منتقلی کو اس وقت تک روکتا ہے جب تک تعیین نہ ہو؛ ایک ہلاک ہو تو دوسرا امانت بن جاتا ہے؛ مدت گزر جائے اور انتخاب نہ ہو تو مالکیہ ہر ایک کا نصف لازم کرتے ہیں؛ ہلاکت کی ذمہ داری کی تفصیل۔ 677 مدت: حنفیہ کے راجح قول کے مطابق مقرر ہونا ضروری اگر خیارِ شرط ساتھ نہ ہو؛ خیارِ شرط کے ختم ہونے کے اسباب سے ختم ہوتا ہے؛ موت پر وارث کو منتقل ہوتا ہے جو تعیین کرے گا، اور قیمت ترکے سے ادا ہوگی۔ 8

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر العباسي المبكر
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

law-and-courts

خلاصہ

خیار التعیین: لغت میں جماعت میں سے کسی کو خاص کرنا؛ حنفیہ کے نزدیک دو یا تین چیزوں میں سے ایک خریدنا جس میں خریدار اپنی پسند متعین کرے؛ اصطلاحاً عاقد کا وہ حق کہ جن چیزوں پر مشترک عقد ہوا ان میں سے ایک کو مقررہ مدت میں متعین کرے۔ 1 خیار التمییز بھی کہا جاتا ہے؛ مالکیہ اس عقد کو بیع الاختیار کہتے ہیں۔ 2 خیارِ شرط سے مختلف، کیونکہ شرط ایک پر معلق ہوتی ہے اور تعیین غیر معین متعدد پر؛ اور اسلام لانے والے کا چار سے زائد بیویوں میں سے انتخاب بھی الگ ہے؛ قیمت میں دو مدتوں یا دو قیمتوں پر بیع جو خریدار چنے ممنوع، جب تک مجلس میں تعیین کر کے جدا نہ ہوں۔ 23 حکم: حنفیہ، مالکیہ اور بعض حنابلہ کے نزدیک جائز؛ مالکیہ بیع الاختیار کو لازم کہتے ہیں اور خیار صرف تعیین میں ہوتا ہے؛ شافعیہ اور جمہور حنابلہ اسے غرر اور ثنیا کی ممانعت کی بنا پر منع کرتے ہیں۔ 3 شرائط: عقد کے اصل حصے میں تعیین کا ذکر، مدت معلوم، تین سے زیادہ چیزیں نہ ہوں، ایک کا چنا جانا، حنفیہ کے مشہور قول میں خیار شرط سے متصل ہونا؛ یہ خریدار یا بائع کا ہو سکتا ہے، دونوں کا نہیں۔ 344556 اثر: ملکیت کی منتقلی کو اس وقت تک روکتا ہے جب تک تعیین نہ ہو؛ ایک ہلاک ہو تو دوسرا امانت بن جاتا ہے؛ مدت گزر جائے اور انتخاب نہ ہو تو مالکیہ ہر ایک کا نصف لازم کرتے ہیں؛ ہلاکت کی ذمہ داری کی تفصیل۔ 677 مدت: حنفیہ کے راجح قول کے مطابق مقرر ہونا ضروری اگر خیارِ شرط ساتھ نہ ہو؛ خیارِ شرط کے ختم ہونے کے اسباب سے ختم ہوتا ہے؛ موت پر وارث کو منتقل ہوتا ہے جو تعیین کرے گا، اور قیمت ترکے سے ادا ہوگی۔ 8

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

الأهلية· الديمقراطية والشريعة — التوافق والتعارض· الفتوى على الفضائيات — نفعها وضررها· العلمانية والإسلام — صدام أم وئام· رجم· عدت کے دوران اشارے سے نکاح کی بات· الأمان· الأمانة

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7895
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7896
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7897
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7898
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7899
  6. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7900
  7. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7901
  8. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7902
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “خیار التعیین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/khiyar-al-tayin-fiqh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

الأهلية

Ahliyya is lexically suitability, and it is of two kinds: capacity to have rights and duties, the capacity of liability; and capacity to act, that is to perform acts recognised by the law. Its bearer passes through the stages of the foetus, childhood, discernment, puberty and maturity. Liability is complete from birth and incomplete for the foetus; the capacity to act is partial at discernment and full with puberty and reason. It is affected by heavenly impediments such as madness, imbecility, sleep, fainting, illness, slavery, menstruation, childbirth and death, and by acquired ones such as ignorance, drunkenness, jest, folly, travel, error and coercion.